عدنان علی کیانی
مدرّس جامعہ فیضان مصطفی مدینہ مسجد کورنگی کراچی
مجدد کی تعریف، مجدد کا تعین، خصوصیات و علامات
پہلی صدی کے مجدد کا مختصر تعارف
مجدد کی تعریف:
لفظ مجدد باب تفعیل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے کہ نیا کرنے والا۔
اسکی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے حضرتِ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ اپنی شہر آفاق تصنیف تفہیمات الہیہ میں لکھتے ہیں کہ:
مجدد وہ شخص ہو گا جس کو الله تعالیٰ نے قرآن وحدیث کے علم میں خاص مقام عطا فرمایا ہو اور اس کو وقار اورسکینت سے مزین کیا ہو، وہ حرام ووجوب، مکروہ، استحباب واباحت سب کو ان کے مقامات پر رکھے، شریعت کو احادیث موضوعہ سے اور غلط قیاس کرنے والوں کے قیاس سے پاک صاف فرما دے، وہ ہر افراط وتفریط سے پاک کرے، الله تعالیٰ اس کی طرف لوگوں کے قلوب کو متوجہ کر دے، اس سے لوگ آکر اپنی علمی پیاس بجھائیں۔
(تفہیمات الٰہیہ، ج01، ص40، ناشر: مدینہ برقی پریس(یوپی)
مجدد کا تعین/انتخاب
انتخابِ مجدد
01) نہ ہی وہ از خود
02) اور نہ ہی عام لوگ
03) اور نہ ہی کسی مخصوص گروہ کے مخصوص لوگ کر سکتے ہیں خواہ وہ لوگ ہم نواہ ہوں یا ہم نواہ بنایا جائے۔
بلکہ اس کے لیے از حد ضروری ہے کہ اُسی صدی کے علوم و فنون کے ماہرین، علماء، بزرگ، سلف صالحین، اس مجدد کے امورِ دینی کی کاوشوں، اسکی وسعتوں، لوگوں کی آسانی کے لیے علمی و عملی کاموں، اندونی و بیرونی فتنوں و سازشوں کے خاتمے کے لیے کمر بستہ ہو کر اور بالخصوص دلائلِ قاطعہ کی مدد سے باطلین، تاویلین، غائلین نیز کذابین کا رد کرنے والے معزز و مکرم مشہور و معروف عالم دین، راسخ فی العلم کا انتخاب کریں کیونکہ مجدد کا دائرہ کار محدود(Limited) نہیں ہوتا بلکہ وہ وسیع و عریض پیمانے پر کام کرتا ہے۔
امام جلالُ الدّین سیوطی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : کسی بزرگ کے مُجَدِّد ہونے کا فیصلہ ان کے ہم زمانہ عُلما کے بیان سے ہوتا ہے جو ان بزرگ کی دینی خدمات اور ان کے علم سے لوگوں کو پہنچنے والا فائدہ دیکھ کر اپنے غالب گمان کے مطابق انہیں مُجَدِّد قرار دیتے ہیں۔
مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:
کسی (مخصوص فرد) کے مُجَدِّد ہونے پر اب کوئی دلیلِ مَنصُوص (یعنی قراٰن و حدیث کی دلیل) نہیں ہوسکتی ، وحی کا سلسلہ مُنْقَطِع ہے۔ اب یہی دلیل ہے کہ اس عَہْد کے علما ، عوام ، خَواص جسے مُجَدِّد کہیں وہ مُجَدِّد ہے۔
خصوصیات:
اللہ تبارک و تعالی نے لوگوں کی دینی امور اور دین کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کے لیے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور یہ سلسلہ جناب آدم سے لے کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مسلسل جاری وساری رہا جو احکامات کی ترویج فرماتے تھے پھر آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلہ نبوت کا اختتام ہوا اور تاصبح قیامت کسی نبی نے نہیں آنا لیکن آپ کی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کی اصلاح اور دین کی نشر و اشاعت و تبلیغ کا سلسلہ تاصبح قیامت جاری اور ساری رکھنا ہے سو اس کے لیے اللہ تعالی نے ہر دور کے اندر کچھ ایسے لوگ مبعوث فرمائے ہیں جو لوگوں کی دینی ضروریات اور حاجات کو پورا کرتے ہیں لیکن جو لوگ اس اہم منصب پر فائز ہیں ان کی پیشن گوئی حدیث مبارکہ میں فرما دی ہے جو ہر صدی کے شروع میں آئیں گے اور پہلے سے موجود احکامات شرح اور دین کو نکھار کر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے نہ کہ دین کے اندر نئی باتیں داخل کریں گے جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔
ترجمہ: یقینًا اﷲ تعالٰی اس امت کے لیے ہرسو برس پر ایک مجدد بھیجتا رہے گا جو ان کا دین تازہ کرے گا)
ابوداوود، حدیث4291، كتاب الملاحم، باب مَا يُذْكَرُ فِي قَرْنِ الْمِائَةِ، ناشر: المکتبۃ العصریہ صیدا۔
مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: یعنی اس امت کی یہ خصوصیت ہے کہ یوں تو اس میں ہمیشہ ہی علماء اور اولیاء ہوتے رہیں گے لیکن ہر صدی کے اول یا آخر میں خصوصی مصلحین پیدا ہوتے رہیں گے جو سنتوں کو پھیلائیں گے،بدعتوں کو مٹائیں گے،غلط تاویلوں کو دور کریں گے، صحیح تبلیغ کریں گا۔خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بہت لوگوں نے اپنے خیال کے مطابق مجدّد گنائے ہیں کہ پہلی صدی میں فلاں،دوسری میں فلاں،بہت مفسد وں نے بھی اپنے آپ کو مجدّد کہا،مرزا غلام احمد قادیانی پہلے مجدّد ہی بنا تھا پھر نبی۔حق یہ ہے کہ اس سے نہ کوئی خاص شخص مراد ہے نہ کوئی خاص جماعت،کبھی اسلامی بادشاہ،کبھی محدثین،کبھی فقہاء،کبھی صوفیاء،کبھی اغنیاء، کبھی بعض حکاّم دین کی تجدید کریں گے،کبھی ایک،کبھی ان کی جماعتیں جو دین کی یہ خصوصی خدمت کرے وہی مجدد ہے،جیسے ایک زمانہ میں حضرت سلطان محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اﷲ علیہ جنہوں نے اسلام سے اکبری بدعات کو دور فرمایا اور جیسے قطب الوقت حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اﷲ علیہ یا اس زمانہ میں عالم اعلٰی حضرت مولانا شاہ احمد رضاخاں صاحب بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ کہ انہوں نے اپنی زبان اور قلم سے حق و باطل کو چھانٹ کر رکھدیا۔
(مرآۃ المناجیح،کتاب العلم، باب الثانی، جلد اول، صفہ ۲۳۸)
مجدد کی علامات:
مجدد کے لیے ضروری ہے کہ اس میں بیک وقت تمام شرائط و علامات پائی جائیں اگر ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہوگی تو وہ مجدد نہیں کہلائے گا۔
فتاویٰ شارح بخاری میں ہے کہ:
مجدد کی شرائط و علامات یہ ہیں :
(الف) علوم ظاہرہ اور باطنہ کا عالم ہو۔
(ب) اس کے درس و تدریس، تالیف و تصنیف سے نفع شائع ذائع ہو۔
(ج) احیای سنت اور امانت بدعت میں سرگرم ہو۔
(د) ایک صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز میں اس کے علم کی شہرت اور اس سے انتفاع معروف و مشہور ہو۔
پس اگر آخر صدی نہیں پائی ہے یا اس سے اس زمانے میں انتفاع شریعت حاصل نہ ہوا ہو تو وہ مجددین کی صف سے خارج سمجھا جائے گا اور اس حدیث کا مورد و مصداق نہ ہو گا۔ اور اس کا شمار مجد دین میں نہ ہو گا۔
(فتاویٰ شارح بخاری، ج03، ص352، ناشر: دائرة البرکات، گھوسی، ضلع مئو)
یوں ہی مولانا نسیم صدیقی قلمطراز ہیں کہ:
مجدد پچھلی صدی کے آخر اور رواں صدی کا ابتدائی زمانہ پاتا ہے۔
مجدد مذہبی و معاشرتی تمام فتنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
مجدد کو اللہ پاک علم لدنّی عطا فرماتا ہے۔
مجدد اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق کثیر علوم ظاہری (عقلیہ و نقلیہ) کا ماہر ہوتا ہے۔
مجدد کو اپنے کار منصبی کے لئے اللہ پاک کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔
مجدد کو اس کے ہم عصر علما، اولیا کی معاونت و نصرت حاصل ہوتی ہے۔
مجدد عقیدہ و عمل کے فساد کو دور کرکے خوش عقیدگی کو فروغ دیتا ہے۔ وغیرہ
(امام احمد رضاخان کے تجدیدی کارناموں کا نمایاں پہلو،از مولانا نسیم صدیقی)
مزید شرائط:
افراط و تفریط سے پاک کرنے والا مجدد ہو گا ہر صدی کے شروع میں ہو گا۔
راسخ فی العلم
عمل صالح کا پیکر
حکمت و بصیرت
اللہ و رسول سے بے گناہ محبت
اخلاق حسنہ کا پیکر
فقر و استغناء
شجاعت و بہادری
پہلی صدی کی متفق علیہ مجدد کا مختصر تعارف:
ابو حفص عمر بن عبد العزیز
ولادت: آپ رضی اللّٰہ عنہ 61 یا 63ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
وفات: آپ رضی اللّٰہ عنہ نے 41 سال کی عمر پا کر 25 رجب المرجب 101ھ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
