عصرِ حاضر کے جدید تجارتی معاملات کی روشنی میں سود کی ممانعت اور حلال روزی کے حصول کی تاکید
عدنان علی کیانی
سب تعریفیں اس رب العالمین و معطئ بمنعم کے لیے ہیں جس نے ہر ذی روح و غیر ذی روح کو عدم سے وجود عطاء فرمایا نیز انسان کو حلال کی تلاش و اختیار کرنے اور حرام سے اجتناب کرنے کا حکم دیا۔
درود و سلام ہو آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات پر جنہوں نے اپنے روشن فرامین کے ذریعے تاقیامت آنے والے نئے نت مسائل کا حل عطاء فرما کر شکوک و شبہات سے احتراز کی تاکید فرمائی اور بیشمار سلام ہو آپ کے آل و اصحاب پر جنہوں نے اپنی حیات میں احکاماتِ الہی و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری فرما کر دارین کی سرخروئی حاصل کی۔
حلال روزی کے حصول کی تاکید:
جس طرح دیگر عبادات فرض ہیں(نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرھم) اسی طرح حلال و طیب رزق کمانا بھی فرض ہے اور تمام عبادات کی قبولیت، ان کے ذوق و شوق کا دارومدار حلال و طیب رزق پر منحصر ہے، خواہ ذرائع آمدن تجارت کی صورت میں ہوں یا نوکری کی صورت میں ہوں الغرض اللّٰہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال و طیب کمانے اور خرچ کرنے کی جابجا ترغیب دلائی اور حرام بلکہ شکوک و شبہات میں مبتلاء کرنے والی چیزوں سے احتراز کا فرمایا گیا بلکہ یہاں تک فرمایا گیا اس شخص کی دعائیں ( جو عبادات کا مغز ہیں) بھی مقبول نہیں ہوتیں جس کی آمدن حلال نہیں۔
اور آج معاشرے کے معاشرے تباہی و ہلاکت کا اسی لئے شکار ہیں کہ انہوں نے اپنے ذرائع آمدن حلال و طیب رکھنے کے بجائے حرام اختیار کر لیے ہیں اور انہیں حلال سمجھا جا رہا ہے۔
یہاں مختصر نصوص پیش کی جاتی ہیں۔
جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں حلال رزق کھانے
کی بابت ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(168)
ترجمہ: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
اسی طرح اللّٰہ کی راہ میں قرآن حلال رزق کو ہی خرچ کرنے کی تعلیم دیتا ہے:
وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(267)
ترجمہ: (اللہ کی راہ میں ) کچھ خرچ کرو اور خرچ کرتے ہوئے خاص ناقص مال (دینے) کا ارادہ نہ کرو حالانکہ (اگر وہی تمہیں دیا جائے تو) تم اسے چشم پوشی کئے بغیر قبول نہیں کروگے اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ، حمد کے لائق ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں حلال روزی کو تلاش و طلب کرنا فرض قرار دیا:
جیسا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیگر فرائض کے بعد کسب حلال کی تلاش بھی فرض ہے۔
اسلامی معیشت اور عصرِ حاضر کے جدید تجارتی معاملات کی روشنی میں سود کا حکم اور ممانعت:
قرآن و حدیث میں اس کے لیے لفظ "ربا" استعمال ہوا ہے جبکہ دیگر زبانوں میں اس کے لیے مختلف الفاظ ملتے ہیں۔
جیسا کہ اردو میں اسے سود کہا جاتا ہے۔
عربی می ربا زیادتی، بڑھوتی اور اضافے کو کہتے ہیں۔
اصطلاحی تعریف:
الربا: ھو الفضل الخالی عن العوض المشروط فی البیع۔
ترجمہ: ربا وہ مشروط اصافہ ہے جو بیع کے معاملے میں کسی عوض کے بغیر حاصل کیا جاتا ہے۔
المبسوط السرخسی، کتاب البیوع، الربا۔
مختصر پسِ منظر:
قرآن کریم نے سود کی مذمت، نقصانات اور برائیاں مختلف مقامات پر بیان فرمائی اور اسی طرح ربا کا لفظ مختلف صورتوں میں قرآن مجید کے اندر بیس جگہ آیا ہے۔
قران مجید کے اندر حرمت سود کا صریحی اور قطعی حکم سب سے آخر میں نازل ہوا اور بالخصوص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو آخری ایت نازل ہوئی وہ سود کی حرمت والی آیت تھی۔
حرمتِ سود کے چار مراحل:
سود کی حرمت (حرام ہونا) براہ راست نازل نہیں ہوئی بلکہ مختلف دور کے اندر نازل ہوتی رہی اور معاشرے کی برائیوں کو سامنے رکھتے ہوئے سود کا حکم نازل ہوا۔
پہلا مرحلہ:
ابتداء میں سود کی مذمت کو بیان کیا گیا اور معاشرے میں اس کے متعلق پھیلے ہوئے غلط نظریے اور عقیدے کا رد کیا گیا اور وہ غلط عقیدہ یہ تھا کہ سود لینے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔
جیسا کہ فرمایا گیا:
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ۔
سورة الروم (39)
