زوہیب رضا
16 ذوالحج 1446ھ، 13 جون 2025 ء
بیگانے تو بیگانے آج اپنے بھی اس زعم میں مبتلا و گرفتار ہیں کہ حب علی در اصل بغض معاویہ کا نام ہے یعنی اگر کوئی شخص سیدی مولائے کائنات سے محبت کا دعویٰ دار ہے تو ضرور لازم کہ اس کا سینہ کینہ معاویہ سے لبریز ہو۔ بغیر اس کے اسکا دعویٰ محبت باطل و ساقط ہے جب تک اسکی زبان سے جناب معاویہ کے لیے نامناسب الفاظ جاری نہیں ہونگے اس وقت تک وہ حب علی کی سند سے محروم و نامراد رہے گا۔ حالانکہ یہ روافض کا شعار ہے یہی انکی اصل کلی ہے ہاں مگر ہم اہل السنہ اس سے بری ہیں ہمارا منہج واضح ہے کہ جناب امیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے جسقدر مشاجرات و منازعات دیگر اصحاب سے ہوئے خواہ مرد یا عورت ان تمام تر منازعات میں سیدی مولائے کائنات حق و صواب پر تھے اور آپکے جمیع مخالفین خطا پر تھے اور وہ خطا خطا اجتہادی تھی کہ ہمارے مسلمات سے ہے کہ " الصحابۃ کلھم عدول " کہ تمام صحابہ عادل تھے۔
یونہی ایک روش یہ چل پڑی کہ جناب اسد اللہ کے حق میں من گھڑت بے اصل و بے بنیاد روایات جن سے روافض کی کتب مملو ہیں اہل سنن میں بیان کی جانے لگیں سو جب انکی تردید ہوئی تو بعض علی کا نعرہ مار کر عوام کو متنفر کیا جانا لگا حالانکہ جناب مولائے کائنات کی شان ان بے اصل روایات کی محتاج نہیں بلکہ انہیں تو اتنا ہی کافی کہ سرکار دو عالم انکی مربی ہیں، اولین مسلمین میں سے ہیں، شب ہجرت حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے بستر مبارک پر براجمان فرمایا، خیبر کے موقع پر علم دیکر ارشاد فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو عَلم دوں گا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے ، ضرور جناب مولا کے حق میں اس قدر کثیر فضائل ہیں کہ کسی دوسرے کے حق میں نہیں لہذا ان فضائل کا بیان چاہیے ایسے من گھڑت فضائل جن کی نہ شرع میں اصل نہ اصول اہل سنت پر انکا انطباق ممکن سے احتراز لازم ہے ایسے فضائل کا انکار کرنے والا ہرگز مبغض علی نہیں بلکہ یہی راہ اعتدال ہے، جس طرح مبغض علی ہلاک ہے یونہی فضائل علی میں افراط کرنے والا بھی ہلاک ہے یہی وہ بات ہے جسے سرکار کائنات نے یوں بیان فرمایا : اے علی تمہارے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک مشابہت پائی جاتی ہے کہ ان سے یہود نے بغض رکھا حتیٰ کہ ان کی والدہ پر (بدکاری کی) تہمت لگائی۔ اور نصاریٰ نے ان سے انتہائی محبت کی‘حتیٰ کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام نہیں۔
سو معلوم ہوا فضائل علی کے باب میں ایسی منگھڑت و موضوع روایات صرف مفرط بیان کرے گا۔ نہ ہم مبغض کہ ہر فضیلت کے منکر ہوں اور نہ ایسے مفرط کہ جو ثابت شدہ نہ ہو اس پر ایسا ایمان رکھیں کہ اسکے خلاف کو محال یا کم از کم منکر کو مبغض مانیں ہمارا تو سیدھا راستہ ہے، سنت کا راستہ ، قرآن کا راستہ اللہ اور اسکے رسول کا راستہ۔