مدت خلافت: قریبا دو سال اور چھ ماہ۔
ابتدائی حالات زندگی:
حضرت سید نا عمر بن عبد العزيز عليه رحمة اللہ العزیز کے والد ماجد حضرت سید نا عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ سرزمین عرب کے معزز ترین خاندان قریش کی شاخ بنو امیہ کی ممتاز شخصیت تھے، 20 برس سے زائد عرصہ مصر کے گورنر ر ہے لے اور بہت سے یاد گار کام کئے مثلاً ” حلو ان میں بہت سی نئی مسجد میں تعمیر کروائیں ، مصر کی جامع مسجد کو از سرِ نو (یعنی نئے سرے سے بنوایا ہے، لوگوں کی آسانی کے لئے خلیج مصر پر دو پل بنوائے کے علماء کرام کے حقوق و احترام کو بڑی اہمیت دی ، اُن کے بیش بہا وظیفے مقرر کئے ۔ جب شادی کرنا چاہی تو اپنے خزانچی کو فرمایا: مجھے میرے مال سے خالص حلال کے 400 دینار لا دو ، میں نیک گھرانے میں نکاح کرنا چاہتا ہوں ہے۔ جمادی الاولی ۸۵ ھ میں ان کا وصال ہو گیا ہے، وقت انتقال یہ الفاظ زبان پر تھے : يَا لَيْتَنِي لَمُ أَكُنُ شَيْئاً مَّذْكُوراً إِلَّا لَيْتَنِي كُنْتُ كَهَذَا الْمَاءِ الْجَارِي أَوْ كَتَبَاتَةِ الأَرْضِ کاش! میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہ ہوتا ، کاش ! میں کوئی شے نہ ہوتا ، کاش میں جاری پانی کی طرح ہوتا یا ایک تنکا ہوتا ۔
اہل بیت سے محبت:
حضرت سید نا عمر بن عبد العزيز عليه رحمة الله العزيز اہل بیت رضی الله تعالى عهم سے بہت محبت رکھتے تھے، چنانچہ جب کسی چیز کو راہ خدا میں پیش کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے : ابْتَغُوا أَهْلَ بَيْتِ بِهِم حاجة یعنی ان اہل بیت کو تلاش کرو جو حاجت مند ہوں
قاضی کیسا ہونا چاہیے:
مزاحم بن زفر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سید نا عمر بن عبد العزیز علیه رحمہ اللہ العزیز کو فرماتے سنا: قاضی میں پانچ خصلتیں ہونی چاہئیں : (1) قرآن وسنت کا عالم ہو (۲) حلم والا ہو (۳) خوددار ہو (۴) پر ہیز گار ہو (۵) مشورہ کرنے والا ہو۔ جب یہ پانچ چیزیں قاضی میں پائی جائیں تو وہ قاضی ہے ورنہ انصاف کے نام پر دھبہ ہے۔
ٹیکس ختم کر دیے:
پہلے خلفاء کے دور میں رعایا پر مختلف قسم کے ٹیکس لگائے گئے تھے: روپیہ ڈھالنے پر ٹیکس ، چاندی پگھلانے پر ٹیکس، عرائض نویسی پر ٹیکس، دوکانوں پر ٹیکس ، گھروں پر ٹیکس، پن چکیوں پر ٹیکس، الغرض کوئی چیز ٹیکس سے بری نہ تھی اور یہ تمام ٹیکس ماہوار وصول کئے جاتے تھے اور اس لئے اس کو مال ہلالی (یعنی ماہانہ حاصل ہونے والا ! مال ) کہا جاتا تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمةُ اللهِ الْعَزِيز تخت خلافت پر متمکن ہوئے تو دیکھا کہ ان میں بعض قسم کی آمد نیاں شرعا نا جائز ہیں اور بعض سے رعایا پر غیر معمولی بار پڑ رہا ہے، اس لئے انہوں نے ان کو یک لخت موقوف کر دیا۔ عربی زبان میں اس قسم کے ٹیکسوں کو مکس کہتے ہیں مگر آپ نے فرمایا: یہ مکس نہیں بلکہ نجس ہے، وہ نجس جس کی نسبت خداوند تعالی فرماتا ہے :
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلَا تَعْثُوا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
ترجمہ کنز الایمان : اور لوگوں کی چیزیں کم کر کے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔(پ ۱۹ ، الشعراء ۱۸۳)
لہٰذا جو اپنے مال کی زکوۃ دے وہ قبول کر لو جو نہ دے اللہ تعالی خود اس سے حساب لے گا۔
کارنامے:
مسجد نبوی کی توسیع
حاجات و ضروریات کو پورا کیا یعنی آپ علیہ الرحمہ نے سب سے اہم کام مختلف صورتوں و شکلوں میں بکھری ہوئی احادیث کو تدوین احادیث علی الابواب کے اعتبار سے جمع فرمایا جو اس سے قبل نہیں ہوا تھا۔
علماء و فقہاء کی ضروریات کا خاص خیال رکھنا۔
اہل ذمہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پابندی اور تکمیل۔
