ماہِ ربیع االال آتے ہی مخالفین کی جانب سے عوامِ اہل سنت کاذہن بھٹکانے کے لئے مختلف قسم کے حیلے و حربے اختیار کئے جاتے ہیں ، تاکہ عوام الناس کو میلاد شریف کی برکات سے محروم رکھا جاسکے ۔ ان میں سے ایک دھوکہ یہ ہے کہ ماہِ ربیع اولال کے ابتدائی ایام میں یہ بات مشہور کی جاتی ہے کہ نبی کریمﷺ کی تاریخ ِ ولادت 12 ربیع الاول نہیں بلکہ 5 ربیع الاول ہے جبکہ بعض اوقات 8 ربیع الاول یا 12 کے علاوہ کسی بھی تاریخ کا قول کردیا جاتا ہے اور دلیل کے طور پر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ بات ہم نہیں بلکہ اِنکے اپنے مسلک کے امام ، مولانا احمد رضا بریلوی نے کہی ہے ، اور حوالہ کے طور پر فتاوٰی رضویہ کے بعض صفحات دکھا دیئے جاتے ہیں۔
جبکہ حقیقتِ حال بالکل اسکے متخالف و متصادم ہے ، اللہ کریم ایسے غدر و دھوکے سے عوامِ اہل سنت کو محفوظ رکھے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ سیدی اعلٰی حضرت نے اس موضوع پر ایک رسالہ بنام '' نطق الہلال بارخ ولاد الحبیب والوصال'' تحریر فرمایا جوکہ فتاوٰی رضویہ کی جلد 26 میں ص 405 (مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) پر موجود ہے۔ اور اس رسالہ میں آپ نے حضور ﷺ کی تاریخِ ولادت و وفات کے حوالے سے تحقیقی بحث فرمائی ہے۔آپکی تاریخِ ولادت کے بارے میں علماء کے 7اقوال ذکر کئے ہیں ، یعنی دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس۔ ان اقوال کو ذکر کرنے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ یومِ ولادت 12 کو ہی منایا جائے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں: تعامل ِمسلمینِ حرمین شریفین و مصر وشام بلاد اسلام و ہندوستان میں بارہ ہی پر ہے ۔ اس پر عمل کیا جائے۔ ( فتاویٰ رضویہ ، ج 26 ، ص 427 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: اس(ولادت کی تاریخ کے بارے) میں اقوال بہت مختلف ہیں: دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات (7) قول ہیں ، مگر اشہر و اکثر و مأخوذ و معتبر بارہویں ہے۔ مکۂ معظّمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولِد اقدس کی زیارت کرتے ہیں ۔ کما فی المواھب والمدارج (جیسا کہ مواھب لدنیہ اورمدارج نبوۃ میں ہے) اورخاص اس مکانِ جنّت نِشان میں اسی تاریخ میں مجلسِ میلادِ مقدّس ہوتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 411)
کسی محقق کی آدھی بات اٹھاکر پروپیگنڈا کرنا اور اسکے سیاق و سباق کو ترک کردینا ، نہ یہ دیکھناکہ اس محقق نے کس قول کو قولِ مشہور و معتبر قرار دیا اورکس تاریخ کو یومِ ولادت منانے کی تاکید فرمائی ، اپنے اشعار و اقوال میں کس تاریخ کو یومِ ولادت کی طرف منسوب فرمایا بدنیتی و بددیانتی ہے ۔ افتومنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض۔ ترجمہ: کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ (البقرہ:85 )
