قربانی کے متفرق مسائل

    قربانی کے احکام و مسائل

    قربانی کی تعریف

    مخصوص جانور کو مخصوص ایام میں عبادت کی نیت سے ذبح کرنا۔جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اسکو ذبیحہ یا اضحیہ یا قربانی کہتے ہیں۔

    قربانی کے واجب ہونے کی شرائط

    قربانی واجب ہونے کی چند شرائط ہیں :

    1: مسلمان ہونا۔

    2:عاقل ہونا۔

    3: بالغ ہونا۔

    4:صاحب نصاب ہونا۔

    5: مقیم ہونا۔

    6: آزاد ہونا۔

    صاحب نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اتنا مال ہوجو زکوۃ کے نصاب کو پہنچ جائے(اور زکوۃ کا نصاب سونے کے حساب سے ساڑھے سات تولہ سونا، چاندی کے حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم ہے، یا مال تجارت ہے ،جس کی مقدار چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے )اور یہ مال اسکی حاجت اصلیہ (ضروریاتِ زندگی مثلا رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان، سواری بائک وغیرہ) سے زائد ہو۔ اور اس پر اتنا قرض نہ ہو کہ اگر مال سے قرض نکالیں تو نصاب باقی نہ رہے۔قربانی اور زکوۃ کے نصاب میں فرق یہ ہے کہ قربانی کے واجب ہونے کے لئے مال پر ایک سال مکمل ہونا شرط نہیں ہے ، بلکہ ایام قربانی میں مالک نصاب ہونا شرط ہے۔جبکہ زکوۃ میں سال مکمل ہونا شرط ہے۔

    قربانی کے فضائل

    احادیث مبارکہ میں قربانی کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں:

    1:چناچہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ عفیفہ سے روایت ہے:عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنْ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنْ الْأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا۔ ترجمہ:ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنےفرمایا:قربانی کےدن اللہ کےنزدیک آدمی کاسب سےمحبوب عمل خون بہاناہے،قیامت کےدن قربانی کےجانوراپنےسینگوں،بالوں اورکھروں کےساتھ آئیں گی قربانی کاخون زمین پرگرنےسے پہلےقبولیت کادرجہ حاصل کرلیتاہے،اس لیےخوش دلی کےساتھ قربانی کرو۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر 1493)

    2:عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی یوم اضحیٰ: ما عمل آدمی فی ہذا الیوم افضل من دم یہراق إلا أن یکون رحماً توصل۔ترجمہ:حضرت اِبن عباس رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نےعیدالاضحی کےدِن ارشاد فرمایا:آج کے دن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادہ افضل عمل نہیں کیا، ہاں! اگر کسی رشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک اس سے بڑھ کرہوتوہو۔(المعجم الکبیر للطرانی:حدیث نمبر:10948)

    3: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا يُغْفَرُ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبُكَ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ خَاصَّةً أَوْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «بَلْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» ۔ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کھڑی ہوجاؤ اور اپنی قربانی کے جانور کے پاس جاؤ کیونکہ اسکے خون کا پہلا قطرہ گرنے سے پہلےاللہ تعالٰی تمہارے سابقہ تمام گناہ معاف فرمادے گا ۔ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ کیا یہ فضیلت خاص ہم اہل بیت کے لئے ہے یا تمام مسلمانوں کے لئے ؟آپ نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تمامسلمانوں کے لئے ہے۔(المستدرک علی الصحیین حدیث نمبر 7525)

    وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے کا وبال

    وسعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے ایسا شخص گناہ گار ہے، چناچہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا۔ترجمہ:رسول اللہﷺنےفرمایا:جسکےپاس(قربانی کرنےکی)گنجائش ہواوروہ قربانی نہ کرےتواسےچاہیےکہ ہماری عیدگاہ کےقریب بھی نہ آئے۔(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 3123)

    قربانی کے جانور

    قربانی کے جانور تین طرح کے ہیں۔1:اونٹ، 2:گائے،3:بکری۔ہر قسم میں اسکی تمام انواع داخل ہیں ۔ لہذا بکری میں نر، مادہ، خصی، غیرخصی، دنبہ،بھیڑ،مینڈھا وغیرہ سب داخل ہیں۔ گائے میں نر ،مادہ،بھینس،بھینسا وغیرہ سب داخل ہیں۔

