عدنان علی کیانی
مدرّس جامعہ فیضان مصطفی مدینہ مسجد کو رنگی
اہم تقاضہ "حصولِ علم"
اس دنیا میں جتنے بھی ادیان موجود ہیں ان اہلِ مذہب سے اس کا مذہب کچھ نہ کچھ تقاضا ضرور کرتا ہے تاکہ اہل مذاہب کو اس مذہب کے ظاہری و باطنی دونوں طرح سے ثمراتِ
مفیدہ حاصل ہو سکیں یوں ہی عالمگیر، آفاقی لاریب مذہبِ اسلام کا بھی ہر خاص و عام سے تقاضے و مطالبات ہیں کہ بندہِ مومن قبولِ اسلام کے بعد دین اسلام پر ہمیشہ عمل پیرا رہے اور اپنی دنیا اور آخرت کو فہم و فراست سے راہِ نجات بنا سکے سو ان تقاضوں میں سے بنیادی، اخلاقی، تربیتی، من الظلمات الہ النور رہنمائی کرنے والا رکن حصولِ علم ہے جس کا آغاز غارِ حرا کی پرکیف وادیِ حرا سے بذریعہ وحیِ خدا قلبِ مصطفی بصورتِ علم کے ہوا شاہد ہی علمِ دین کی اہمیت و افادیت سے کوئی ناآشنا ہو، ذیل میں حصولِ علم کے حوالے سے بنیادی چیزیں ذکر کی جائیں گی جس سے اس کی اہمیت مزید واضح ہو جائے گی۔
تعارفِ علم کسی بھی چیز سے واقفیت سے قبل اس کا تعارف اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ اس شئی کی بابت جاننا مزید آسان ہو جائے سو علم کی تعریفات مختلف اعتبارات سے الگ الگ کی گئی ہیں:علامہ راغب اصفہانی علیہ الرحمہ المفردات میں قلمطراز ہیں کہ:
ادراک الشئی بحقیقته:
یعنی کسی بھی چیز کی حقیقت کو پہچانا علم کہلاتا ہے۔
میر سید شریف الجرجانی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں کہ:
صفة راسخة تدرك بها الكليات والجزئيات
علم ایک ایسا پختہ/مضبوط وصف ہے کہ جس کی بدولت تمام کلیات و جزئیات کو ادراک ہو جاتا ہے۔
کتاب التعریفات للجرجانی، ص 199، ناشر: دار البیان للتراث۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں فضیلتِ علم:
اس دنیا کے اندر بے شمار علوم و فنون پڑھے اور پڑھائے، سیکھے اور سکھائے جارہے ہیں لیکن جس علم کو اہمیت و فضیلت حاصل ہے وہ کوئی اور علم نہیں! بلکہ علمِ دین ہے جس کے لا تعداد فضائل و برکات ہر ایک باعمل اہل علم محسوس کرتا ہے دنیا میں آج تک بے شمار علوم و فنون سیکھانے کا سلسلہ برابر جاری وساری بلکہ نہ تھمنے والا ایک سلسلہ ہے کسی بھی علم و فن کو وہ کامل اعزاز و کمال حاصل نہیں جو علم دینی کو حاصل ہے کیونکہ یہ علمِ دین ہی کا جداگانہ طرہِ امتیاز ہے یہ وصف جس ذات کے ساتھ متصف ہو جائے اسے عالم دین بنا دیتا ہے، اسے معرفتِ حقیقی اور عالم بالا کی سیر کرواتا ہے جس پر قرآن و حدیث کی متعدد آیات و روایات شاہد ہیں۔ اور بمطابق مفہومِ روایت کہ (ایک باعمل عالم کا رات بھر سونا ایک عابد کا رات بھی قیام کرنے افضل ہے)۔
ﻋﻦ ٱﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﻗﺎل: ﻗﺎل ﺭﺳﻮل اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ وﺳﻠﻢ:ﻃﻠﺐ اﻟﻌﻠﻢ ﻓﺮﻳﻀﺔ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﻣﺴﻠﻢ۔
سنن ابنِ ماجہ، حدیث224، ناشر: دار احیاء الکتب العربیہ۔
حضرتِ انس بن مالک رضی اللّٰہ روایت فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔
حضرتِ ملا علی قاری علیہ اس حدیث کی ذیل میں مختلف تعبیرات کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ:
وقيل: هو طلب علم الباطن وهو ما يزداد به العبد يقيناً وهو الذي يكتسب بصحبة الصالحين والزهاد المقربين فهم وراث الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين.
