امر باالمعروف ونہی عن المنکر اورامام ربانی علیہ رحمۃ الباری

    اس عالم آب و گل میں موت و حیات،وجود و زوال،ناسخ و منسوخ اورجدیدو قدیم ایک بہت بڑی حقیقت ہے ۔ جس کی تاریخ کی صدق و کذب ،تلخ و شیریں اور رطب و یابس پر مشتمل ایک طویل داستان ہے جس کی ایک جھلک تفہیم اور نصیحت کے لیئے پیش نظرہے ۔

    جب اِنَّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً[1] کی آواز میں نیابت و خلافت انسان کی مشیت ا لٰہی عزوجل ہوئی تو انسان تخلیق کے مراحل سے گزر کر اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ[2] کی صورت میں وجود پذیر ہوا اور وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا[3] کے الفاظ میں علم کی دولت پاکر مسجود ملائکہ بنا اور يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [4]کے حکم سے جنت کی حسین وادیوں میں قدرت کی کاریگری سے لطف پاتا رہا۔اور جب نزول آدم علیہ السلام ہوا تو زمین کے خزانوں کی کنجیاں اور اقتدار و اختیار کے رعب سے نوازا گیا حتی کہ بعض مخلوقات کو مسخر کر کے انسان ہی کے زیر بازو کردیاگیا۔

    لیکن !جوں جوں وقت گزرتا گےااللہ عزوجل کی یہ پیاری مخلوقوَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاّ لِیَعْبُدُوْنَ[5]کے تقاضوںکو بھلاتی گئی،اقتدار و اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھاتی گئی حتٰی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ خونِ نا حق کے قطروں سے زمین کی پیشانی سرخ کردی گئی۔اور آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد ایک وقت وہ آیاجب انسان اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھروں کے آگے ماتھا ٹیک رہا تھا،شریعت کی حدود و قیود مٹ چکے تھے،نفاذ شریعت تو کجا !شناخت شریعت بھی ممکن نہ تھی ۔ایسی صورت حال میں کائنات کا عظیم پروردگار اپنی بھٹکی ہوئی مخلوق کو راہ راست پہ لانے کے لئے اعظم الخلائق انبیاء علیھم السلام کو مبعوث فرماتا رہا۔تونبوت و رسالت کے آفتاب و مہتاب آتے گئے اور شریعت و طریقت کے نور سے ظلمت کدوں کو منور کر تے گئے،کج روؤں کو اعلی رویہ دیتے گئے،ظلم و جبر،دہشت و وحشت اورفسق و فجور کے خوگر انسانوں کو عدل و انصاف، اخلاق و آداب اور عبادات و ریاضت کا پیکر بناتے گئے۔

    لیکن! ایک نبی کے وصال کے بعدزمانہء فترت میں امت پہ نسیان غالب آتااورسرکشی کے مرتکب ہوکراحکامات دینیہ کو نہ صرف بھلا دےتے بلکہ تحریف و تبدیل کی نذرکردےتے۔ اوریہ سلسلہ نافرمانی ایک نبی کے وصال کے بعد دوسرے نبی کی بعثت تک رہتا.......لیکن اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو سب سے الگ شان عطاء فرمائی کہ اسلام کے آفتاب کو طلوع ہوئے چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اوریہود و ہنود کی سازشوں کے باوجود اس کی وہی چمک دمک ہے اور ہو بہو وہی تعلیمات ہیں کہ جن کا نفاذ جان دو عالم ؐ نے فرما یا تھا ۔

    اس تمہید کے بعد دماغ کا سوالیہ رقعہ دل کی دہلیز پر دستک دیتا ہے کہ کیا وجہ ہے؟ امم سابقہ اپنے نبی کی رحلت کے بعداپنےدین میں تحریف کرتے !جبکہ دین محمدی نے صدیوں کا سفر طے کیاہے پھر بھی تغیر و تبدل سے محفوظ ہے آخر وجہ کیاہے؟؟؟ تو قرآن مجید کی آواز میں جواب ملتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ[6] (تم بہتر ہو اُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو)یعنی امر باالمعروف اور نہی عن المنکر(بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ) اس امت ہی کا طرہ امتیاز ہے جسکے سبب اسکا تشخص اور اسکی تعلیمات بر قرار ہیں اور قیامت تک اسکی روشنی پھیلتی رہے گی۔اور یہ حقیقت ہے کہ امت محمدی سب کچھ برداشت کر سکتی ہے مگر کبھی بھی..... کسی بھی.... باطل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرسکتی حتی ٰکہ باطل کے مد مقابل اپنی جان تو پیش کرسکتی ہے لیکن امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو نہیں چھوڑ سکتی ۔