ترجمہ: اورجومال تم (لوگوں کو) دو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے تو وہ الله کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم الله کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال) بڑھانے والے ہیں۔
دوسرا مرحلہ:
اس مرحلے کے اندر سود کو بطورِ ظلم معاشرے کے اندر پیش کیا گیا اور اسے نسلِ انسانیت پر بدترین مظالم میں سے ایک ظلم گردانہ گیا جو قومِ یہود کیا کرتی تھی اور اس کی وجہ سے سود خوروں کو کیا سزا دی گئی اسکی بات ارشاد ہوا:
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ۔ سورة النساء (160)
ترجمہ: تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا۔
تیسرا مرحلہ:
اس مرحلے میں زمانہ جاہلیت میں رائج سود کی بدترین شکل کو بیان کیا گیا جس میں سود پر بھی سود وصول کیا جاتا تھا۔
جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۔ سورہ آل عمران (130)
ترجمہ: اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔
چوتھا مرحلہ:
یہ سب سے اہم و ضروری مرحلہ تھا جس میں سود کو واضح، قطعی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا گیا۔
اس مرحلے میں سود کی قطعی حرمت کے متعلق پانچ آیات نازل ہوئی، جس میں سے پہلی تین آیات سود کھانے والے شخص کی ذہنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے سود سے متعلق کفار کے عقیدے کو باطل قرار دیا گیا ہے۔ اور انہی آیات میں جن چیزوں سے مال میں اضافہ ہوتا ہے، ان کو زکوۃ اور صدقات کے عنوانات سے بیان کیا گیا ہے۔
پہلی تین آیات:
ارشاد باری تعالیٰ:
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(275)
یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ(276) اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(277)
ترجمہ: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مَخبوط بنادیا ہو یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکربڑا گنہگار ۔ بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم.
دیگر دو آیات:
درج ذیل دو آیات میں سود کی حرمت کو شدید مذمت کے پیرائے میں ذکر کیا گیا کیونکہ انہی آیات میں سود کا ارتکاب کرنے والوں کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ باقاعدہ اعلان جنگ قرار دیا:
اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(278)
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(279)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم ایمان والے ہو تواللہ سے ڈرو اور جو سودباقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔
پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو اور اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے اپنا اصل مال لینا جائز ہے۔ نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اورنہ تمہیں نقصان ہو۔
نوٹ: مذکورہ سب آیات سود کی حرمت، مذمت، خرابیوں اور بربادیوں اور وعیدات پر دلالت کرتی ہیں نیز احادیث مبارکہ میں بھی اسکی مذمت و حرمت کو بیان کی گیا جو دراصل ربا کی ایک دوسری قسم ہے جسے ربا کی اقسام میں بیان کیا جائے گا۔
یہاں صرف چند وہ احادیث ذکر کی جاتی ہیں جس میں سود سے متعلق سخت سے سخت وعیدات بیان ہوئیں:
چناچہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
1) ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ رضی اللّٰہ عنہ، ﻗﺎﻝ: ﻟﻌﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺁﻛﻞ اﻟﺮﺑﺎ، ﻭﻣﺆﻛﻠﻪ، ﻭﻛﺎﺗﺒﻪ، ﻭﺷﺎﻫﺪﻳﻪ، ﻭﻗﺎﻝ: ﻫﻢ ﺳﻮاء۔
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ھیکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اوراُس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اوریہ فرمایا: کہ وہ سب برابر ہیں۔
صحیح مسلم، کتاب المساقاة، باب: لعن آکل۔ الربا ومؤکلہ، حدیث۔ ١٠٦
2) ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ:اﻟﺮﺑﺎ ﺳﺒﻌﻮﻥ ﺣﻮﺑﺎ، ﺃﻳﺴﺮﻫﺎ ﺃﻥ ﻳﻨﻜﺢ اﻟﺮﺟﻞ ﺃﻣﻪ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: سود (کا گناہ) ستر حصہ ہے، ان میں سب سے کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔
سنن ابنِ ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، حدیث ٢٢٧٤
