محمد زوہیب رضا قادری
حرفِ گُفتنی
مسلمانوں کےدین کاسرمایہ اورشریعت اسلامیہ کااصل منبع و ماخذرسول اللہﷺ کی ذاتِ کریمہ ہے۔آپ ﷺ کے اقوال، افعال،احوال اور واقعات ہی شریعت کا سر چشمہِ حیات ہیں۔آپ ﷺ کے اسفار، احضار، جلوت، خلوت،مجالس، محافل،شب و روز کے معمولات الغرض زندگی کا ہر ہر لمحہ ہمارے لئے مشعلِ راہ و سامانِ ہدایت ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین نےآپﷺ کی زندگی کے ایک ایک لمحے، اور آپکی کتابِ زیست کے ایک ایک ورق کو حفظ کیا۔صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا باہمی تکرار فرماتے، اپنے سینوں اور اپنےصحیفوں میں لکھ کر محفوظ فرماتے۔ان کے بعدتابعین پھر تبع تابعین نے حفظ وکتابت کے اس عمل کوجاری رکھا یہاں تک کہ دوسری صدی کے بعد باقاعدہ حدیث مبارک کی تدوین شروع ہوئی، اور ابواب و کتب کی ترتیب سے حدیث کی کتابیں مدون ہوئیں۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی جامع سیرت اور دین کی مکمل تصویر پہنچ سکی۔
بعد ازاں امت میں ایسےلوگ پیدا ہوئے جنہوں نے احادیث کے بیان میں تساہل سے کام لیااورہر طرح کے رُواۃ سے احادیث لینا شروع کردی تو اس وقت اکابر علماءِ ملت اور ماہرین شریعت نے احادیث کے ناقلین کو پرکھنے کے لئے علمِ رجال ایجاد کیا اور اس میدان میں حیرت انگیز کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ جن کے سبب احادیث کی سینکڑوں اقسام معرضِ وجود میں آئی۔جن میں صحیح، حسن ، ضعیف ، مرسل، عزیز، غریب، مردود ، معضل، مدلس، معلق،منقطع،معنعن، مؤنن اور موضوع وغیرہا احادیث شامل ہیں۔
موجودہ زمانہ فتنہ و فساد کا زمانہ ہے ہر شخص خود کو دینِ حق کا داعی اور اپنے علاوہ کو باطل بتاتا ہے، ہر نیا آنے والا پہلوں کو خطاواراور خود کو حق پر بتاتا ہے۔آئےروز نت نئےفتنےمختلف اندازاور ناموں سےظاہرہورہےہیں۔جوسادہ لوح مسلمانوں کوراہِ حق سے پھیرکرگمراہی کےراستوں کاراہی بنارہےہیں۔اوران فنتوں کاشکارعموماوہ لوگ ہوتےہیں جودنیاوی طورپرکچھ پڑھ لکھ لیتےہیں لیکن دینی اعتبارسےسنی سنائی باتوں پرچل رہےہوتےہیں انکی اپنی کچھ تحقیق نہیں ہوتی۔ایسےکٹھن اورمشکل حالات میں علماءاورراہ حق کے راہیوں کی ذمہ داری مزیدبڑھ جاتی ہےکہ وہ عوام کواوربالخصوص نوجوان نسل کوان فتنوں سےآگاہی،ان فتنوں کےطریقہ واردات، اوران فتنوں سے بچانےکی سرتوڑ کوششیں کریں۔یہی وہ دورہےجسکےبارے میں آقا کریمﷺنےارشادفرمایاکہ ایک دورہوگاکہ تم پرفتنےبارش کی طرح برسیں گے۔
یہ فتنےگمراہ تحریکوں اور جماعتوں کی شکل میں بھی نمودارہوسکتے ہیں اورمال ودولت،شہرت،اقتدارکی ہوس،اوردیگرنفسانی خواہشات کی شکل میں بھی انکاظہورہوتارہتاہے۔اگرانسان کوشریعت پراستقامت کی نعمت حاصل نہ ہوتوان فتنوں سےاپنےایمان کو محفوظ رکھنا بہت دشوارہے۔ان فتنوں میں ظاہر ہونے والا ایک فتنہ احادیث ضعیفہ کے انکار کا فتنہ ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر کی جانے والی ابحاث میں یہ جملہ '' یہ حدیث ضعیف ہے ''بکثرت بولا، سنا اور پڑھا جاتا ہے،یہ لوگ اہل السنہ کی مؤید احادیث کے جواب میں محض یہ جملہ'' یہ حدیث ضعیف ہے '' کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں اور بزعمِ خویش سمجھتے ہیں کہ ہم نے کارِ باراں سرانجام دے دیا ہے ہمارے اس جملے کے بعد کسی جواب کی کوئی گنجائش نہیں۔ حالانکہ لطف کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سرے سے اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ حدیث ضعیف کہتے کس کو ہیں؟اگر ان سے حدیث ضعیف کی تعریف پوچھی جائے تو ماسوائے سر کھجانے کے انکے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اور اتفاق سے کسی کو حدیث ضعیف کی تعریف معلوم بھی ہو تو اسکو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیوں ؟حدیث کے ضعف کے اسباب و وجوہات کا انہیں علمِ اجمالی تک حاصل نہیں ہوتا۔چہ جائیکہ اس پر مفصل و مدلل گفتگو و کلام کرسکیں ۔ اور بفرضِ محال اگر ہزار میں سے کوئی ایسا بندہ نکل آئے جو اس معاملہ میں کچھ سمجھ بوجھ رکھتا ہو تو وہ بھی محض اتنی کہ عصرِ حاضر کے فلاں شخص نے اپنی کتاب میں اسے ضعیف کہا ہے۔پھر جس راوی کی وجہ سے ضعف آیا اس کے حالات اور علماءِ جرح و تعدیل کی اس راوی کے متعلق آراء کا حصول تو علماء ہی کاکام ہے۔ مزید برآں یہ جاننا کہ حدیث ضعیف کا حکم کیا ہے، اسکے قبول و رد کا کیا معیار ہے، کہاں مقبول اور کہاں مردود ہے؟ کن کن محدثین نے اس پرکلام فرمایا؟ کیا حکم ارشاد فرمایا ؟یہ تو علماءِ اصولِ حدیث کا خاصہ اور اعجازہے۔
