ابو امیر خسرو سید باسق رضا
بعض لوگ معاشرے میں اس وقت تک کسی نئے طریقے یا کام کو قبول نہیں کرتے جب تک وہ خود اس کی ضرورت محسوس نہ کریں۔ جب وہ خود کسی مسئلے سے دوچار ہوں، تو اچانک وہی طریقہ ان کے نزدیک قابلِ قبول بن جاتا ہے جو کل تک ان کے لیے ناقابلِ فہم یا غیر ضروری تھا۔ لیکن جب دوسرا کوئی انسان وہی طریقہ اپنانے کی کوشش کرے تو یہ لوگ اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اس پر اعتراضات کرتے ہیں، اور اسے غلط ٹھہرانے میں دیر نہیں لگاتے۔
جب کوئی شخص کسی نئے کام کا آغاز کرتا ہے، تو اسے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہے حوصلہ افزائی۔ اگر آپ کو وہ کام سمجھ نہیں آ رہا، یا آپ کو وہ طریقہ اجنبی محسوس ہو رہا ہے، تب بھی خاموش رہ کر کم از کم اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ہر نیا کام فوراً سمجھ میں آ جانا ضروری نہیں، لیکن مخالفت کرنا، طنز کرنا یا اسے کم تر دکھانا بھی مناسب نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے وہی نیا کام کسی دن ایک عام طریقہ بن جائے۔
ہر انسان کا انداز، فہم اور ترقی کا مرحلہ مختلف ہوتا ہے۔ کوئی جلدی سمجھتا ہے، کوئی دیر سے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنی سطح پر آگے بڑھنے کا حق حاصل ہے۔ دوسروں کو ان کے سفر میں روکے بغیر آگے بڑھنے دینا ہی معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نہ صرف دوسروں کی کوششوں کو سراہیں، بلکہ اگر ممکن ہو تو ان کی مدد بھی کریں، تاکہ ان کا کام سنورے اور وہ مزید بہتری کی طرف بڑھیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بعض لوگ خود جدت اختیار کر لیتے ہیں، لیکن دوسروں کو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر آپ کسی نئی ٹیکنالوجی، کسی خودکار نظام یا نئے فکری انداز کو اپنا چکے ہیں، تو دوسروں کو اس میں پیچھے رکھنے کا کیا جواز ہے؟ معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب ہم دوسروں کو بھی وہی مواقع دیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
اسی کے ساتھ یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ بعض اوقات جدید طریقے اپناتے ہوئے انسان اپنی قدرتی صلاحیتوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ ہر چیز خودکار ہو جائے تو سہولت ملے گی، وہ ان کاموں سے بھی ہاتھ اٹھا لیتا ہے جن میں اس کی ذہنی و جسمانی مشق اور فطری مہارتیں پنپتی ہیں۔ مثلاً ٹائپنگ کا عمل—جب انسان خود اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے یا ٹائپ کرتا ہے تو اس کے حافظے، توجہ اور ربطِ خیال کی مشق ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ صرف آواز ریکارڈ کر کے یا خودکار نظام سے کام لینے لگے تو یہ سہولت بظاہر فائدہ مند دکھائی دیتی ہے، مگر آہستہ آہستہ اس کی تحریری صلاحیتیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
یہاں انسان کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر نئی آسانی واقعی مفید ہے؟ اگر کوئی جدید طریقہ ہماری محنت کی عادت، ہماری توجہ، یا ہمارے تخلیقی جوہر کو کم کر رہا ہے، تو بہتر ہے کہ ہم رک کر جائزہ لیں۔ ہر ترقی ضروری نہیں کہ ہماری فطری قوتوں کے لیے بھی سودمند ہو۔ جس ترقی سے مہارتیں ماند پڑ جائیں، وہ دراصل ایک خاموش زوال ہے، چاہے وہ بظاہر سہولت ہی کیوں نہ ہو۔
چنانچہ جب ہم جدت کی طرف بڑھیں تو یہ بھی دیکھیں کہ اس جدت میں ہم کیا پا رہے ہیں اور کیا کھو رہے ہیں۔ اگر کھونا زیادہ ہے اور وہ بھی ایسی چیزیں جو انسان کی بنیاد بنتی ہیں، تو پھر رک جانا عقلمندی ہے۔ ترقی وہی فائدہ مند ہے جو انسان کی انسانیّت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھائے، نہ کہ اسے مشین کا پرزہ بنا دے۔
اس تحریر کا مقصد تنقید نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے رویے سے کسی کے لیے رکاوٹ تو نہیں بن رہے؟ کیا ہم کسی نئے راستے پر چلنے والے کے حوصلے کو تو نہیں توڑ رہے؟ اگر ہم واقعی تبدیلی اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر برداشت، وسعتِ نظر، اور حوصلہ افزائی کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے
