ابو امیر خسرو سید محمد باسق رضا (26/6/2025)
فقہی اصول کے مطابق، مالی عوض لینے کی تین ہی معتبر صورتیں ہیں:
یا تو وہ مال ہوگا، یا منفعت ہوگی، یا حق ہوگا۔
بیع میں مال کا ہونا ضروری ہے اور یہ مال عین یعنی خارجی وجود والی چیز ہو، جیسے مکان، کپڑا یا کوئی اور مادی شے۔
اسی طرح، اجارہ میں وہ منفعت مقصودہ ضروری ہے جو کسی مال کو باقی رکھتے ہوئے حاصل کی جائے، مثلاً مکان میں رہائش یا گاڑی کی سواری۔
تیسری صورت حق کی ہے، جس کا مالی عوض لینا فقہ حنفی میں چند صورتوں میں جائز اور چند میں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
جائز صورتیں یہ ہیں:
اگر حق بطریق بیع مستقلاً ہو اور اس پر عرف بھی جاری ہو، تو اس کا عوض لینا جائز ہے، مثلاً پانی یا راستے کا حق بشرطیکہ اس کا عرفی لین دین معمول ہو، جیسا کہ مشائخِ بلخ نے عرف کی بناء پر اسکے جواز کا فتوی دیا۔
اگر حق بطریق بیع تبعاً ہو، یعنی کسی اصل مال کے ساتھ ضمنی حیثیت رکھتا ہو، تو اس کا عوض لینا بھی جائز ہے، جیسے زمین کے ساتھ پانی یا چلنے کا حق۔
اور اگر حق بطریق دست برداری ہو اور وہ اصالۃً یعنی ازالہ ضرر کے طور پر حاصل شدہ حق نہ ہو، تو اس پر معاوضہ لینا جائز ہے۔
ناجائز صورتیں:
اگر حق بطریق بیع مستقلاً ہو مگر اس پر عرف جاری نہ ہو، تو اس کا مالی عوض لینا ناجائز ہے۔
اسی طرح اگر حق بطریق دست برداری کسی ازالہ ضرر کے لیے ہو، جیسے حق شفعہ یا دو شادیوں میں بیویوں کی باری کا حق، تو اس کا معاوضہ لینا شرعاً ناجائز ہے۔
یوں فقہ حنفی میں مالی عوض کی حد بندی اور اس کی شرعی حیثیت واضح اور محدود ہے۔