    قربانی کے جانوروں کی عمر

    اونٹ کم از کم پانچ سال کا، گائے کم از کم دو سال کی، اور بکرا کم از کم ایک سال کا ہونا ضروری ہے، اس سے کم عمر ہو تو قربانی جائز نہیں ، البتہ اگر دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو تو اسکی قربانی بھی جائز ہے۔

    اہم وضاحت: قربانی کے جانوروں میں انکی عمروں کا اعتبار کیا گیا ہے، انکا دو دانت والا ہونا یا نہ ہونا شرط نہیں ، اصل دارومدار عمر کے پورا ہونے کاہے۔البتہ قربانی کے لئے انکی عمر پوری ہونے کی علامت دو دانت ہیں۔

    قربانی کے جانوروں میں شرکت کے احکام

    بکری، بکرا وغیرہ کی قربانی صرف ایک شخص کی طرف سے جائز ہوگی۔جبکہ گائے ،اور اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہوسکتے

    ہیں۔اونٹ اور گائے میں سات سے زائد حصے نہیں ہوسکتے۔ہاں کم ہوسکتے ہیں جیسے گائے میں پانچ یا چار حصے ہوسکتے ہیں۔

    قربانی کے جانوروں کے نقص و عیوب

    ہر وہ چیز جو تاجروں کے عرف و عادت میں جانور کی قیمت میں نقصان پیدا کردے تو وہ عیب ہے۔

    اور جو عیب قربانی سے مانع ہے، اس سے مراد ایسا عیب ہے جو منفعت کو کامل طور پر زائل کردے یا جمال و خوبصورتی کو زائل کردے، تو اس عیب کے ہوتے ہوئے قربانی جائز نہ ہوگی۔اور جو عیب اس صفت کا نہ ہو وہ قربانی کو منع نہیں کرے گا۔

    لہذا درج ذیل عیوب والے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:

    1: ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو۔

    2: ایسا بیمار جسکی بیماری واضح ہو۔

    3: ایسا لنگڑا جسکا لنگڑا پن ظاہر ہو۔

    4: ایسا دبلا کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔

    5:ایسا لنگڑا جو قربان گاہ تک خود چل کر نہ جاسکتا ہو۔

    6:ایسی بیماری جسکی وجہ سے وہ کھانا پینا چھوڑ دے ۔

    7:ایسا جانور جس کے کان کاٹ دیئے گئے ہوں ، یہاں تک کہ کانوں کا سوراخ ظاہر ہوجائے ۔

    8: ایسا جانور جسکی ناک کٹی ہوئی ہو۔

    9: ایسا جانور جسکا ایک پاؤں کٹا ہوا ہو۔

    10: ایسا جانور جس کے سینگ جڑسے نکل گئے ہوں، اور زخم بھرا نہ ہو۔اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں یا زخم بھر گیا ہو تو حرج نہیں ۔

    11: ایسا جانور جسکی آنکھ پھوڑ دی گئی ہو۔

    12: ایسا خارشی جانورجو کمزور ہو ۔

    13:ایسا جانور جسکے تھن کٹے ہوئے ہوں۔ بکری میں ایک کا کٹا ہونا ناجائز ہونے کے لیے کافی ہے اور گائے بھینس میں دو کٹے ہوں تو ناجائز ہے۔

    14: ایسا جانور جسکے تھن خشک ہوگئے ہوں۔ بکری میں ایک کا خشک ہونا ناجائز ہونے کے لیے کافی ہے اور گائے بھینس میں دو خشک ہوں تو ناجائز ہے۔

    15:ایسا جانور جسکے اکثر یا سارے دانت نہ ہوں کہ چارہ بھی نہ کھا سکتا ہو۔

    16: پاگل جانور جسکا جنون اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ گھاس بھی نہ کھا سکے ۔

    17:ایسا جانور جسکی دم یا چکی ایک تہائی یا تہائی سے زائد کٹی ہوئی ہو۔

    18: ایسا جانور جسکی زبان ایک تہائی یا تہائی سے زائد کٹی ہوئی ہو۔

    19: خنثیٰ جانور جس میں نر و مادہ دونوں کی علامات ہوں ۔

    20: جلالہ جانور جو صرف غلاظت کھاتا ہو، اسکا استبراء کیا جائے یعنی تین دن خالص گھاس کھلایا جائے وگرنہ اسکی قربانی جائز نہیں۔ یعنی ایسے جانور کو کم از کم تین دن کسی باڑے میں بند کرکے چارہ دیا جائے ، اسکے بعد اسکی قربانی جائز ہے۔

