گمراہی کا سفر

    محّمد یو نس انس القادری

    قرآن مجید میں ہر چیز کا بیان ہے: جیساکہ خالق کائنات نے خود فرمایا:تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍیعنی اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔(النحل: 89)

    اس میں کوئی چیزایسی نہیں جسکا بیان نہ ہو،کوئی مسئلہ ایسا نہیں جسکا حل نہ ہو مگر ہر مسئلہ کا حل اور ہر شی کا فہم ہر شخص نہیں کر سکتا،بلکہ اس کے لیے رجالِ خاص ہیں ۔اسی مفہوم کو قرآن نے یوں بیان کیا :وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ:اس کی سمجھ نہیں مگر عالموں کو۔( العنکبوت :43)

    اس لیے طالبانِ حق کو فرمایاکہ تم کسی مسئلہ میں الجھ جاؤ،کسی فقہی ،فنی یا تاریخی گنجلکعبارت میں پھنس جاؤ،کسی مسئلہ کی تحقیق تمہیں پریشان کر دے،بظاہر متضاد آیتیں یا حدیثیں پڑ ھ کرتمہارا سر چکرا جائے تو خود سے کوئی مؤقف اپنانے کے بجائےعلمائے ربانیین کی طرف رجوع کرو۔

    اسی لیے توفرمایا: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔(الانبیاء : 7)

    اب یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا علم والے کلام اللہ کو خود بہ خود سمجھ لینے پر قادر ہیں۔؟نہیں، ہر گز نہیں۔۔۔!سو جب تک سرورِ کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآنِ فہمی میں اپنا معلم ِکل نہیں مان لیتے قرآن نہیں سمجھ سکتے،یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آیت اترتی تو صحابہ کرام باوجود اہل زبان ہونے کے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر آیت کا معنی و مراد سمجھتے۔جیساکہ ارشاد خداوندی ہے: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ۔اے نبی ہم نے یہ قرآن تیری جانب اس لیے اتارا کہ تم لوگوں سے (اس کی)شرح بیان فرما دو جو کچھ انکی طرف اترا۔(النحل: 44)

    آخر الذکر دو آیتوں کے اتصال سے رب العالمین نے ترتیب وار سلسلہ فہمِ قرآن کو واضح فرما دیا کہ:اے بے علموں تم کلامِ خدا کے فہم میں علماء کی طرف رجوع کرو اور اے علماء تم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام دیکھو تو ہمارا کلام سمجھ میں آئے گا۔

    امام عبد الوھاب شعرانیرحمہ اللہ لکھتے ہیں:لو لا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصل بشریعۃ ما اجمل فی قرآن بقی علی عجالہ کما ان الائمۃ المجتہدین لو لم یفصلوا ما اجمل فی السنۃ لبقیت علی اجمالھا وھکذا الی عصرنا ھذا-ترجمہ :پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شریعت سے مجملات قرآن کی تفصیل نہ فرماتے تو قرآن یونہی مجمل رہتا اور ائمہ مجتہدین مجملاتِ حدیث کی تفصیل نہ کرتے تو حدیث یوں ہی مجمل رہتی اور اسی طرح ائمہ کے کلام کی بعد کے علمائے شرح نہ کرتے تو ہم اسے سمجھنے کی لیاقت نہ رکھتے۔( المیزان الکبریٰ ص :58)

    معلوم ہوا یہ سلسلہِ ہدایت رب العزت کا قائم کردہ ہے جو اس کے برعکس چلے،اور کہے کہ ''ہمیں قرآن کے فہم میں حدیثِ رسول کی ضرورت نہیں،یونہی حدیث کے فہم میں صحابہ کی تشریحات کی حاجت نہیں،ہم از خود قرآن سمجھ سکتے ہیں،تو وہ بے چارہ گمراہی کی راہ پڑا اسی لیے قرآنِ عظیم کے متعلق احکم الحاکمین ارشاد فرماتا ہے: يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا۔ اللہ تعالی اسی قرآن بہت سوں کو گمراہ کرتا ہے اوربہت سوں کو اس سے ہدایت دیتا ہے۔(البقرہ: 26)

    حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:سیاتی ناس یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللہ۔ ترجمہ:قریب ہے کہ کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو تم سے قرآن عظیم کے مشتبہ کلمات سے جھگڑیں گے تم انہیں حدیثوں سے پکڑو کہ حدیث والے قرآن کو خوب جانتے ہیں۔(سنن الدارمی، حدیث نمبر:121)

    اور مشہورمحدث حضرت سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ متوفٰی 198ھ فرماتے ہیں:الحدیث مضلۃ الا الفقہاء ۔ ترجمہ:فقہاء کی صحبت کے بغیر حدیث رستے سے ہٹا دینے والی ہے۔(کتاب الجامع للقیروانی ص:118)

    یہی مفہوم جناب لیث بن سعد مصری رحمہ اللہ متوفٰی 175ھ کا قول کا ہے:الحدیث مضلۃ الا العلماء۔ ترجمہ:علماء کی صحبت کے بغیر حدیث رستے سے ہٹا دینے والی ہے۔(ترتیب المدارک ج1ص96)

    لہذا جو ائمہ کرام کا دامن چھوڑ کر قرآن و حدیث سے از خود مسائل اخذ کرنا چاہے ،بہک جائے گا،اور جو حدیث چھوڑ کر صرف قرآن سے رہنمائی لینا چاہے گمراہی کے دلدل میں جا پھنسے گا۔

    اے طالبانِ حق ۔۔۔۔۔!

    خدارا لوحِ دل پر یہ بات نقش کر لو کہ جو کہے : ہم اماموں کا قول نہیں مانتے ،ہم خود قرآن و حدیث سے تمام تر مسائل اخذ کریں گے تو وہ شخص گمراہی میں ہے اور جو کہے کہ ہم حدیث نہیں مانتے ہمیں صرف قرآن کافی ہے تو جان لو یہ بد دین ہے۔۔۔!

    پہلا گروہ(جو کہتا ہے کہ ہم ائمہ کے فہم اور انکے اقوال کو نہیں مانتے)قرآن پاک کی آیت فاسئلوا اہل الذکر کا منکر ہے اور متکبر ہے۔اور دوسرا گروہ(جو کہتا کہ ہم حدیث رسول کو نہیں مانتے)دوسری آیت لتبین للناس مانزل الیھم کا منکر ہے۔۔۔۔۔!

    نگاہِ نبوت ملاحظہ فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں کا رد کیاچناچہ فرمایا : الا سالوا اذا لم یعلموا فانما شفاء العی السوال۔ کیوں نہ پوچھا جب نہیں جانتے تھے کہ جہالت کا علاج سوال ہے۔(ابو داؤود، حدیث نمبر :336)

    اور دوسرے گروہ کا رد بھی حدیث میں فرمایا:الا انی اتیت الکتاب ومثلہ معہ الا یوشک رجل شعبان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ ۔ترجمہ:خبردار !مجھےقرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اورچیزبھی دی گئی ہے ۔ عنقریب ایسےہوگا کہ ایک پیٹ بھرا( آسودہ حال )آدمی اپنےتخت پربیٹھاکہےگاکہ اسی قرآن کواختیارکرلو،جواس میں حلال ہےاسے حلال جانو اورجواس میں حرام ہےاسےحرام سمجھو ۔( ابو داؤود،حدیث نمبر 3050)

    اور ترمذی میں یہ الفاظ زائد ہیں : وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ۔ترجمہ:بلاشبہ جسے رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ۔(ترمذی ، حدیث نمبر :2664)

    رب کےقرآن کی طرف آؤمگرحدیث رسول کادامن تھامےہوئے،حدیثِ رسول کی طرف آؤمگرائمہ کےعَلَمِ امامت کےسائےتلے،ورنہ بہک جانایقینی ہے۔اللہم نور قلوبنا بالقرآن والحدیث واھدنا بھما بجاہ کریمنا خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم