محمد زوہیب رضا قادری
16 صفر المظفر 1446ھ، 22 اگست 2024ء
قحط الرجال اس حالت کو کہتے ہیں جب قوم یا ملک میں مخلص، قابل، اور باصلاحیت افراد کی کمی ہو اور عوامی امور کو چلانے کے لیے کوئی موزوں رہنما یا ماہر نہ ہو۔
صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئی ایک بھی سائنسدان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی طریقہ دریافت کیا ہو؟
کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی نیا طریقہ بتایا ہو؟
کوئی ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟
کوئی ایک بھی انجینیئر ہے جس نے تعمیراتی، طبی، یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی ایجاد کی ہو؟
کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی طریقہ بتایا ہو؟
جب صرف گلوکار، چور، فراڈیے، بھانڈ، اور میراثی ہی قومی ہیروز اور قابلِ فخر قرار پائیں، یہی توقحط الرجال ہے۔