اب تمام باتوں سے جاہل ہونے کے باوجود یہ لوگ منہ پھاڑ کر کسی بھی حدیث کو ضعیف کہہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ قوم کے ارسطو بن چکے کہ جن کی عقل کے آگے سب ناکام و نامراد ہیں حالانکہ محدثین کرام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ حضور ﷺ کی نسبت سے ہر حدیث قابل استدلال ولائق استناد ہوتی ہے جس میں ضعف وکمزوری کا تصور نہیں کیا جاسکتا، البتہ تابعین سے ائمہ محدثین تک روایت کرنے والے جن حضرات کے ذریعہ حدیث پہنچتی ہے ان میں اگر کسی راوی کا حافظہ کمزور ہو یا محدثین کے بیان کردہ اسباب میں کوئی اور سبب پایا جائے تو حدیث کی سند ضعیف قرار پاتی ہے ،اس طرح کی سند سے پہنچنے والی روایت کو محدثین کی اصطلاح میں "ضعیف" کہا جاتا ہے ،اسی وجہ سے محدثین کرام نے لکھا ہے کہ جب کسی روایت کا ضعف بیان کرنا مقصود ہوتو اسے حدیث پاک کے مضمون کے اعتبار سے ضعیف نہ کہاجائے اور نہ محض’’ ضعیف‘‘ کہاجائے بلکہ اس طرح بیان کیا جائے کہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے یا یوں کہاجائے کہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔ جیساکہ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی میں تحریر فرمایا:
(إذا رأیت حدیثا بإسناد ضعیف فلک أن تقول ہو ضعیف بہذا الإسناد ولا تقل ضعیف المتن ) ولا ضعیف وتطلق ( بمجرد ضعف ذلک الإسناد ) فقد یکون لہ إسناد آخر صحیح ۔
ترجمہ: جب تم کوئی ایسی حدیث دیکھو جو سند کے اعتبار سے ضعیف ہو تو یوں نہ کہو کہ یہ حدیث متن کے اعتبار سے ضعیف ہے بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث اس سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔اور نہ ہی مطلقا کہ'' یہ حدیث ضعیف ہے'' کہو۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث کسی دوسری سند کے اعتبار سے صحیح ہو۔( تدریب الراوی فی شرح تقریب النوویج2 ص 148)
اب ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ حدیث کے بارے میں ان تمام باتوں سےجاہل ہونے کے باوجودہر حدیث کے بارے میں ''ضعیف، ضعیف'' کا رٹا لگا کر کس قدر برے کام کا ارتکاب کررہے ہیں۔والعیاذ باللہ العظیم
'' ضعیف احادیث کے قبول و رد کا حکم '' پر گفتگوسے قبل حدیث ضعیف کی تعریف،مثالیں،اسبابِ و وجوہاتِ ضعف بیان کریں گے۔ پھر اپنا موضوع بیان کریں کہ حدیث ضعیف کا حکم میں مذاہب ائمہ کیا کیا ہیں اور ان میں راجح کیا ہے؟ نیز یہ کہ کیا کسی بھی حدیث کو یہ کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے کہ '' یہ ضعیف ہے'' یا پھر اسکے اصول و قواعد ہیں؟۔
فاقول وباللہ التوفیق:
حدیث ضعیف کی تعریف:
الحَدِيثُ الضَّعِيفُ: مَا فَقَدَ أَحَدَ شُرُوطِ الحَدِيثِ الحسن: أي: كل حديث لم تجتمع فيه شروط الحديث الحسن، فهو ضعيف، وهو أنواع تزيد عن الخمسين نوعًا۔
ترجمہ:حدیث ضعیف وہ ہے کہ جس میں حدیث حسن کی کوئی ایک شرط مفقود ہوجائے یعنی جس میں حدیث حسن کی تمام شروط نہ پائی جائیں تو وہ ضعیف ہے اسکی پچاس سے زائد اقسام ہیں ۔(مقدمة ابن الصلاح، ص: 41)
امام بیقونی نے اپنے منظومہ میں حدیث ضعیف کی ان الفاظ سے تعریف فرمائی:
و کل ما عن رتبة الحسن قصر
فهو الضعيف و هو اقسام کثر
ترجمہ: ہر وہ حدیث جو حسن کے رتبے سے کم ہو، وہ ضعیف حدیث ہے اور اس کی کثیر اقسام ہیں۔
شیخ محمود الطحان لکھتے ہیں:
ھو مالم یجمع صفۃ الحسن بفقد شرط من شروطہ
ترجمہ: ضعیف وہ کہ جس میں حسن کی کوئی صفت مفقود ہوجائے۔(تیسسیر مصلح الحدیث: ص 78)
امام جرجانی التعریفات میں لکھتے ہیں:
الضعيف من الحديث: ما كان أدنى مرتبة من الحسن۔
ترجمہ:ضعیف حدیث وہ ہے جو حسن کے مرتبے سے کم درجے کی ہو۔(التعریفات:ج 1 ص 138)
ضعیف حدیث کی تعریف میں حدیث حسن کا ذکر ہے کہ ضعیف وہ ہے جو حدیث حسن کے درجے کو نہ پہنچی ہو لہذا اب حدیث حسن کی تعریف جاننا لازم ہے تاکہ حدیث ضعیف کی تعریف من کل الوجوہ مفہوم ہوسکے۔حدیث حسن کی تعریف میں ویسے تو علماء کے تین اقوال ہیں لیکن ان میں سے علامہ ابن حجر کی تعریف راجح ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ
''حدیث حسن" وہ حدیث ہے،جس میں درج ذیل شرائط کا وجود ہو۔
1:اس کی سند میں درمیان سے کوئی راوی نہ چھوٹا ہو، بلکہ وہ حدیث واسطہ در واسطہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ہو۔
2: اور اس کے تمام راوی ثقہ معتبر ومعتمد اور عادل ہوں، مگر اُن میں سے ایک یا متعدد راویوں کی حفظ و یادداشت میں کچھ کمی ہو۔
3:اس حدیث کا کوئی راوی حدیث بیان کرنے میں اپنے سے زیادہ قوی و معتمد راوی کی مخالفت بھی نہ کرتا ہو۔
4: نہ ہی اس حدیث میں کوئی علتِ خفیہ یعنی ایسا مخفی عیب ہو، جس سے اس حدیث کی صحت پر اثر پڑ رہا ہو۔
جیساکہ شیخ محمود الطحان نےاپنی کتاب میں لکھا:
تعريفه المختار: "هو ما اتصل سنده بنقل العدل الذي خف ضبطه، عن مثله إلى منتهاه، من غير شذوذ ولا علة".
ترجمہ:حدیث حسن کی پسندیدہ تعریف یہ ہے کہ جسکی سند شروع سے آخر تک متصل ہو، اسکے راوی عادل ہوں مگر یہ کہ ضبط میں کمی ہواور وہ حدیث نہ شاذ ہو اور نہ ہی اس میں علتِ خفیہ ہو۔(تیسسیر مصلح الحدیث: ص 58)
امام جرجانی التعریفات میں لکھتے ہیں :
الحسن من الحديث: أن يكون راويه مشهورا بالصدق والأمانة، غير أنه لم يبلغ درجة الحديث الصحيح؛ لكونه قاصرا في الحفظ والوثوق۔
ترجمہ:حدیث حسن یہ ہے کہ اسکے راوی صدق و امانت میں مشہور ہوں مگر یہ کہ وہ حدیث صحیح کے درجے کو نہ پہنچے کیونکہ اس میں راویین کے حفظ و وثوق میں کمی ہوتی ہے ۔(التعریفات:ج 1 ص 87)
حدیث ضعیف کی مثالیں:
1:امام ترمذی رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنی سنن میں یہ روایت ذکر فرمائی ہے:
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَادُ بْنُ سَلَمَةِ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ،
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ»
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: 'جوکسی حائضہ کے پاس آیایعنی اس سے جماع کیا یاکسی عورت کے پاس پیچھے کے راستے سے آیا، یاکسی کاہن نجومی کے پاس (غیب کاحال جاننے کے لیے)آیا توا س نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد (ﷺ) پر نازل کی گئی ہیں۔(ترمذی حدیث نمبر: 135)
وجہِ ضعف:
امام بخاری رحمہ اللہ تعالٰی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا کہ اس کی سند میں حکیم الاثرم راوی ہے اور علماء نے اسے ضعیف قرار دیاہے۔ اسی طرح امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالٰی نے اس راوی کے بارے میں فرمایا کہ اسکے ضبط میں کمی ہے۔ جبکہ غیر مقلدوں کے محدث البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
2: ترمذی میں ہی ایک حدیث ہے جسکو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے :
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ المُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ المَوْتِ، وَالعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ»
ترجمہ:شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کرلے اورموت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز وبے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگادے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے ۔(ترمذی حدیث نمبر 2459)
وجہِ ضعف:
محدثین نے فرمایا کہ اس حدیث میں ابو بکر بن عبداللہ بن ابو مریم راوی ضعیف ہے کیونکہ اس کو نسیان کی بیماری تھی۔
ضعف کے اسباب و وجوہات:
حدیث کے ضعیف ہونے کے اسباب کتنے ہیں؟ اس میں اختلاف ہے ۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے دو بڑے اسباب شمار فرمائے اس بقیہ کو ان میں ہی داخل جانا۔ چناچہ وہ فرماتے ہیں:
ومُوجِبُ الردِّ: إِمَّا أَنْ يكونَ لسقطٍ مِن إسنادٍ، أو طعنٍ في راوٍ،
ترجمہ: اور ضعف کو واجب کرنے والی دو چیزیں ہیں یا تو اسناد میں سقط ہوگا یا پھر راوی میں طعن ہوگا۔(نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکرص 218)
علامہ جرجانی رحمہ اللیہ تعالٰی نے اسباب ضعف کی تفصیل یوں فرمائی:
وضعفه يكون تارة؛ لضعف بعض الرواة، من عدم العدالة، أو سوء الحفظ، أو تهمة في العقيدة، وتارة بعلل أخر، مثل الإرسال والانقطاع والتدليس.
ترجمہ:اور ضعف کبھی بعض راویین کے ضعیف ہونے کے سبب ، کبھی انکے عادل نہ ہونے کے سبب، کبھی حافظے کی کمزوری کے سبب ، کبھی عقیدہ تہمت کے سبب اور کبھی دیگر علتوں مثلا انقطاع، تدلیس وغیرہ کے سبب ہوتا ہے۔( التعریفات: ج 1 ص 138)
امام صنعانی نے ضعف کے درج ذیل اسباب بیان فرمائے ہیں:
فالضعيف لہ ستة أسباب:أحدها: عدم الاتصال" "وثانيها: عدم عدالة الرجال" "وثالثها: عدم سلامتهم من كثرة الخطأ وكثرة
الغفلة" "ورابعها: عدم مجيئه من وجه آخر حيث كان في الإسناد مستور لم تعرف أهليته وليس متهما بالكذب" "وخامسها: الشذوذ"."وسادسها: العلة"
ترجمہ: ضعیف ہونے کے چھ اسباب ہیں: 1: عدم اتصال،2:راویوں کا عادل نہ ہونا، 3: راوی کثیر طور پر غلطی کرنے والا اور روایت میں غفلت برتنے والا ہو۔4:کسی دوسری سند سے اس حدیث کی تایید نہ ہوبایں طور کہ سند میں کوئی مستور الحال ہو جسکی اہلیت کا علم نہ ہو اور ہی وہ متھم بالکذب ہو، 5: شاذ نہ ہو، 6: اس میں کوئی خفی علت نہ ہو۔( توضيح الأفكار لمعاني تنقيح الأنظار ج 1 ص 224)
خلاصہ کے طور پر ہم ان شرطوں کے مفقود ہونے کا اثر ذکر کرتے ہیں کہ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو حدیث پر کیا اثر رونما ہوگا۔ چناچہ پہلی شرط مفقود ہو تو درج ذیل اقسام وجود میں آئیں گی۔
1:معلق ، 2: مرسل، 3 : منقطع، 4:معضل، 5:مدلس ،6: معنعن قبل ثبوت السماع 7: مؤنن قبل ثبوت السماع
دوسری شرط مفقود ہو تو درج ذیل اقسام وجود میں آئیں گی۔
1:موضوع، 2:متروك ،3:منكر،4 :ضعف بسبب عدم تحقق المروء،5: ضعف بسبب كون روايه مبتدعا،6: مجهول والمبهم حيث لم يعرف كل منهما ولم تثبت العدالة لهما
تیسری شرط مفقود ہو تو درج ذیل اقسام وجود میں آئیں گی۔
1: متروک، 2: مضطرب، 3: مدرج، 4: مقلوب، 5: مصحف
چوتھی شرط مفقود ہو تو حدیث ضعیف درجہ حسن کو پہنچ جائے گی۔ یونی وہ دیگر احادیث اسکے مشاہد بن جائیں گی۔
پانچویں شرط مفقود ہو تو درج ذیل اقسام وجود میں آئیں گی۔
1:شاذ 2: منکر
چھٹی شرط مفقود ہو تو درج ذیل اقسام وجود میں آئیں گی۔
1: معلل 2: معضل
