محمد زوہیب رضاقادری
01 ذوالحج 1445ھ، بمطابق 08 جون 2024ء
ایک خبیث الفطرت ، ازلی بدبخت شخص مجتہد کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجتہد وہ ہے جو مختلف اقوال میں تطبیق (optimal solution ) دے دے اس طرح بیٹھے بیٹھے بندہ مجتہد بن جاتا ہے۔ اور میں نے آپ کو ان دو سوالوں میں مجتہد بنادیا یوں موصوف نے فیس بُک پر تمام سامعین کو پَل بھر میں مجتہد بناکر سرٹیفکیٹ بھی دے ڈالا۔ فیس بُکی دنیا کے ان مجتہدین سے گزارش ہے ذرا حقیقی دنیا کے مجتہد کی صفات بزبان سیدی اعلیٰ حضرت ملاحظہ فرمائیں اور بیان کردہ صفات کا صرف درست تلفظ مع معنی و مفہوم بتادیں تو ہم تسلیم کرلیں گے کہ آپ واقعی مجتہد ہیں۔
مجتہد کی خصوصیات و صفات سے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: جو آیات و احکام و اصابتِ احکام وطرقِ حدیث و شذوذ و نکارت و نقدِ رجال، اسباب جرح و تعدیل و عللِ غاَمضَہ و وجوہِ نظم و صنوحِ معنٰی و جمیع مبادي ادبیہ و اصولیہ و ناسخ و منسوخ و مناہجِ ترجیح و تطبیق و مناشئ حکم و مقاصدِ شرح و مصالحِ زمن و عوائدِ امم و مضانِ حکم و اقاویل صحابہ و مواضعِ اجماع و مشارعِ خلاف و عللِ مؤثرہ و جوامعِ مُغیرہ و مساعہ تعدیہ و مواردِ قصر و غیرہا و جمعِ مواردِ حصر کی معرفت میں دریائے ذخار،نا پیدا کنار ہو اور اس کے ساتھ ذہنِ ثاقب و فکر صائب و طبعِ نقاد،عقل و نقادو توفیقِ خداداد رکھتا ہو کہ جملہ مالہ،و ماعلیہ کے لحاظ سے منصوص سے مسکوت کاحکم اپنی رائے سے قائم کرسکے۔