    مسئلہ:قربانی کرتے وَقْت جانور اُچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مُضِر نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اُچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فورا ًپکڑکر لایا گیا اور ذَبْح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی ۔

    جانور ذبح کرنے والا اسکو لازمی پڑھے

    جانور ذبح کرنے کا طریقہ

    گلے میں چند رگیں ہیں ان کے کاٹنے کو ذَبح کہتے ہیں اور اس جانور کو جس کی وہ رگیں کاٹی گئیں ذبیحہ کہتے ہیں۔

    جو رگیں ذبح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں۔1:حلقو ؔ م یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے،اسکو سانس کی نالی کہا جاتا ہے۔2:مریؔ اس سے کھانا پانی اترتا ہے،اسکو غذا کی نالی کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کے اغل بغل دو اور رگیں ہیں جن میں خون کی روانی ہے ان کو3: اور4:ود جین کہتے ہیں۔

    ذبح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا کہ اکثر کے لیے وہی حکم ہے جو کل کے لیے ہے ، اور اگر چاروں میں سے ہر ایک کا اکثر حصہ کٹ جائے گا جب بھی حلال ہو جائے گا اور اگر آدھی آدھی ہر رگ کٹ گئی اور آدھی باقی ہے تو حلال نہیں۔

    ذبح سے جانور حلال ہونے کی شرائط

    ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں۔

    1: ذبح کرنے والا عاقل ہو ۔

    2: ذبح کرنے والا مسلمان ہو ۔

    3: اﷲعزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔

    4: ذبح کرنے والا اﷲعزوجل کا نام اپنی زبان سےاتنی آواز سے کہے کہ اس کے کان سن لیں اگر یہ خاموش رہا اور اللہ کا نام نہ لیا اور اسے یاد بھی تھا یعنی جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیا تو جانور حرام ہے۔

    5:اللہ عزوجل کا نام لینے سے ذبح پر نام لینا مقصود ہو ۔مثلاًچھینک آئی اور اس پر الحمد ﷲکہا اور جانور ذبح کر دیا توجانور حلال نہ ہوا ۔

    6:ذبح کے وقت غیر خدا کا نام نہ لے ۔

    7:جس جانور کو ذبح کیا جائے وہ وقت ذبح زندہ ہو اگرچہ اس کی زندگی کا تھوڑاہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔

    ذبح کے ضروری مسائل:

    1: سنت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور کا منہ قبلہ کی جانب کیا جائے ۔

    2:ذبح کرنے میں قصداً بسم اﷲ نہ کہی جانور حرام ہے اور اگر بھول کر ایسا ہوا اس صورت میں جانور حلال ہے۔

    3: ذبح کرتے وقت بسم اﷲ کے ساتھ غیر خدا کا نام نہ لیا جائے بلکہ خالصتاً اللہ کا نام ہو۔

    اگر ذبح کرتے وقت بسم اﷲ کے ساتھ غیر خدا کا نام بھی لیا اس کی دو صورتیں ہیں :

    (1)اگر بغیر عطف یعنی بغیر واؤ ذکر کیا ہے، مثلاً یوں کہا بسم اﷲمحمد رسول اﷲ یا بسم اﷲاللّٰھم تقبل من فلان ایسا کرنا مکروہ ہے مگر جانور حرام نہیں ہوگا۔

    (2) اور اگر عطف کے ساتھ یعنی واؤ کے ساتھ دوسرے کا نام ذکر کیا مثلاً یوں کہا بسم اﷲ واسم فلان اس صورت میں جانور حرام ہے کہ یہ جانور غیر خدا کے نام پر ذبح ہوا۔

    4:تیسری صورت یہ ہے کہ ذبح سے پہلے مثلاً جانور کو لٹانے سے پہلے اس نے کسی کا نام لیا یا ذبح کرنے کے بعد نام لیا تو اس میں حرج نہیں جس طرح قربانی اور عقیقہ میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں اور قربانی میں ان لوگوں کے نام لیے جاتے ہیں جن کی طرف سے قربانی ہے اور حضور اقدس ﷺ اور حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔

    5:مستحب یہ ہے کہ ذبح کے وقت بِسْمِ اﷲاﷲُاَکْبَر کہے ۔

    6:بسم اﷲکہنے اور ذبح کرنے کے درمیان طویل فاصلہ نہ ہو اور مجلس بدلنے نہ پائے اگر مجلس بدل گئی اور عمل کثیر بیچ میں پایا گیا تو جانور حلال نہ ہوا۔ ایک لقمہ کھایا یا ذرا سا پانی پیا یا چھری تیز کر لی یہ عمل قلیل ہے جانور اس صورت میں حلال ہے۔