اب اس تفصیل کو دیکھئے پھر ان لوگوں کا محاسبہ کیجیے جو ضعیف ضعیف کی رٹ لگاتے ہیں کیا انہیں ضعیف کی ان اقسام کا علم ہے یقینا نہیں بلکہ اگر وہ اس مضمون کو پڑھیں تو شاید انہیں ان ناموں کا ہی پہلی بار علم ہوگا تو کس اعتماد سے یہ حدیثوں کو رد کرتے پھرتے ہیں۔ان اقسام میں سے محض ایک قسم مدلس کو لیجیے اور اسکی چھان پھٹک کریں تو حدیث کی امہات الکتب یعنی صحیحین (بخاری و مسلم ) تک ان اقسام سے محفوظ نہیں چہ جائیکہ دیگر کتب کی بات کی جائے۔چناچہ ڈاکٹر فیض احمد چشتی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
مُدَلَّسْ حدیث کوروایت کرنےوالامُدَلَّسْ کہلاتاہے،وہ احباب جوہربات پرصحیح بخاری سےحوالہ طلب کرتےہیں اوراس کےسواکسی کونہیں مانتےان کےلئےعرض کرتاچلوں کہ صحیح بخاری کے80راوی ایسےہیں جومحدثین کےمعروف معیار کےمطابق مُدَلِّسِيْن ہیں یعنی جن کےاندرسقط خفی ہے۔ مرادیہ کہ کوئی ایساانقطاع ہےکہ جس کوآسانی کےساتھ کوئی عام آدمی پڑھ کرجائزہ نہیں لےسکتا۔ ایک ماہراور متخصص فی الفن کوہی پتہ چل سکتاہےکہ انقطاع کی نوعیت کیاہے؟ کیا روایت کرنےوالااسکا شاگردتھایانہیں؟لقاءوسماع کاثبو ت ہےیا نہیں؟ تدلیس کالفظ اندھیرےسےہے۔ مرادآسانی سےانقطاع معلوم نہیں ہوتا۔ اس طرح صحیح مسلم کےرواۃ میں بھی مُدَلِّسِيْن ہیں مگراسکے باوجودصحیح بخاری وصحیح مسلم کی وہ تمام احادیث جو مُدَلِّسِیْن رواۃ سے روایت ہیں، احادیث صحیح کہلاتی ہیں۔ کیوں؟اسلئےکہ وہ راوی معتبر،ثقہ،احفظ،اورصاحب اتقان ہیں۔ نیز امام بخاری کاان پراعتمادہےاورہماراامام بخاری پراعتمادہے۔ مُدَلِّسِيْن کےدرجات مقرر کئےگئے ہیں کہ کس کس درجہ کے لوگ مُدَلِّسِیْن ہیں۔ بخاری شریف میں 39 مُدَلِّسِیْن مرتبہ اولیٰ و ثانیہ کے ہیں۔۔۔ 29 مُدَلِّسِيْن مرتبہ ثالثہ اور رابعہ کے ہیں اور بخاری شریف کی ان کل احادیث کی تعداد جن میں رواۃ مُدَلِّسِيْن ہیں 6272 ہے۔ گویا ساری بخاری شریف میں تدلیس آجاتی ہے یعنی یہ احادیث ایسے رواۃ سے روایت ہیں جن کے ہاں کسی نہ کسی طرف سے تدلیس ہے۔ مدعائے کلام یہ ہے کہ تدلیس ایک ضعف اور کمزوری ہے مگر امام بخاری اس کو خاطر میں نہیں لائے، چونکہ امام بخاری کی تحقیق میں وہ سارے معتبر و معتمد ہیں اور تابعین و تبع تابعین ہیں اس تدلیس کے ضعف کے باوجود وہ تمام احادیث صحاح ہیں۔ سمجھانا مقصود یہ تھا کہ ضعیف ہونے کا کہیں ایک سبب یا ضعیف پڑھ لیا کہ ’’یہ راوی مُدَلَّسْ ہے اور روایت مُدَلَّسْ ہے لہذا حدیث ضعیف ہے ہم نہیں مانتے‘‘ یہ اتنی جاہلانہ، ظالمانہ اور فتنہ پرور بات ہے کہ پورے دین کی بنیاد کو ہلادینے کے مترادف ہے۔ اس طرح تو صحیح بخاری و مسلم شریف بھی نہیں بچ پاتی اور یہ صرف صحیح بخاری و مسلم کی بات نہیں بلکہ مُدَلِّسِيْن وہ جلیل القدر تابعین و تبع تابعین ہیں کہ اگر آپ ان کے نام سنیں تو دنگ رہ جائیں۔(ڈاکٹر فیض احمد چشتی، بعنوان ضعف یا اسباب ضعف اتنی ہنگامہ خیز شے نہیں جو بسبب جہالت بنادیا گیا ہے، غیر مطبوعہ،ماخذ انٹرنیٹ)
حدیث ضعیف کا حکم:
حدیث ضعیف علمائے حدیث کے نزدیک مختلف فیہ رہی ہے۔ جمہور علما و محدثین اور فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ عقائد اور احکام وغیرہ میں احادیث ضعیفہ مقبول نہ ہونگی، البتہ فضائل اعمال، مغازی، سیر،اور ترغیب و ترہیب کے باب میں ان احادیث کو قبول کیا جائے گا،اسی کے پیش نظر بڑے بڑے نقاد و حفاظ نے ان ابواب میں ضعفاء سے بھی حدیثیں قبول کیں، اور یہ آج کی پیدا وار نہیں، اس بات کو تو خیر القرون کے بڑے بڑے علمائے حدیث نے بھی تسلیم کیا ہے، چنانچہ دوسری صدی کے امام و حافظ سفیان بن سعید ثوری ، عبد اللہ بن المبارک ، سفیان ابن عیینہ ،اوردوسری ،تیسری صدی کے امیر المؤمنین فی الحدیث یحی بن معین،رحمہم اللہ اسی فکر کے علمبردار تھے، اور یہی فکر صحیح بھی ہے۔ مگر ’ناصر الدین البانی‘ اور اس کے جیسے بعض متأخرین کو یہ صحیح فکر راس نہ آئی، اور احادیث ضعیفہ کو اپنے تشدد و تعنت کا شکار بنایا، اور بہت ساری ضعیف حدیثوں کو موضوع قرار دید یا، جو یقینا خطا اور بے جا تعنت کے سوا کچھ نہیں۔ دور حاضر میں بھی بعض علما کواس تشدد کی ہوا لگ گئی اور وہ ضعیف و منکر پر فضائل کے باب عمل کرنے سے منع کرنے لگے، جن کی فکر ’البانی‘ کے شذوذ و تشدد سے خفیف ضرور ہے مگر اس تعنت کے لوا کا حامل ضرور ہے۔
حدیث ضعیف کے حکم کے حوالے سے ازہار احمد مصباحی حفظہ اللہ تعالٰی کے مضمون سے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں جس سے اہل ہوش و خرد، اصحاب حل و عقداور دیگر حضرات انہیں دلائل کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ احادیث ضعیفہ اور کثرت خطا وغیرہ کی وجہ سے شدید ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا غلط ہے یا صحیح؟؟
چناچہ لکھتے ہیں:
احادیث ضعاف پر عمل کرنے کے تعلق سے چار مذاہب ہیں :
پہلا مذہب:جمہور علما و محدثین کے نزدیک احادیث ضعاف فضائل کے باب میں معتبر ہیں ، بلکہ امام نواوی رحمہ اللہ نے اس پر اجماع کا قول نقل کیا ہے، اس مذہب کی دو فرعیں ہیں:
فرع اول: احادیث ضعیفہ جو موضوع کے قبیل سے نہیں وہ فضائل اعمال میں بغیر کسی قید کے مطلقا مقبول ہونگی ، اکثر علما اسی کے قائل ہیں امام نواوی رحمہ اللہ اور دیگر بہت سارے محدثین نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے'' عدم ضعف شدید'' کی شرط سے مقید نہیں کیاہے۔
فرع ثانی:موضوع کے علاوہ احادیث ضعیفہ پر مطلقا عمل نہیں کیا جائے گا ، بلکہ اس کے لئے چند شرطوں کا تحقق ضروری ہے ،اس کے
قائل حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ہیں ۔ شرط اول:راوی میں ضعف شدید نہ ہو ، لہذا کذاب، یا جس پر جھوٹ کی تہمت لگی ہو، یا وہ شخص جو غلطی زیادہ کرتا ہو، اگر کسی حدیث کو تنہا روایت کر ے تو فضائل کے باب میں بھی اس کی حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا ، علامہ صلاح الدین علائی رحمہ اللہ نے اس شرط پر اتفاق کا قول کیا ہے، شرط ثانی:حدیث ضعیف کسی معمول بہ اصل کے تحت داخل ہوتی ہو ، شرط ثالث: احتیاط کے طور پر اس حدیث ضعیف پر عمل کرے اور اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھے۔
دوسرا مذہب :بعض دیگر علما کی رائے یہ ہے کہ فضائل اعمال و ترغیب و ترہیب اور احکام وغیرہ میں احادیث ضعاف پر مطلقا عمل نہیں کیا جائے گا ، اس رائے کے ماننے والے امام ابو بکر بن العربی و ابن حزم ظاہری رحمہما اللہ ہیں۔
تیسرا مذہب:بعض علما اس بات کے قائل ہیں کہ اگر احادیث ضعیفہ کا ورود ،محلِ احتیاط میں ہو تو اس پر عمل کرنا بہترہے ۔
چوتھا مذہب:احادیث ضعاف احکام میں قیاس پر مقدم ہونگی ،اس کے قائل امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ ہیں، یعنی اگر کسی مسئلہ میں صحیح حدیث نہ ہو اور اس کے جواز اور عدم جواز میں احادیث ضعاف اور قیاس کے درمیان اختلاف ہو تو احادیث ضعاف پر عمل کریں گے اور قیاس کو چھو ڑ دیں گے، ان کے علاوہ ،امام اعظم ابو حنیفہ،امام مالک بن انس،اور امام محمد بن ادریس شافعی رحمہم اللہ کا بھی بعض احادیث ضعیفہ پر عمل رہا ہے۔یہاں ان مذاہب پر قدرے تفصیلی گفتگو کروں گا ۔
پہلا مذہب :جس کی دو فرعیں ہیں، فرع اول: کے ماننے والے علما اور ان کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں :
1:امام نووی رحمہ اللہ ''الاذکار''میں فرماتے ہیں : علما و محدثین اور فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ :حدیث ضعیف اگر موضوع نہ ہو تو فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے باب میں اس پر عمل کرنا مستحب ہے۔
2:امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی متعدد تصانیف میں فضائل کے باب میں احادیث ضعاف معتبر ہونے کے
بارے میں ''عدم ضعف شدید'' کی قید کے بغیر محدثین اور دیگر علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔
3:صاحب الحلیۃ شرح المنیۃ فرماتے ہیں: حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں عمل کرنا درست ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ اس کا انحطاط موضوع کی حد تک نہ ہو، اور یہی جمہور کا مذہب ہے ۔
4:خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : محدثین وغیرہ کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہلی برتنا، موضوع کے علاوہ
ضعیف حدیثوں کی روایت کرنا، اورفضائل اعمال وغیرہ میں ان پر عمل کرنا جائز و درست ہے ، البتہ اس طرح کی حدیثیں صفات باری تعالیٰ اور حرام و حلال کے باب میں معتبر نہ ہونگی ۔
5:امام زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : محدثین کی عادت ہے کہ وہ احکام و عقائد کے علاوہ فضائل اعمال وغیرہ میں احادیث ضعاف میں تساہلی سے کام لیتے ہیں ، اس شرط کے ساتھ کہ وہ حدیثیں موضوع نہ ہوں ۔
6:امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ:''اگر کوئی ایسا راوی جس پر جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہو ، یا غفلت اور کثرت خطاء کی وجہ سے حدیث میں ضعف ہو، اور پھر وہ کسی حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہو، تو اس کی حدیث قابل احتجاج نہیں''۔ان کی مراد اس قول سے یہ ہے کہ: ایسے اوصاف سے موصوف رجال کی حدیثیں احکام شرعیہ میں معتبر نہیں ، البتہ اگر اس قسم کے راوی ترغیب و ترہیب میں راویت حدیث کریں تو معتبر ہو گی چنانچہ بہت سارے ائمہ اعلام نے اس کی رخصت دی ہے۔
7:امام سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : حرام و حلال میں احادیث انہیں لوگوں سے اخذ کروجو اس فن کے امام ہیں ، جو زیادتی اور کمی کو خوب جانتے ہیں ،ہاں اگراحادیث مسائل حرام و حلال سے ہٹ کر فضائل اعمال وغیرہ سے ہوں، تو مشائخ سے روایت کرنے اور ان سے احادیث لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
8:امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ''عبدۃ''نے ہم سے روایت کی وہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ کی بات ہے، امام عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ نے کسی شخص سے حدیث روایت کی، تو آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص تو ضعیف ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: اس طرح کی روایتیں اس سے لی جا سکتی ہیں۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے’ عبدۃ‘ سے پوچھا وہ کس طرح کی روایتیں تھیں تو انھوں نے فرمایا : ادب ، موعظہ اور زہد کے بارے میں تھیں ۔
9:امام ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : موضوع کے علاوہ فضائل اعمال میں واردحدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا۔
10:حافظ المغرب امام ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تمام محدثین فضائل میں اس حد تک تساہلی کرتے ہیں کہ اس باب میں ہر ایک سے حدیثیں لے لیتے ہیں، ہاں اگر حدیثیںاحکام میں ہوتی ہیں تو اس میں تشدد سے پیش آتے ہیں۔
11:امام علامہ علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :علماء کا اتفاق ہے کہ ضعیف حدیث پر جن کا ورود فضائل اعمال میں ہو ا ہے عمل کیا جائے گا۔
12:امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ہم احکام میں حدیثیں روایت کرتے ہیں تو اس میں شدت، اور فضائل و غیرہ میں تساہلی
سے کام لیتے ہیں ۔
13:اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر فسق وغیرہ کی وجہ سے راوی متروک ہو اور ساتھ ہی وہ کذب سے بری ہو تو اس کی حدیث احکام میں معتبر نہیں ہوگی، ہاں فضائل کے باب میں راجح یہی ہے کہ اس کی حدیث مطلقا مقبول ہوگی اگر چہ وہ اس حدیث کے روایت کرنے میں منفرد ہو، اور بعض کے نزدیک تعدد طرق کے بعد قابل اعتبار ہوگی۔
ان علمائے حدیث کے علاوہ دیگر علما و محدثین کے اسماء جو فضائل اعمال وغیرہ میں موضوع کے علاوہ حدیث ضعیف کو بغیر کسی شرط کے مطلقا معتبر مانتے ہیں، یا یہ کہ ان کے اقوال میں’عدم ضعف شدید ‘ کی شرط مذکور نہیں، اور وہ یہ ہیں: امام ابن مہدی ، ابن معین ، سفیان ابن عیینہ ، ابو داود صاحب السنن، عبد الغنی نابلسی، شہاب الدین خفاجی مصری ، ابو طالب مکی، ابن تیمیہ، زین الدین عراقی ،بدر الدین زرکشی، ابن حجر مکی، ابو زکریا غبری رحمہم اللہ وغیر ہم۔ میں نے طوالت کے خوف سے یہاں صرف نام شمار کرنے پراکتفا کیا ہے ،ان کے اقوال کی مزید تفصیل کے خواہاں حضرات ان کتابوں کی طرف رجوع کریں: شرح علل الترمذی،تدریب الراوی،الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ،نسیم الریاض،شرح المشکاۃ لابن حجر المکی،الخلاصۃفی احکام الحدیث الضعیف، فتح المغیث للعراقی،فتح المغیث للسخاوی،قوت القلوب،الھاد الکاف وغیرہ۔
پہلے مذہب کی فرع ثانی:حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرما تے ہیں: ترغیب و ترہیب میں وارد شدہ احادیث ضعاف پر مطلقا عمل کرنا جائز نہیں،ان پر عمل کرنے کے لئے تین شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ شرط اول: راوی میں ضعف شدید نہ ہو ، لہذا کذاب، یا جس پر جھوٹ کی تہمت لگی ہو، یا وہ شخص جو غلطی زیادہ کرتا ہو، اگر کسی حدیث کو تنہا روایت کر ے تو فضائل کے باب میں بھی اس کی حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا ، علامہ صلاح الدین علائی رحمہ اللہ نے اس شرط پر اتفاق کا قول کیا ہے۔
اس شرط کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس پر تفصیلی کلام کیا جائے:
یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ علامہ علائی رحمہ اللہ کا صرف قول ملتا ہے جنہوں نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ''عدم ضعف شدید'' کی شرط لگاکر اس پر اتفاق کا قول کیا ہے،انہیں کے قول کو خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ نے ''تدریب الراوی''میں، اورامام سخاوی رحمہ اللہ نے ''القول البدیع'' میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔مجھے ان کے علاوہ کسی اور کا قول اس شرط کے ذکر کے ساتھ نہیں ملا، ہاں اس کے بر خلاف ا مام نواوی رحمہ اللہ جو علامہ علائی رحمہ اللہ سے متقدم ہیں، انہوں نے بغیر''عدم ضعف شدید'' کی قید کے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے بارے میں اجماع کا قول کیا ہے،نیز امام نواوی رحمہ اللہ نے اپنی کسی کتاب میں اس شرط کا ذکرنہیں کیا، بس اسی پر اکتفا کیا کہ حدیث ضعیف فضائل میں ہوتو اس پر عمل کیا جائے گا، چنانچہ خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ فرما تے ہیں:ابن الصلاح رحمہ اللہ نے'' مقدمہ'' میں اور امام نواوی رحمہ اللہ نے اپنی ساری کتا بوں میں حدیث ضعیف پرعمل کرنے کے لئے صرف ایک شرط ذکر کی ہے، اور وہ یہ کہ فضائل کے باب میں ہو وبس۔حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے اگر ''عدم ضعف شدید''کی شرط ہوتی تو ابن الصلاح اورامام نواوی رحمہما اللہ اور دیگر محدثین و ناقدین اس شرط کے ذکر کرنے کا التزام ضرور کرتے ، کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ محدثین کا کسی شرط پراتفاق ہو اور وہ اس کے موقع و محل پر بیان کرنے سے گریز کریں۔
لہذا کیا علامہ علائی رحمہ اللہ کے اس اتفاق کے قول پر اتفاق کیا جا سکتا ہے؟ اگر گہرائی، گیرائی اور دقت نظر ی سے دیکھا جائے تو حقیقت یہی کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان کے قول سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ قبول کیا جا سکتا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کر نے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اس کی چند وجوہات ہیں :
پہلی وجہ:مذہب اول کی فرع اول کے بڑ ے بڑے محدثین و فقہائے کرام و علمائے عظام کے اقوال و آراء اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ احادیث ضعاف فضائل کے باب میں اگر موضوع نہ ہو تو بغیر کسی شرط و قید کے معتبر ہیں ۔
دوسری وجہ :اسی طریقہ کار پر محدثین وغیرہ کا اجماع بھی ہے جیسا کہ امام نواوی رحمہ اللہ نے اسی کی طرف بغیر ''عدم ضعف شدید'' کی قید کے اپنی مصنفات میں اشارہ فرمایا ہے ۔
تیسری وجہ :علامہ علائی رحمہ اللہ نے اگر چہ اس شرط پر اتفاق کا قول نقل کیا ہے ، مگر ان کا عمل خود اس شر ط کے خلا ف ہے ، چنانچہ علامہ علائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : راوی ''الحکم بن سعید سعدی ''کو ''امام ابو الفتح محمد بن حسین ازدی''وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام بخاری فرماتے ہیں : وہ '' منکر الحدیث '' ہیں، پھر بھی اس راوی کی روایت کو '' زکریا بن منظور '' کی روایت کے لئے متابع مانا جا سکتا ہے۔
