کیا حضور ﷺ کا یومِ وصال بارہ ربیع الاول ہے؟

    محمد زوہیب رضا قادری

    ماہِ ربیع الاول آتے ہی اغیار کی جانب سے یہ بات مشہور کی جاتی ہے کہ بارہ ربیع الاول کا دن تو نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی وفات کا دن ہے نہکہ ولادت کا۔ لہٰذا اس دن خوشی نہیں بلکہ غم منانا چاہیےکہ اس دن تمام صحابہ کرام اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اہل بیت سب غمزدہ تھے ۔

    اس بارے میں تحقیقی قول یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا وصالِ باکمال بارہ نہیں بلکہ تیرہ ربیع الاول کو ہوا ۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ یہ بات بالاتفاق صحیح و ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال ماہِ ربیع الاول میں پیر کے دن ہوا ۔چناچہ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں:وَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلِ مِنْ سَنَةِ إِحْدَى عَشْرَةَ بِلَا خِلَافٍ ۔ ترجمہ:بالاتفاق رسول اللہ ﷺ کی وفات ماہِ ربیع الاول 11 ھ میں ہوئی ۔ (البدایہ والنھایہ لابن کثیر جلد 4 ص 398)

    امام بیھقی اپنی سنن میں حدیث نقل فرماتے ہیں : عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:"دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لی : فِي أِيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ " يَوْمَ الِاثْنَيْنِ۔ ترجمہ:حضرت عائشہ سے مروی ہےفرماتی ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنھما کے پاس گئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال کس دن ہواتو میں بتایا پیر کے دن۔ (السنن الکبرٰی للبیھقی، حدیث نمبر 6911)

    یونہی یہ بھی ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جو ماہِ ذوالحج تھا اسکی ابتداء جمعرات سے ہوئی اور اس سال حج کا خطبہ (9 ذوالحج )بروز جمعہ کو ہوا۔جب یہ معلوم کہ 10ھ کے ماہِ ذوالحج کی ابتداء جمعرات سے ہوئی اور اس سال حج بروز جمعہ کو ہوا تو اب خواہ ماہِ ذوالحج ، محرم اور صفر سب کو تیس تیس دن کا شمار کریں یا سب کو انتیس انتیس کا شمار کریں یا بعض کو تیس اور بعض کو انتیس شمار کریں کسی صورت 11ھ کی ماہِ ربیع الاول کی بارہویں بروز پیر نہیں آتی۔ جیساکہ چناچہ امام ابوالقاسم سہیلی فرماتے ہیں: لَا يتصوَّر وقوع وفاته عليه السلام يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ثَانِيَ عَشَرَ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ مِنْ سنة إحدى عشرة وذلك لأنه عليه السلام وقف في حجة الوداع سَنَةَ عَشْرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَكَانَ أَوَّلَ ذِي الْحِجَّةِ يَوْمُ الْخَمِيسِ فَعَلَى تَقْدِيرِ أَنْ تُحْسَبَ الشُّهُورُ تَامَّةً أَوْ نَاقِصَةً أَوْ بَعْضُهَا تَامٌّ وَبَعْضُهَا نَاقِصٌ، لَا يُتَصَوَّرُ أَنْ يَكُونَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ثَانِيَ عَشَرَ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ ۔ ترجمہ: آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات11ھ کی بارہ ربیع الاول بروز پیر کسی صورت درست نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ علیہ السلام نے 10ھ کے حجۃ الوداع میں جمعہ کے دن وقوف کیا تو اس اعتبار سے پہلی ذی الحج جمعرات کو ہوئی ۔ اسکے بعد اگر تمام مہینے مکمل (30 دن )فرض کریں یا انتیس یا بعض تیس اور بعض انتیس ۔ کسی صورت پیر کا دن بارہ ربیع االاول کو نہیں آتا۔ (البدایہ والنھایہ لابن کثیر جلد 5 ص 276،277)

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: اگر ذی الحجہ، محرم ، صفر تینوں مہینے 30 کے لیے جائیں ، تو غرہ (پہلی)ربیع الاول روز چار شنبہ (بدھ)ہوتا ہے اور پیر کی چھٹی اور تیرہویں، اور اگر تینوں 29 کے لیں ، تو غرہ(پہلی) روز یکشنبہ(اتوار) پڑتا ہے اور پیر کی دوسری اور نویں اور اگر ان میں کوئی سا ایک ناقص اور باقی دو کامل لیجیے ، تو پہلی سہ شنبہ(منگل ) کی ہوتی ہے اور پیر کی ساتویں چودہویں اور اگر ایک کامل دو ناقص مانیے، تو پہلی پیر کی ہوتی ہے، پھر پیر کی آٹھویں پندرھویں، غرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتی اور ان چار کے سوا پانچویں کوئی صورت نہیں۔(ملخصاً من فتاوی رضویہ، جلد26،ص 418،419)