محمد زوہیب رضاقادری
03 ذوالحج 1445ھ، بمطابق 10 جون 2024ء
فی زمانہ لوگوں میں لادینیت پھیلتی جارہی ہے ۔ لوگ مغرب زدہ ہوکر اللہ کریم جل مجدہ کی ذاتِ کریمہ سے منکر ہوتے جارہے ہیں ۔ رب کریم کی بنائی ہوئی جنت ، دوزخ کا برسرِ عام مذاق بیانا جارہا ہے، جسکی چند بڑی وجوہات میں سے دو درج ذیل ہیں جن کا میں نے بذاتِ خود مشاہدہ کیا ہے۔
1: ماضی بعید میں مسلمانوں میں چند ایسے فرقے مثلا کرامیہ وغیرہ گزرے ہیں جو اخلاقیات و بیانِ فضائل میں وضع حدیث کو جائز قرار دیتے تھے اور آج کل کے روافض کا بھی یہی حال ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کئی احادیث وضع کیں جن میں سے بعض کو قاضی بیضاوی اور صاحب کشاف نے فضائل سُوَر میں ذکر کیا ہے ۔ ان احادیثِ موضوعہ نے اگر چہ ترغیب و اخلاقیات کے معیار کو بلند کیا ہوگا تاہم فی زمانہ جو کہ عین عقلی و سائنٹفک زمانہ ہے اس میں الحادی ذہن بھی پیداکئے ہیں۔
2:ہمارے عصری نظام تعلیم کا اکثر حصہ مغرب زدہ ہے یا مغرب کی للکار ہے اس نصاب کو پڑھنے والے طلباء مغربی اقوام کی مادی ترقی سے بے حد مرعوب اور اس میں بے حد مرغوب ہوجاتے ہیں۔پھر وہ اس کے اسباب کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں اس ترقی کے پیچھے مختلف فلسفے ، منطق اور سائنس کھڑی ملتی ہے ۔ اس دوران انہیں مغربی اقوام سے اس قدر لگاؤ ہوجاتا ہے کہ انہیں ان کا ہر برا کام بھی سب سے اچھا اور انوکھا لگتا ہے حتٰی کہ یہ لوگ امورِ غیبیہ مثلا ملائکہ، حیات بعد الممات، جنت و دوزخ جیسے امور کو بھی لیبارٹریز میں لے آتے ہیں پھر انہیں ہر شئے کو ماننے کے لئے محض دلیل نہیں بلکہ اسکا انپیریٹکل ایوڈنس درکار ہوتے ہیں اس طرح یہ لوگ لادینیت کے منازل پر رو بہ سفر ہوجاتے ہیں بقولِ اقبال:
ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراخی تعلیم
کیاخبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
اسکے علاوہ چھوٹی چھوٹی دیگر کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہے:
آزاد خیالی وبے حیائی:
دہریت اور سیکولر ازم کے پھیلنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ آزاد خیالی و بے حیائی ہے کہ ان بے دینوں کا یہ نظریہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے سب کچھ کر سکتا ہے بس صر ف اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ جس کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرنا چاہے اس کی ر ضا مندی سے بلا روک ٹوک کر سکتا ہے کسی سے ڈرنے نہ ہی کسی کی اجازت کی ضرورت ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کوئی بھی گناہ جس کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے اگر چہ نقصان دہ کیوں نہ ہوکھلے عام کرسکتا ہے اور جس کا تعلق کسی اور سے ہو تو اس کی رضامندی سے بلا دھڑک کر سکتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج خواہش پرست پڑھے،لکھے نوجوانوں کی بڑی تعدادلبرل اور سیکولرازم کی طرف مائل ہیں کیو ں کہ وہ ہر قسم کا گناہ کر سکتے ہیں ۔
علم کا تکبر:
بعض لوگ کچھ دنیوی ڈگریاں لے کر یا بیرون مما لک کے چکر لگا کر کچھ سیکھ لینے کے بعد سمجھتے ہیں کہ ہم ہی ایجوکیٹڈ ہیں،باقی سب جاہل!اور دینی علوم پڑھنا اور احکام شریعت کی پیروی کرنا اپنے لیے باعث عار سمجھتے ہیں اور اس علمی تکبر کی وجہ سے مغربی ذہنیت کی وجہ سے سیکولر بنتے جاتے ہیں ۔ جن میں انجینئر مرزا ، غامدی جیسے لوگ سرِ فہرست ہیں جن کے مطابق 1400 سال کے علماٰ محدثین مفسرین سب جاہل تھے جیسا دین یہ پیش کرتے ہیں آج تک کسی نے نہ کیا اسی آڑ میں یہ لوگ ہر وقت مسلمانوں کو احساس کمتری کا شکار کرتے رہتے ہین بالآخر ایک عام بندہ انکی تعلیمات سن کر اسلام سے بیزار ہو کر لبرل ہوجاتا ہے جسکا مشاہدہ خود ان لوگوں کے بیانات سے بھی ہوتا ہے کہ یہ ہمیشہ غیر مسلموں کے طرفدار اور مسلمانوں کو قصوروار ٹھہراتے نظر آئیں گے۔
میڈیا اور عیاش و بے دین حکمران :
فی زمانہ عیاش و بے دین حکمران اور ان کا آلہ کار میڈیا لبرل اور سیکولر ازم کے پھیلانے میں کو ئی بھی موقعہ فروگزاشت(ضائع) نہیں ہو نے دیتے آج کا میڈیا فحاشی اور برائی کی تشہیر بڑھ چڑکے کرتا ہے اور کوئی دینی پروگرام نشر کرنا بھی پڑے تو تفریحی انداز میں ،رمضان ٹرانسمیشنز وغیرہ ہمارے سامنے ہیں ۔ اور ہمارےحکمرانوں کو مغرب کی اندھی تقلید میں اچھائی اور برائی کی کوئی تمیز نہیں ہے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر سب کچھ کرنے بلکہ دین و ایمان کا سودا کرنے کے لیئے تیار ہیں۔اورسوشل میڈیا و الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ لوگ بعض سیکولر صحافیوں کی دیکھا دیکھی انہی کی بولی بولنے لگتے ہیں کہ معاذ اللہ اسلام نے تلوار کے علاوہ ہمیں کیا دیا ہے؟ (فالعیاذبااللہ تعالی)اور نہ جانے کیا ،کیا کچھ!
این ۔جی ۔اوز،اور سول سوسائٹیز:
مملکت خداد پاکستان میں آج ہزاروں کے حساب سےNGOs کام کر رہی ہیں یہ لوگ بظاہر ملک و ملت کے خیر خواہ بنتے ہیں لیکن پس پردہ نہ صرف اسلام بلکہ عوام پاکستان اور خود پاکستان کے جڑوں کوکھولا کرنےمیں ہمہ تن مصروف ہیں اور غریبوں ،مظلوموں کی مدد کے بہانے اسلام کے خلاف زہر اگلنے اور بعض اختلافی مسائل کو بنیاد بنا کر علماء بلکہ خاصان خدا کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کو اپنے مشن کی کامیابی اور سعادت خیال کر تے ہیں ۔پا کستان میں اس وقت NGOs اسلامی سزاوں کو ،سزائے موت کو،ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو ختم کرنے،کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل بھلا کر بھارت سے محبت کی بھیک مانگنے ، دستاویزی فلمیں اور سینماگھروں کو بڑھانے کے لیے سر گرداں ہیں اور اب ان لوگوں کی پہچان بھی مشکل ہوگئی ہے کہ یہ لوگ سول سوسائیٹیز کے نام پر، ہسپتالوں ،اسکولوں ،کالجوں،یونیورسٹیز،فلاحی ادروں اور نہ جانے کہاں ،کہاں اپنے ناپاک عزاَئم کے ساتھ کوشاں ہیں ۔(فالعیاذبااللہ تعالی)
رفتہ رفتہ دینی علوم کا مفقود ہو جانا :
دینی تعلیم سے بے رغبتی اور ضروریات دین سے غفلت ایک اہم وجہ ہے سیکولر ازم کے بڑھاوے میں ۔کیوں کہ ہم نے شب وروز کا اکثر حصہ پیسہ کمانے کے لیئے وقف کردیا ہے بقیہ دو چار گھنٹوں میں ہمارے پاس میڈیا کی فحاشی دیکھنے کا وقت تو ہے لیکن چند منٹ کے لیئے قرآن و حدیث سیکھنے کا نہ تو ہمارےپاس وقت ہے نہ کوئی دلچسپی !المیہ یہ ہے کہ ہمیں نہ حلال وحرام کاعلم ہے نہ ہی نکاح و طلاق کے مسائل سے آگہی!ہمارے سامنے بس ایک ہی چیز ہے کہ بڑی جگہ پڑھنا ،اچھی جگہ نوکری کرنا اور زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا۔۔۔۔۔۔
اسکا حل :
آج کے اس پر فتن دور میں ہمیں اپنے گرد و پیش پر گہری نظر رکھنی چاپیئے ۔کسی بھی اسکول ،کالج اور یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے سے پہلے اس کا سلیبس دیکھنا ضروری ہے کہ اس میں سیکولر نظریات تو نہیں ؟اسی طرح کسی بھی فلاحی ادارے کو ڈونیشن دینے سے پہلے اس کے تمام مقاصد اور سابقہ کاموں پر نظر رکھنی چاہیئے کسی بھی مذہبی اسکالر کو سننے اور اس سےدین حاصل کرنے سے پہلےاس کے بارے میں یہ ضرور جاننا چاہیئے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی آڑ میں دین میں نئی نئی باتوں کا انکشاف تو نہیں کرتا کہ جن کا ذکر ہمارے اسلاف تک نے نہیں کیا ،اور اس طرح کے دعوے تو نہیں کرتا کہ سب صحیح ہے وغیرہ!اسی طرح آج کل کے پروفیسرزاور ڈاکڑز میں سیکولر ذہنیت بہت زیادہ ہیں لہذا ان کی نئی تحقیقات خصوصادین کے حوالے سےنہیں پڑھنی چاہیئے اور ایسے لیکچرز پر بھی دھیان نہیں دینا چاہیئے ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اس طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے ،آمین ۔
