ابو امیر خسرو سید باسق رضا
حسن کئی قسم کے ہیں، جن میں ظاہری و باطنی تمام اقسام شامل ہیں۔ یعنی وہ حسن جن کا احساس حواس خمسہ سے ہو جاتا ہے اور وہ حسن جسے صرف دل و روح محسوس کر پاتے ہیں۔
اور عشق ایسی پر اسرار کیفیت ہے جو عاشق کو اپنے عشق کے سوا ہر ایک سے آزاد کر دیتی ہے اور اسے خود کو فنا کی جستجو پر مجبور کردیتی ہے۔
قدرت کا اصول ہے کہ جہاں حسن ہوتا ہے اس کے عاشق لازم ہوتے ہیں۔
دین بھی حسن ہے اور اس کے عاشق صحابہ کے دور سے آج تک موجود ہیں۔
ہمارے دور میں جہاں قسم قسم کے لوگ دین بیزاری کے مختلف بہانے قائم کیے ہوئے ہیں، اسی دور میں ایسے دین کے عاشق بھی موجود ہیں کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور دل باغ باغ ہوتے ہیں۔
وہ دین (قرآن و حدیث) جو کہ عربی النسل لوگوں کے خطوں میں آیا، اس کی حمایت و نصرت میں عشق سے سرشار عجمی خواہ سندھی ہوں یا بلوچی، میمن ہوں یا پٹھان، پنجابی ہوں یا اردو بولنے والے، بلکہ پوری دنیا کے مختلف عجمی عاشق اپنی جان و مال حتی کہ عزت و آبرو کو بھی پیش کرنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔
یہ عشق نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ یہاں تو بے دین لوگ زبانوں اور نسلوں کے فرق میں ایک دوسرے کی مدد سے بھی کتراتے، جان چھڑاتے نظر آتے ہیں۔
رب کریم، اپنے دین کے سچے عاشقوں میں رکھے اور انہی میں موت دے۔ آمین