3) ﻋﻦ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﺑﻦ اﻟﺼﺎﻣﺖ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: اﻟﺬﻫﺐ ﺑﺎﻟﺬﻫﺐ، ﻭاﻟﻔﻀﺔ ﺑﺎﻟﻔﻀﺔ، ﻭاﻟﺒﺮ ﺑﺎﻟﺒﺮ، ﻭاﻟﺸﻌﻴﺮ ﺑﺎﻟﺸﻌﻴﺮ، ﻭاﻟﺘﻤﺮ ﺑﺎﻟﺘﻤﺮ، ﻭاﻟﻤﻠﺢ ﺑﺎﻟﻤﻠﺢ، ﻣﺜﻼ ﺑﻤﺜﻞ، ﺳﻮاء ﺑﺴﻮاء، ﻳﺪا ﺑﻴﺪ، ﻓﺈﺫا اﺧﺘﻠﻔﺖ ﻫﺬﻩ اﻷﺻﻨﺎﻑ، ﻓﺒﻴﻌﻮا ﻛﻴﻒ ﺷﺌﺘﻢ، ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻳﺪا ﺑﻴﺪ۔
ترجمہ: عباده بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: سونا بدلے میں سونے کے اور چاندی بدلے میں چاندی کے اور گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور جَو بدلے میں جَو کے اور کھجور بدلے میں کھجور کے اور نمک بدلے میں نمک کے برابر برابر اور دست بدست بیع کرو اور جب اصناف میں اختلاف ہو تو جیسے چاہو بیچو (یعنی کم و بیش میں اختیار ہے) بشرطیکہ دست بدست(نقد) ہوں۔
نوٹ: جبکہ ایک روایت میں زیادہ لین دین کو سودی معاملہ قرار دیا۔
ربا کی اقسام:
ربا/سود کی دو اقسام ہیں:
1)ربا النسیئہ اسے ربا القرآن بھی کہا جاتا ہے۔
ربا النسیئہ یہ ادھار کا سود کہلاتا ہے کیونکہ لغت میں النسیئہ ادھار کا کہا جاتا ہے۔
چونکہ یہ وہ سود ہوتا ہے جو دَین(کسی انسان کے ذمے واجب الاداء قرض، مبیع کی قیمت، کروائے دار پر غیر ادا شدہ اجرت)
پر کیا جاتا ہے۔
قاضی ابو بکر رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی ربا کے متعلق بیان کردہ تعریف:
ربا اھل الجاهلية وهو القرش المشروط فيه الأجل وزيادة مال على المشروط:
ترجمہ: ربا جاهليہ سے مراد وہ کر دے جس میں مقروض پر وقت اور قرض کی رقم پر خاص اضافے کی شرط عائد کی گئی ہو۔
احکام القرآن للجصاص۔
2) ربا الفضل، اسے ربا الحدیث بھی کہتے ہیں۔
حدیث میں جو چھ اشیاء بیان کی گئی وہ ربا الفضل میں داخل ہیں جیسا کہ اس پہلے حدیث نمبر3 میں وہ اشیاء بیان ہوئی۔
لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ تبادلہ اشیاء کے معاملے میں فقط وہی چھ چیزیں کافی نہیں بلکہ ان چھ اشیاء کے علاوہ میں بھی جب سود کا سبب/Reason پایا جائے گا تو سود کا حکم ہو گا اور وہ علت/سبب ہم جنس اور ہم قدر ہونا ہے۔ مثلاً: زید نے خالد کو ایک کلو کھجوریں دی اور اور جب خالد زید کو کھجوریں واپسی لٹائے تو ایک کلو کھجوریں واپس کرے لیکن! وہ کھجوریں دست بدست یعنی نقد ہوں اور برابر ہوں۔
پہلی شرط: دست بدست ـــــــــــــــــــ> نقد یعنی اسی وقت، فی الفور،
دوسری شرط: برابر ـــــــــــــــــ> کمی بیشی نہ ہو جیسے ایک کل کے بدلے ایک کلو۔
سو مذکورہ مثال میں حکمِ سود اس وقت لاگو ہو گا جب علت(ہم جنس اور ہم قدر) نہیں پائی جائے گی۔
وعلی ھذا القیاس بقیہ اشیاء کا حکم ہو گا۔
ربا/ سود کا حکم:
ربایعنی سود حرام قطعی ہے اس کی حرمت کا منکر کافر ہے اور حرام سمجھ کر جواس کامرتکب ہے فاسق مردودالشہادۃ ہے۔
عصرِ حاضر کے جدید تجارتی معاملات کی روشنی میں سود کی ممانعت:
آج کے جدید اور ترقی پذیر دور میں سود فقط نجی قرضوں اور فزیکلی ہم جنس اشیاء کے تبادلے کی صورتوں تک محدود نہیں رہا خواہ وہ انفرادی صورت میں ہو یا اجتماعی صورت میں ہو بلکہ یہ مختلف مالی معاملات میں بھی پایا جاتا ہے جس سے اگاہ ہونا ضروری ہے۔
بطورِ نمونہ کے چند ایک مثالیں:
بینکوں کے سودی قرضے
کریڈٹ کارڈ پر تاخیر سے ادائیگی کا سود
سودی بچت اکاؤنٹس
فکسڈ ڈپازٹ پر سود لینا
روایتی بانڈز
سودی مائیکروفنانس اور فنانسنگ اسکیمیں
مذکورہ بالا اشیاء سب کی سب سود میں داخل ہیں۔
نوٹ: سود کی لعنت سے خود بھی بچیں اور اپنی نسل کو بھی بچائیں۔
بیع غرر کا حکم:
01) ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ: أﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﻬﻰ ﻋﻦ ﺑﻴﻊ اﻟﻐﺮﺭ۔
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع فرمایا۔
سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی بیع الغرر
02) ایک اور مقام پر پانی کی اندر موجود مچھلی کو خریدنے منع فرمایا:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مرویہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا پانی میں موجود مچھلی کو نہ خریدو کیونکہ یہ غرر ہے۔
مسند احمد
اسی بنیاد پر قاضی ابو بکر الجصاص، علامہ قرطبی شیخ ابن عربی رحم اللہ تعالی نے غرق کے ذریعے مال کمانے کو باطل لکھا ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
