🌹طلبۂ علم کی کفالت🌹
محمد مبشر رضا
علامہ اسماعیل بن نابلسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب التحفۃ النابلسیۃ فی الراحلۃ الطرابلسیۃ میں ایک نہایت فکر انگیز اور ایمان افروز بات نقل فرمائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ اعلام الاخیار من فقہاء مذہب النعمان المختار میں امام ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ کا یہ ارشاد مذکور ہے: لزم على المسلمين كفاية طالب العلم إذا خرج للطلب ، حتى لو امتنعوا عن كفايته يجبرون كما يجبرون على أداء الزكاة إذا امتنعوا عن أدائها. جب کوئی طالبِ علم، علمِ دین کے حصول کے لیے سفر اختیار کرے تو مسلمانوں پر اس کی کفالت فرضِ کفایہ ہے۔ اگر لوگ اس کی ضروریات پوری کرنے سے گریز کریں تو انہیں اس پر مجبور کیا جائے گا، جیسے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کرنے والوں کو زکوٰۃ کی ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے۔(التحفۃ النابلسیۃ فی الراحلۃ الطرابلسیۃ، ص75) یہ ارشاد اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ طالبِ علمِ دین صرف اپنے لیے نہیں پڑھتا بلکہ پوری امت کے دینی مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ اپنے گھر، آرام، آسائش اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر علمِ نبوی کے حصول کے لیے نکلتا ہے تاکہ کل یہی علم امت تک پہنچے، مساجد آباد ہوں، مدارس روشن رہیں، فتاویٰ مرتب ہوں اور لوگوں کو حلال و حرام کا شعور حاصل ہو۔ اسی لیے امام ماتریدی رحمہ اللہ نے اس کی کفالت کو محض ایک نیکی یا صدقہ قرار نہیں دیا بلکہ امت کی اجتماعی ذمہ داری بتایا ہے۔ گویا جو طالبِ علم علم کے سفر میں مصروف ہے، وہ درحقیقت پوری امت کا نمائندہ ہے اور اس کی ضروریات پوری کرنا امت کے ہر صاحبِ استطاعت فرد کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ آج بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ دین کی شمع روشن رہے، مسندِ افتاء پر اہلِ علم بیٹھیں، منبروں پر علم و حکمت کی صدائیں بلند ہوں اور آنے والی نسلیں دینِ اسلام سے وابستہ رہیں تو ہمیں طلبۂ علم کی سرپرستی، معاونت اور دلجوئی کو اپنا دینی فریضہ سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ طالبِ علم پر خرچ ہونے والا مال دراصل علمِ دین، اشاعتِ سنت اور حفاظتِ شریعت پر خرچ ہوتا ہے، اور یہی وہ سرمایہ کاری ہے جس کا نفع نسلوں تک پہنچتا ہے۔ 14-06-2026