    اس حقیقت کی مثال پوری تاریخ اسلام ہے اورایسی تابناک تاریخ ہے کہ ہر شخصیت اپنی مثال آپ ہے اور ہر ایک کی ایسی ضوفشانی ہے کہ انتخاب مشکل ہے ۔کیا خوب کہا کسی نے۔۔۔۔۔۔

    شکار ماہ کہ تسخیر آفتاب کروں

    میں کس کو ترک، کروں کس کا انتخاب کروں

    البتہ ہجرت نبویﷺکے ایک ہزار سال گزرنے کے بعد ایک مرد حق کا تذکرہ بطور مثال کافی ہے ۔

    یہ وہ وقت تھا کہ جب بر صغیر میں مسند اقتدار پرجلال الدین اکبرتھااور وہ سیاست کی کرسی پر مذہب میں زیادہ دلچسپی لیتابظاہر تو یہ اک نیک جذبہ تھا لیکن اسکی تمام تردلچسپی اس بات میں تھی کہ کسی طرح اپنی من بھاتی خواہشات کو دین کا جامہ پہنادیا جائے چنانچہ علماء سوء کی اک قطار اس کے دربار میں حاضر رہتی، کبھی وزارت کی خاطر خودی کا سود ا کرتی ،کبھی چابلوسی کے ذریعے مال جمع کر تی اور کبھی بادشاہ کی قربت کے حصول میں اللہ تعالی سے دوری کاسامان کرتی ۔اورایک وقت وہ آیا کہ انہی کی زبان و قلم سے دین الٰہی کی مکروہ شکل سامنے آئی کہ جب وہ اکبر کو یہ کہہ کر بےوقوف بنا رہے تھے کہ دین اسلام کی مدت ایک ہزار سال تھی جو کہ پوری ہو چکی لہٰذا اب جو دین چلے گا وہ صاحب زمان کا ہوگاجس میں ہندو مسلم اختلافات اور نفرتوں کا تصور بھی نہیں ہوگا اوربادشاہ سلامت ہی تو صاحب زمان ہیں ۔