طلبِ علم دین سے مراد علمِ باطن کو طلب کرنا ہے جس کے ذریعے بندہ کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا حصول سلف صالحین اور مقربین کی سرکار سے ہوتا ہے اور وہ(الف صالحین و باعمل علماء) حضرات انبیاء کے وارث ہیں رضوان اللہ علیہم اجمعین
مخلصا، مرقاة الفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ص434، اشر: دار الکتب العلمیہ
امام اہلسنت علیہ الرحمہ مزید تشریح فرماتے ہیں:
حدیث طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم ومسلمۃ (ہرمسلمان مرد وعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ت)کہ بوجہ کثرت طرق وتعدّد مخارج حدیث حسن ہے اس کا صریح مفاد ہرمسلمان مردوعورت پر طلبِ علم کی فرضیت تو یہ صادق نہ آئے گا مگر اس علم پر جس کا تعلم فرض عین ہو اور فرض عین نہیں مگر ان علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو ان کا اعم واشمل واعلٰی واکمل واہم واجل علم اصول عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنّی المذہب ہوتاہے اور انکارو مخالفت سے کافر یابدعتی، والعیاذ باﷲ تعالٰی سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں، پھرعلم مسائل نماز یعنی اس کے فرائض وشرائط ومفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کرسکے،پھر جب رمضان آئے تو مسائل صوم،مالك نصاب نامی ہو تو مسائل زکوٰۃ،صاحب استطاعت ہو تو مسائل حج،نکاح کیاچاہے تو اس کے متعلق ضروری مسئلے،تاجر ہو تو مسائل بیع وشراء، مزارع پرمسائل زراعت،موجرومستاجر پر مسائل اجارہ،وعلٰی ھذا القیاس ہر اس شخص پر اس کی حالت موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرض عین ہے اور انہیں میں سے ہیں مسائل حلال وحرام کہ ہرفردبشر ان کا محتاج ہے اور مسائل علم قلب یعنی فرائض قلبیہ مثل تواضع واخلاص وتوکل وغیرہا اور ان کے طرق تحصیل اور محرمات باطنیہ تکبر وریا وعُجب وحسد وغیرہا اور اُن کے معالجات کہ ان کا علم بھی ہرمسلمان پر اہم فرائض سے ہے جس طرح بے نماز فاسق وفاجر ومرتکب کبائر ہے یونہی بعینہ ریاء سے نماز پڑھنے والا انہیں مصیبتوں میں گرفتاہے نسئل اﷲ العفو والعافیۃ (ہم اﷲ تعالٰی سے عفووعافیت کاسوال کرتے ہیں) تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں وبس۔
فتاوی رضویہ، ج23، ناشر: رضا فاؤنڈیشن۔
اہمیتِ علم
علمِ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کی اول وحی تعلقِ علم کے حوالے سے نازل ہوئی اور پھر جس شخصت پر نازل ہوئی انہیں تعلیم و تعلم کا معلمِ اعظم بنا کر بھیجا اور اسی طرح اہمیّت علم کو مد نظر رکھتے ہوئے بیشمار سلف صالحین نے اپنی کتب کا آغاز ہی علم اور تعارفِ علم وغیرہ سے فرمایا جیسا کہ امام غزالی علیہ الرحمہ کی مشہورِ زمانہ کی "احیاء العلوم" حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی کتاب "کشف المحجوب" کا آغاز علم سے ہوا۔
اسلام کی پہلی درس گاہ