دور جدید کے محققین توجہ فرمائیں، اما م المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''الحکم بن سعید سعدی''منکر الحدیث ہیں، جس کا معنی عموما یہی سمجھا جاتا ہے کہ جس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ منکر الحدیث فر مادیں ، اس سے حدیث روایت کر نا جائز نہیں، جیسا کہ ان کی طرف یہ قول منسوب بھی ہے ، چہ جائے کہ اس کو کسی راوی کی حدیث کے لئے متابع ما نا جائے ،مگر امام المحدثین کی اس جرح کے با وجود بھی ، حافظ علائی رحمہ اللہ نے ''الحکم بن سعید سعدی'' کی روایت کو ''زکریا بن منظور '' کی روایت کے لئے متابع مانا ۔
چوتھی وجہ :جب ہم امام ابن حجر رحمہ اللہ کے نقد و کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ کا عمل اپنی
ذکر کردہ شرط کے خلاف ہے، چنانچہ بعض احادیث کے بارے میں جس کا راوی غلط فاحش کا شکار ہوتا ہے ، بلکہ موضوعات روایت کرنے سے متہم ہوتا ہے، اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں : فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے باب میں ان کی حدیث قابل عمل اورمعتبر ہے ،محض دعوی نہ رہے اس لئے ذیل میں اس کی مثال پیش خدمت ہے :
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مصنف ''مسند ''میں فضیلت عسقلان کے بارے میں ایک حدیث روایت کی ہے، جس کی سند میں ایک راوی''ابو عقال ہلال بن زید '' ہیں ان کی ایک حدیث کو امام عبد الرحمن بن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی موضوعات میں شمار کیا ہے، کیونکہ مذکور راوی کے بارے میں ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :''ابو عقال ہلال بن زید ''حضرت انس رضی اللہ عنہ سے موضوع حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ تعقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ حدیث فضائل اعمال اور رباط پر تحریض کے لئے ہے، اور اس حدیث میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو شرعا یا عقلا محال ہو ، لہذا اس حدیث کو صر ف ا س وجہ سے باطل کہنا کہ اس کے راوی ''ابو عقال '' ہیں درست نہیں، خاص طور سے اس صورت میں جبکہ معروف ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فضائل میں تساہل کے قائل ہیں۔
اسی''ابو عقال ہلال بن زید ''کے بارے میں امام بن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا : ''متروک ''ہیں، اور ان کے نزدیک متروک وہ ہے جو متہم بالکذب ہو۔
قارئین کرام غور فرمائیں، ان تمام جرح و قدح کے بعد بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا :یہ حدیث فضائل اعمال میں ہے اس لئے اس پر بطلان کا حکم لگانا درست نہیں ،اس سے صاف واضح ہے کہ آپ ’متہم بالوضع ‘ کی روایت کو فضائل میں معتبر مانتے ہیں چہ جائے کہ وہ غلط فاحش میں مبتلا ہو ۔
پانچویں وجہ:جن بعض محدثین کرام نے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ سے یہ عبارت نقل کی ہے ان کا عمل بھی خود اس شرط کےخلاف
ہے:چنانچہ جب ا بن الجوزی رحمہ اللہ نے، حدیث انس رضی اللہ عنہ:''ستفتح علیکم بالآفاق''۔ الحدیث'' فضل قذوین'' کو اپنی کتاب ''الموضوعات'' میں ذکر کی اور اس پر نقد فرمایا کہ:اس کی سند میں ایک راوی ''داود بن المحبر''وضاع ہیں، اور دوسرے ''الربیع بن صبیح''ضعیف، اور تیسرے ''یزید
بن ابان'' متروک ہیں۔
ان کے اس کلام پر خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ، جنہوں نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ''عدم ضعف شدید'' ہونے کی شرط کو اپنی کتاب'' تدریب الراوی''میں ذکر کیا ہے، تعقب کرتے ہوے فرماتے ہیں:ابن ما جہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی'' سنن'' میں ذکر کیا ہے، اور امام مزی رحمہ اللہ''تہذیب الکمال''میں فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ، ''داود'' کے علاوہ کسی اور کی روایت سے معروف نہیں، اور منکر ضعیف کی قسم سے ہے جو فضائل میں محتمل ہوتی ہے۔یہ مثال ان محققین کے لئے ہے جو منکر الحدیث کو انتہائی شدید ضعیف مانتے ہیں ، ورنہ میرے نزدیک اس کے قائل کی طرف نظر کرتے ہو ئے منکر الحدیث کے متعدد مراتب ہیں۔
امام سخاوی رحمہ اللہ نے بھی حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ''عدم ضعف شدید ''ہونے کی شرط کو اپنی کتاب''القول البدیع''میں ذکر کیا ہے، اور اس پر امام علائی رحمہ اللہ کے اتفاق کا قول بھی نقل فرمایا ہے۔ اس کتاب کے محقق ''محمد عوامہ''اس پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس اتفاق کے دعوی پر نظر طویل ہے، اللہ جل شانہ سے امید کرتا ہوں کہ جلد ہی کسی مناسب مقام پر اس پر تفصیلی کلام کرنے کا موقع عنایت فرمائے،اور پھر رہنمائی فرمائی کہ خود مصنف سخاوی رحمہ اللہ کا عمل اس شرط کے خلاف ہے، چنانچہ امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''حدیث دعاء الحاجۃ بہت ضعیف ہے،فضائل اعمال میں لکھی جائے گی''۔
یہ پانچوں وجہیں بہترین شاہد عدل ہیں میرے اس قول پرکہ :''علامہ ابن حجر اورعلامہ صلاح الدین علائی رحمہما اللہ کے قول سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ قبول کیا جا سکتا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کر نے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو''۔ نیز کم از کم یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر راوی کی کثرت خطا،غفلت یا فسق کی وجہ سے حدیث شدید ضعیف ہو تو بھی وہ حدیث فضائل کے باب میں مقبول ہوگی ۔
دوسر امذہب : چند علما و محدثین اس بات کے قائل ہیں کہ ترغیب و ترہیب اور احکام وغیرہ کسی بھی باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز نہیں ، اس رائے کے قائلین کے اسماء یہ ہیں :امام یحی بن معین ، ابو بکر ابن العربی،ابن حزم ظاہری اور مسلم بن الحجاج رحمہم اللہ ۔
ابن سید الناس رحمہ اللہ نے ’عیون الاثر ‘ میں امام یحی بن معین رحمہ اللہ کی طرف اس قول کو منسوب کیا ہے۔گویا کہ ان کے حدیث ضعیف کے تعلق سے دو مختلف اقوال ہیں ، ایک یہ کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے، جیسا کہ مذہب اول کی فرع اول میں گزرا ، اور دوسرا یہ کہ حدیث ضعیف فضائل و احکام وغیرہ کسی میں بھی معتبر نہ ہو گی ، مگر پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ وہی قول جمہور محدثین و فقہاء کی آراء کے موافق ہے ۔
ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اگر حدیث کی سند میں کوئی ایسا راوی ہو جس پر جرح کذب یا غفلت یا مجہول الحال ہونے کی وجہ سے
کی گئی ہو تو اس کی روایت لیناہمارے نزدیک جائز نہیں ہے ۔
امام عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن العربی رحمہ اللہ نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے سے مطلقا منع فرمایا ہے۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آپ بھی حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے قائل تھے۔
امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح کے مقدمہ میں جو منہج اختیار کیا ہے ،اس سے یہی ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ترغیب و ترہیب کی حدیثیں انہیں سے لے سکتے ہیں جن سے احکام کی حدیثیں لی جاتی ہیں۔یعنی جس طرح احکام حلال و حرام کے راویوں کا ثقہ ، ثبت یا صدوق ہونا ضروری ہے، اسی طرح ترغیب و ترہب کے راویوں کا بھی ان اوصاف حمیدہ سے متصف ہونا ضروی ہے ۔ بس یہی دو تین محدثین :ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ حدیث ضعیف پر بالکل عمل نہیں کیا جائے گا، اور مسلم ابن الحجاج صاحب الصحیح کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔
اگر امام نووی رحمہ اللہ کے قول کو لیا جائے،اور یہ مان لیا جائے کہ فضائل اعمال وغیرہ میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا اجماع فقہاو محدثین سے ثابت ہے،تو ان دو تین محدثین کے اقوال جو منع کے قائل ہیں، اس باب میں معتبر نہ ہونگے، اور اگر کوئی اس بات پر اتفاق نہ کرے تو کم از کم اسے اتنا ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ جماہیر علما و محدثین اس بات کے قائل ہیں کہ احادیث ضعیفہ فضائل کے باب میں معتبر ہیں، اور ظاہر ہے کہ جمہور علما کا غلطی سے بعید ہونا اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ دو تین علما کا غلطی سے قریب ہونا ، یہی وجہ ہے کہ آج تک علمائے کرام دو چند کے شذوذ کا اعتبار نہ کئے، اور جمہور علما کے نقش قدم پر قائم و دائم رہے،اور یہی عقلمندی اور دانشمندی ہے۔(ماہنامہ ااشرفیہ مبارک پور انڈیا، دسمبر 2013،ازہار احمد مصباحی،بعنوان محدثین کی نظر میں حدیثِ ضعیف ایک تجزیاتی مطالعہ، ص 36 تا 48)
خلاصہءِ کلام:
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے تعلق سے مختلف مذاہب ہیں:
پہلا مذہب جس کی دو فرعیں ہیں:فرع اول: محدثین اور فقہائے کرام کا اجماع یا کم ازکم جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ ضعیف حدیث اورکثرت خطا وغیرہ کی وجہ سے ضعیف شدید حدیث پر عمل کرنا جائزو مستحسن ہے۔فرع ثانی:امام علائی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اور اس پر اتفاق کا قول کیا ہے، مگر اس شرط پراتفاق کا قول غیر مقبول ہے، کیونکہ امام نواوی رحمہ اللہ اور دیگر ڈھیر سارے محدثین کی آراء جنہوں نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ’عدم ضعف شدید‘ کی قید نہیں لگائی ہے ،اس اتفاق کے قول کو مخدوش کردیتی ہے، نیز خود امام علائی ،ابن حجرعسقلانی، جلال الدین سیوطی اور سخاوی رحمہم اللہ جنہوں نے یہ قیدیا شرط ذکر کی ہے ان کا عمل اس کے خلاف ہے ۔دوسرا مذہب: دو تین علمائے کرام اس امرکے قائل ہیں کہ حدیث ضعیف پر مطلقا عمل کرنا درست نہیں۔مگر راجح اور صحیح جمہور ہی کا مذہب ہے۔
لہذا جس نے بھی ''حدیث ضعیف'' یا ''شدید ضعیف''پر عمل نہ کرنے کی رغبت دلائی وہ اپنی اس فکر میں خاطی اور غیر مصیب ہے۔پھر مزید یہ کہ اس ضمن میں منہج علمی سے انحراف کرکے علمائے کرام پر جملے کسنایا احادیث ضعیفہ شدیدہ اور غیر شدیدہ کو موضوعات سے شمار کر نا یا اس سے دست بردار ہونے کی رغبت دلانا یا تشدد و تعنت برتنا یا اس کے لئے راہ ہموار کرنا یقیناغیر سلیم ہے۔ہم ان متشددین کی موافقت نہیں کرتے جو ضعیف حدیث اور کثرت خطا وغیرہ کی وجہ سے ضعیف شدید حدیث کو موضوع قرار دیتے ہیں یا اس پر عمل کرنے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں امت مسلمہ بہت سارے فضائل سے محروم ہوجائے گی۔ بلکہ میں افراط و تفریط سے دور مسلمانوں کو وسطیت اور اعتدال اپنانے کی دعوت دیتا ہوں،وہ اس طرح کہ احادیث صحیحہ پر عمل کرنے کا التزام کریں اور ساتھ ہی ضعیف حدیثوں میں وارد فضائل پر بھی توجہ دیں تاکہ ان کے فوائد سے محروم نہ ہوں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ ادعو اللہ تعالی ان یاخذ بایدینا الی طریق الرشاد و یمنحنا التوفیق و النجاح فی الدنیا والآخرۃ۔آمین یا رب العالمین۔