    7:بکری ذبح کے لیے لٹائی تھی بسم اﷲکہہ کر ذبح کرنا چاہتا تھا کہ وہ اٹھ کر بھاگ گئی پھر اسے پکڑ کے لایا اور لٹایا تو اب پھر بسم اﷲپڑھے پہلے کا پڑھنا ختم ہوگیا۔

    8:بکریوں کاریوڑدیکھا اور بسم اﷲ پڑھ کر ان میں سے ایک بکری پکڑ لایا اور ذبح کر دی اس وقت قصداً بسم اﷲ ترک کر دی یہ خیال کر کے کہ پہلے پڑھ چکا ہے بکری حرام ہوگئی۔

    قربانی کے گوشت وغیرہ کی تقسیم

    1:قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے شخص غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے کھلا سکتا ہے بلکہ قربانی کے گوشت میں سے تھوڑا بہت کھا لینا قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے۔

    2:بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقرا کے لیے اور ایک حصہ دوست و احباب کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے۔

    3:سارا گوشت کو صدقہ کر دینا بھی جائز ہے اورسارا گوشت گھر ہی رکھ لے یہ بھی جائز ہے۔یونہی تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے۔بلکہ اگر اس شخص کے اہل و عیال زیادہ ہوں اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کے لیے رکھ لے۔

    4:قربانی کا گوشت سب کو یعنی فقیر و غنی،مسلم و غیر مسلم دینا جائز ہے۔ البتہ حربی کافر کو دینا منع ہے۔

    5:قربانی کی کھال ، جھول،رسّی ، گلے کاہار ڈالا ہے تو وہ ہار ان سب چیزوں کوصدقہ کردے۔ قربانی کے کھال کو خود بھی اپنے استعمال میں

    لاسکتا ہے یعنی اس کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کسی کام میں لاسکتا ہے،مثلاً اوس کی جانماز بنائے، تھیلا، مشکیزہ، دسترخوان، ڈول وغیرہ بنائے یا کتابوں کی جلدوں میں لگائے یہ سب کر سکتاہے۔

    6:قربانی کی کھال یا گوشت یا اس میں کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اُجرت میں نہیں دے سکتا۔

    اجتماعی قربانی کے احکام و احتیاطیں

    1: دینی مدارس اور رفاہی اداروں کی جانب سے آج کل جو اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا جاتا ہے اس میں ان کی حیثیت مجموعی طور پرحصہ داروں کی طرف سے وکیل کی ہوتی ہے ا ورا ن پر معاملہ میں وکالت ہی کے احکام لاگو ہوں گے ۔

    2:اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے دینی مدارس یا رفاہی اداروں کو اجتماعی قربانی کے حوالے سے مفتیان کرام سے ایک وکالت نامہ تیار کروانا ضروری ہے، جس میں وکالت کے تمام شرعی تقاضے پورے کئے گئے ہوں پھر وکالت نامہ ہر حصہ دار کو پڑھایا جائے۔اگر کسی کو پڑھنا نہ آتا ہو تو ذمہ دار یا بکنگ کرنے والے کو چاہیئے کہ خود پڑھ کر سنائے ، پھر وکالت نامہ پر بکنگ کرنے والے یا حصے دار سے دستخط کروائے۔

    3: ادارے کی وکالت لوگوں کی طرف سے وکیل بنانے کے بعد شروع ہوگی ۔ لہذا حصہ داروں کی رقم جمع ہونے کے بعد اسی رقم سے جانوروں کی خریداری کریں۔رقم جمع ہونے سے قبل جانوروں کی خریداری کا سلسلہ نہ کیا جائے۔کیونکہ اگر پہلے ہی جانوروں کی خریداری کرلی تو اب ادارہ ان جانوروں کا مالک بن جائے گا ۔ پھر لوگ چونکہ ادارے کو وکیل بنائیں گے تو ادارہ وہی جانور لوگوں کو بیچے گا اس طرح ایک ہی شخص یا ارادہ کا بیک وقت اصیل و وکیل ہونا لازم آئے گا۔ جوکہ بیع و شراء میں جائز نہیں ہے۔