آغازِ دورِ اسلام کے موقع پر مسجد نبوی میں نئے مسلمان ہونے والے حضراتِ اصحابِ رسول کے لیے جس چیز کا سب سے پہلے اہتمام کیا گیا وہ اسلام کی پہلی علمی بنیاد اور درس گاہ جسے ہم سب "صفہ" کے نام سے یاد کرتے ہیں اور آج بھی لوگ اس نام سے اپنے اداروں کا نام رکھنا فخر محسوس کرتے ہیں الغرض اس درسگاہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آنے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کا از خود اہتمام فرمایا کرتے اور کچھ تربیت یافتہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کام کے لیے منتخب بھی فرمایا تھا تاکہ دین اسلام اور تحصیل علم اور اشاعتِ علم کا کام تیزی سے پھیل سکے نیز اس روحانی اور نورانی چبوترے پر نادار لوگوں کی پرورش، کھانے پینے کا انصرام بھی کیا جاتا جس سے یہ معلوم ہوتا ھیکہ آج بھی جن مدارس میں یہ دونوں(تعلم و تربیت اور پرورش) کا انتظام و انصرام موجود ہے وہ اسی فیضِ نبوی کا صدقہ ہے جو مسلسل مل رہا ہے۔ بحمد اللہ تعالیٰ۔
اور وہی فیضیاب صحابہ کرام نے دنیا کے کونے کونے میں علمی روشنی پھیلائی اور بلا منقطع آج بھی جاری وساری ہے۔
اقسامِ علمِ دین
مطلقاً علم کی بے شمار اقسام ہیں اگر بالخصوص علمِ دین کی بابت گفتگو کی جائے تو اس اعتبار سے اس کی دو اقسام ہے:
01) علمِ ظاہر
02) علمِ باطن
علم ظاہر کا تعلق علمِ شریعت سے ہے۔
جس کے ماخذ چار ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس
اور علمِ باطن کا تعلق اندر کی دنیا سے ہے جس پر اہلِ طریقت مسلسل گامزن رہتے ہیں اور منازل اور سلوک طے کرتے رہتے ہیں۔
چناچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو علم سیکھے ہیں، ایک علم وہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں اور دوسرا وہ ہے کہ اگر میں بیان کروں تو میری گردن کاٹ دی جائے۔
بخاری شریف، باب حفظ العلم، حدیث 120
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
علم کی دو اقسام ہیں، ایک علم دل میں ہے، وہ علم نفع مند ہے، اور ایک علم زبان پر ہے، وہ اللہ عزوجل کی ابن آدم کے خلاف حجت ہو گی۔ سنن دارمی 369۔
اس سے معلوم ہوتا ھیکہ یہ دونوں علوم اتنے گہرے ہیں کہ جو اس کی جستجو کرتا ہے وہ اتنا نصیب پا لیتا ہے۔
علمِ نافع
انسان علم تو حاصل کرتا رہے اور دل و دماغ کو معلومات سے بھر کے لیکن وہی علم نہ ہی اسکی ذات کی ارتقاء کا سبب بنے اور نہ ہی دوسرے لوگ اس سے مستفید ہو سکیں اور نہ ہی ایمان مضبوط ہو سکے سو یہ علم، علمِ مفید یا نافع نہیں بلکہ غیر نافع ہے جس ایک حد تک محدود ہے کیونکہ للّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زیادتی علم کی بصورتِ دعا تعلیم ارشاد فرمائی وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(طہٰ 114)
ترجمہ کنز الایمان: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ تمام انسانیت کے لیے "اسوہِ حسنہ یعنی عملی نمونہ" ہے(آج کی نئی نسل اس اہل دنیا کو اپنا رول ماڈل بنائے اور منانے میں لگی پڑی ہے) کہ آپ نے پہلے از خود عمل فرمایا لیے اسکی تعلیم ارشاد فرمائی۔
درمیانِ کلام جملہ معترضہ لیکن بالربط آگیا۔ الغرض آپ نے اس دعا پر اس طرح عمل کیا کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ میں ہمیں یہ دعائیں "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، الخ)، " اللھم انی اعوذبک من علم لا ینفع" مختلف روایات میں ملتی ہے اور درس دیتی ہے حصولِ علم کے ساتھ ساتھ علمِ نافع کی دعا مانگتے کرتے ہوئے اس علم پرعمل بھی کرنا ہے وہ علمِ مفید جو ہمیں باعمل، تاریکیوں سے نور، گمراہی سے ہدایت، زہد وتقویٰ آداب و اخلاقیات، حقوق اللہ و حقوق العباد کا لحاظ رکھنے والے بنائے۔ آمین