    چوں کہ شہنشاہ اکبر ایک ان پڑ ھ شخص تھا اس پر مستزاد یہ ،کہ وہ دین فروش علماء پر حد سے زیادہ اعتماد کے نتیجے میں کٹھ پتلی کی طرح فیصلہ کر تا جسکے سبب ایک ایسا دین!(موسوم بدین الہٰی) وجود میں آیا جسے دین الٰہی کے بجا ئے د ین شیطانی کہنا زیادہ مناسب ہے۔ کیوں کہ یہ دین شیطانی خرافات کا ایک ایسامجموعہ تھا کہ جس پر عمل کر کے بندہ شیطان کا خلیفہ بن جائے،جس دین کی عبادت دن میں چار بار آفتاب کی پرستش ہو،جہاں گائے توکیا؟ گائے کاگوبر بھی معبود ٹھہرے اور صرف یہی نہیں بلکہ گاؤ ماتا کا پیشاب بھی پوتر (پاک)سمجھا جائے اور پھر ان بے دینوں کا جی اتنے خداؤں سے بھی نہیں بھرا بلکہ آگ،پانی،درخت اور تمام مظاہر قدرت کے آگے جھک جھک کر عبادت کرتے،کبھی مور کو بھگوان سمجھ کہ اس کی پوجا پاٹ کرتے تو کبھی دین الٰہی کا وظیفہ سمجھ کر سورج کے ایک ہزار ہندی ناموں کی تسبیح پڑھتےاوراس دین کی نحوست میں کیا شک کہ جس کا کلمہ (معاذ اللہ) لا الٰہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ ہو ،جس میں امن و سلامتی کے فقدان کا یہ حال ہو کہ السلام علیکم کے بجائے اللہ اکبر اور وعلیکم السلام کے بجائے جل جلالہ رائج ہو،اور اکبر کی شو مئی قسمت کہ اس نے زمین بوسی کے نام پرسجدئہ تعظیمی لازم قرار دیا...شراب کو عام مشروب قرار دے کر رائج کر دیا ....بدکاری اور بے حیائی کو عام کر نے کیلئے تمام بڑے شہروںمیں بد کردار خواتین کیلئے شیطان پورہ کے نام سے کالونیاں مقرر کی گئیں اور اسلام دشمنی کایہ عالم کہ محرمات اسلامی کو حلال قرار دےدیاگیا،مرد بڑے فخر سے ریشم زیب تن کرتے اور سونے کے زیورات استعمال کرتے،خنزیر اور کتے کو نہ صرف حلال قرار دیا گیا بلکہ انھیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاحتیٰ کہ شاہی محل کے احاطے میں خنزیر اور کتے پالے گئے جنہیں دور دراز سے لوگ دیکھنے آتے،مسجدوں کو مندروں کی شکل دے دے گئی اورنہ صرف بادشاہ نے داڑھی کاصفا یاکیا بلکہ اس مکروہ فعل میں اسکے ساتھ درباری ملاءبھی پیش پیش رہے الغرض سر زمین ہندکفرستان کا روپ دھار چکی تھی ،ہر طرف منکرات کا دور دورہ تھالیکن امربالمعروف و نہی عن المنکر کا کوئی داعی نہ تھا۔ایسے میں رب قدوس نے نائب مصطفی ؐ ،تلوار فاروقی ، قیوم زمانی،شہباز لامکانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا عَلَم بلند کرنے کے لئے منتخب فرمایا۔

    آپ اپنے جد امجد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی امانتوں کے امین،اپنے مرشد کریم حضرت خواجہ باقی با للہ کے منظور نظر،آپ ہی کی وہ شخصیت ہےکہ جس کے لئے مرشد کریم نے فرمایا''شیخ احمد وہ آفتاب ہیں جن کی روشنی میں ہم جیسے ہزاروں ستارے گم ہیں''اور فرمایا۔۔۔'' آج آسمان کے نیچے اس مبارک گروہ میں ان کی مثل کوئی نہیں''.....بارگاہ صمدیت میں محبوبیت کا یہ عالم کہ متشابہات و مقطعات ِقرآن کا راز داں بنا ئے گئے جس کے متعلق آپ خود فرماتے ہیں '' بعطاء رب قدیر عرش الٰہی سے انوار و تجلیات کی ایک نہر جاری ہے ''اور صاحبزادہ علیہ الرحمۃ کے اصرار پر صرف حرفِ'' ق''سے پردہ اٹھایاتو تاب نہ لاسکے۔

    چنانچہ جب الحاد و ارتداد کا اکبری دور، رواں دواں تھا اس وقت آپکی عمر مبارک سترہ برس تھی،ان دنوں آپ علوم ِشرائع اور معارف طریقت میں مصروف تھے اور ساتھ ہی آپکی نظریں حکومت وقت کی خرافات پربھی تھیں،لہٰذا آ پ ان وجوہات کی نشاندہی فرما رہے تھے جن کے سبب دین اسلام کو غریب الوطنی کے یہ ایام دیکھنے پڑے تھے چنانچہ آپ نے دربار کے مقربین کے نام مکتوبات ارسال فرمائے اور آپ کے مکتوبات تو الہام کے نور سے منور ہوا کرتے تھے، جس کو بھی موصول ہوتے وہ فدا ہونے لگتا حتیٰ کہ ایک وقت وہ آیا کہ امراء کی ایک جماعت تیار ہوگئی جسے آپ جرگہ صمدانی دولت اسلامیہ کے نام سے یاد فرماتے ہیں ۔