    4:اجتماعی قربانی کی مد میں حاصل ہونے والی رقم ا مانت ہوتی ہے لہذا اسکی حفاظت کا مناسب انتظام کریں۔

    5:قربانی کی رقم کن امور میں خرچ کرنے کی اجازت ہے اور کن میں نہیں اسکی مکمل تفصیل وکالت نامہ میں تحریر کریں۔اور پھر اسی کے مطابق رقم استعمال میں لائیں۔

    6:ہر حصہ دار سے اسکا مکمل ایڈریس اور فون نمبر لازمی لے لیں تاکہ اگر بعد میں کسی صورت اس سے رابطہ کرنے کی ضرورت پڑے تو اس تک رسائی ہوجائے۔

    7:وکالت کس کے لئے لینی ہے اسکا نام وکالت نامے میں ذکر ہو۔ اور وکالت مطلقا لی جائے کہ وہ خود یا کسی اور کو بھی آگے اپنا وکیل بناسکے۔جن جن کو وکالت دینی ہے انکا پہلے سے تعین کرلیں تاکہ وکالت نامے میں اسی فرد کا نام ڈالا جائے۔

    8:قربانی کاجانور خریدنے اور اس پرآنے والے تمام اخراجات کے بعد جو رقم بچ جائے۔ وہ حصہ داروں کو واپس کی جائے اس رقم کو ان کی اجازت کے بغیر اپنے پاس رکھ لینا بالکل ناجائز ہے۔ ہاں اگر وہ خود ہی بخوشی باقی بچ جانے والی رقم ادارہ کو عطیہ کردیں یا کسی بھی جائز مد میں خرچ کرنے کی اجازت دے دیں تو اس صورت میں یہ رقم ادارہ ہر جائز امر میں خرچ کرسکتا ہے ۔اور بہتر یہ ہے کہ وکالت لیتے وقت ان سے یہ اجازت صراحتا ًلے لی جائے۔

    9:قربانی کے جانور میں کسی کو شریک کرنے سے پہلے ا س سے یہ پوچھنا ضروری نہیں کہ اس کی آمدنی حلال ہے یاحرام ، بلکہ مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے ہاں اگر قرائن سے سے کسی کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی کل یا اکثر آمدنی حرام ہے تو پھر اسے قربانی کے جانور میں شریک نہ کیاجائے ایسا ساتھی اگر اصرار کرے تو اس کو یہ کہاجاسکتا ہے کہ کسی اور سے حلال رقم قرض لے کر قربانی کے حصہ کے لیے دیدے ۔

    10:ہر حصہ دار کا حصہ جانوروں کے اعتبار سے متعین کردیا جائے ، کہ فلاں کا فلاں نمبر کی گائے میں حصہ ہے اور فلاں کا فلاں نمبر کی گائے میں۔اور یہ بات بکنگ کے وقت ہی حصہ دار کو بتادی جائے۔

    11:ایک جانور میں کسی کا حصہ متعین کردینے کے بعد کسی دوسرے گائے میں یہ حصہ منتقل کرنا جائز نہیں اور مؤکل یعنی حصہ دار کے حق میں یہ تبدیلی نافذ بھی نہیں ہوتی ، اس لیے کہ کسی جانور میں ایک مرتبہ حصہ مقرر ہونے کے بعد وکیل کو شرعاًا س بات کا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اس میں کوئی تبدیلی اور تصرف کرے ، چنانچہ حصہ متعین کرنے کے بعد اگر کوئی جانور ہلاک ہوگیا تو یہ نقصان انہی حصہ داروں کا ہوگا جن کے حصےا س جانورمیں تھے ۔لیکن اگر حصہ متعین کرنے سے پہلے کوئی جانور ہلاک ہوگیا تو وہ اس وقت تک اجتماعی قربانی میں شریک ہونے والے تمام لوگوں کی طرف سے ہلاک ہوجائے گا اور ہر حصہ دار پر اس کے حصوں کے تناسب سے اس جانور کی قیمت لازم ہوگی ، پھر اس حاصل شدہ رقم سے ہلاک ہونے والے جانور کا متبادل جانور خریداجائے گا ۔

    12:ادارے کی جانب سے اجتماعی قربانی کے انتظامات کے لئے مقرر تمام افراد پر قربانی کے شرعی مسائل سیکھنا لازم و ضروری ہے۔اور ناگہاں درپیش مسائل میں دارالافتاء کے مفتیان سے رجوع کریں۔

    کتبـــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    09 ذیقعدہ 1441 ھ/01 جولائی 2020 ء