    چنانچہ ان تیاریوں میں ایک عرصہ گزرگیا اسی دوران اکبر مرگیا، اس کے بعد اس کا بیٹاشہزادہ سلیم نور الدین جہانگیر تخت نشیں ہوگیااور اپنے باپ کی تقلید کرتا ہوان سارے خرافات کو جاری رکھا ۔ لہذا آپ نے بھی تجدیدی کارناموں میں اضافہ فرمادیااور علی الاعلان کلمہ حق بلند کرکے نام نہاد دین الٰہی کے خلاف آواز اٹھائی اور مقربینِ دربار کومزید بیدار کیا جیسا کہ ایک مکتوب ِگرامی میں مرقوم ہے جو لالہ بیگ جہانگیری کو موصول ہوافرماتے ہیں''بادشاہت کے شروع ہی میں اگر مسلمانیت کا رواج ہوگیااور مسلمانوں کا کھویا ہوا اعتبار حاصل ہوگیا تو کیا کہنے،لیکن! العیاذباللہ اگر کچھ دشواری ہوئی تو مسلمانوں کا کام سخت دشواری میں پڑ جائیگا''۔ دوسری طرف آپ نے نہ صرف علماء سوء ،روافض ا ورمتصوفین کی نقاب کشائی فرمائی بلکہ بادشاہ پرتنقید کرتے ہوئے سجدہ تعظیمی کے خلاف فتویٰ صادر فرمایا۔

    پس جب اسلام دشمن قوتوں کا گھیرا تنگ ہونے لگاتوانہوں نے آپکی اس جدو جہد کو سیاسی محاذ قرار دیکر باشاہ کو ورغلایا کہ یہ شخص درویشی کے لبادے میں حکومت کی بغاوت اور اپنی فوج تیار کر رہا ہے لہٰذا جہانگیر کو اقتدار کے لالے پڑتے نظر آنے لگے تو اس نے آپکے معاونین و محبین کو دربار سے دور کردیا اور آپ کو دربارمیں طلب کیا، ساتھ ہی یہ حکم بھی جاری ہوا کہ آداب شاہی کا خوب خیال رکھا جائے ......لیکن! وہ سر کیا جھکتا جو شب و روزمعبود حق کے سامنے جھکتا ہو،باوجود یکہ دروازہ بھی چھوٹا رکھا گیا تھا کہ ہر آنے والے کو لا محالہ جھکنا پڑے مگر آپ نے پہلے قدم اندر کئیے اور سرمبارک اونچا رکھتے ہوے دربار میں داخل ہوئے اور اپنی دانائی اور جرأ ت سے جہانگیر کومبہوت کردیا۔اور پھر اسکے سامنے سجدہ تعظیمی کی مخالفت فرماکرامر بالمعروف و نہی عن المنکرکا نعرہ لگاتے ہوئے اعلان فرمایا ...

    ایک ہی کعبہ مرا ، ایک ہی مسجود بھی

    ہر جگہ موزوں نہیں سر جھکانے کے واسطے

    یہ سب کچھ دیکھ کر جہانگیر نہایت خوفزدہ ہوگیا اورآپکو باغیوں کے قلعہ گوالیار میں بندکردیااور جب یہ خبرامرائے ہند کو پہنچی تو انہوں نے بغاوت کا اعلان کردیااور مہابت خان کی سربراہی میں بادشاہ کے خلاف لشکر کشی شروع کردی ،دوسری طرف بادشاہ بھی ایک لشکر جرار لیکر سر کوبی کیلئے نکل کھڑا ہوا چنانچہ دونوں لشکروں کے درمیان دریائے جہلم کے کنارے مقابلہ ہوا لیکن بادشاہ کے لشکرکو منہ کی کھانی پڑی یہاں تک کہ جہانگیر اور آصف جاہ کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں،ان کی خبر سن کر نور جہاں بھی دوڑی چلی آئی لیکن اسے بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    مگر ان تمام کامیابیوں کے با وجود حضرت مجدد الف ثانی نے مہابت خان کو یہ پیغام بھیجا کہ ''مجھے یہ خوں ریزی پسند نہیں،میں جس مقصد کیلئے جیل میں رکھا گیا ہوں اس کے پورے ہوتے ہی رہا کر دیا جاوں گالہٰذا بادشاہ کی اطاعت کی جائے''۔لیکن آپ کی جد وجہد ،اور ایک سال قید بندی رنگ لائی کہ جہانگیر کی مردہ قسمت جاگ اٹھی اور خواب میں سرکار دو عالم تشریف لائے اور فرمایا جہانگیر! شیخ احمد کی رہائی میں دیر کیوں؟ پس جب وہ بیدار ہوا تو اسے اپنے کئے پر سخت ندامت ہوئی اورامام ربانی ،مجدد الف ثانی کی خدمت میں ایک تحریری معافی نامہ بھجوایا اور اپنی غلطیوں پر معافی کا طلبگار ہوا۔

    تو امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ الباری نے نام نہاد دین الٰہی پر آخری ضرب لگائی اور اپنے جد امجد حضرت عمر فاروق کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے جہانگیر کی معافی کو ان شرائط کے ساتھ مشروط فرمایا:

    سجدہ تعظیمی کو فی الفور بند کرتے ہوئے خلاف شرع قوانین کو یکسر ختم کردےا جائے...... شاہی محل میں گائے ذبح کر کے بادشاہ اور دیگر حکام اس کا بھنا ہوا گوشت مل کر کھائیں نیز گاؤ کشی پر عائد پابندیاں فورا اٹھالی جائیں......شاہی محل کے قریب ایک عالی شان مسجد تعمیر کی جائے اور بادشاہ سمیت دیگر وزراء نماز کی پابندی یقینی بناتے ہوئے تمام ڈھائی گئی مساجد کی تعمیر نو کریں......ہر شہر میں مدارس دینیہ کے ساتھ ساتھ محتسب ،مفتی اورقاضی مقرر کئے جائیں......کفار پر جزئیہ عائد کرتے ہوئے جاہلیت کی تمام رسومات کا خاتمہ کیا جائے۔

    اللہ اکبر!کیا شرائط رکھے پورا اسلامی آئین دیدیا اور یہ آپ ہی کا فیضان کرم تھا کہ ظلمت کدئہ ہند اسلام کی روشنی سے منور ہوگیا ،مردہ دل ذکر حق سے زندہ ہوگئے ،سیرتیں اور صورتیں سب شریعت محمدیؐ کے سانچے میں ڈھل گئیں۔یہی وجہ ہےکہ شاہ ولی اللہ محدث دھلوی ، شیخ مجدد کی بارگاہ میں یوں خراج تحسین پیش کر تے ہیں کہ''آج جو مساجد میں آذانیں ہو رہی ہیں اور مدارس میں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں گونج رہی ہیں،خانقاہوں میں جو ذکر و فکرہو رہا ہے،قلب و روح کو اللہ کی یاد سے جلا بخشی جارہی ہے اورلا الٰہ الا اللہ کی ضرب اطمینان قلب کا باعث ہے ''یہ سب حضرت مجدد الف ثانی کی مرہون منت ہے۔

    وہ ہند میں سرمایہء ملت کے نگہبان

    اللہ نے بر وقت کیا جن کو خبردار

    المختصرآپ کے کمالات محاسن بے یاں ہیں البتہ آج کے اس مادی دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپکی تعلیمات کو عام کرتے ہوئے آپکے تصانیف بالخصوص مکتوبات کو تمام زبانوں میں شائع کیا جائے تاکہ ہر عوام و خواص سبھی اس بحر بیکراں سے مستفید ہو سکے اور شریعت کے اصول اور طریقت کے رموز سمیٹ سکیں۔


    یکے از طالب فیوضات امام ربانی


    ترجمہ:میں بنانے والا ہوں زمین میں اپنا خلیفہ (البقرہ:۳۰)[1]

    ترجمہ: بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا (التین:۴)[2]

    ترجمہ: اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام (اشیاء) کے نام سکھائے(البقرہ:۳۱) [3]

    ترجمہ: اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو(البقرہ:۳۵) [4]

    ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی صرف اسلیئے ہی بنائے کہ میری بندگی کریں(الذٰریٰت:۵۶)[5]

    اٰلعمران:۱۱۰[6]




    امر باالمعروف ونہی عن المنکر اورامام ربانی علیہ رحمۃ الباری - Darul Ifta Saylani