انسانی ذہن کے سوالات
*انسان اور شیطان*
*اگر شیطان اللہ پہ ایمان رکھتا تھا تو اللہ کا نافرمان کیسے ہوسکتا ہے*
*شعیب اختر*
یہ سوال بظاہر نہایت سادہ محسوس ہوتا ہے مگر اپنے اندر گہری فکری اور اعتقادی پیچیدگیاں رکھتا ہے کیونکہ اس سوال کے پیچھے ایمان کی حقیقت اطاعت کی نوعیت ارادہ و اختیار کی آزادی تکبر کی نفسیات اور بندگی کے مفہوم جیسے بنیادی موضوعات پوشیدہ ہیں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شیطان اللہ کو مانتا تھا وہ اللہ کے وجود کا منکر نہ تھا پھر وہ نافرمان کیسے ہوگیا اگر وہ ایمان رکھتا تھا تو کافر کیوں قرار پایا اس سوال کا درست جواب تب ہی ممکن ہے جب ہم ایمان کے اسلامی تصور کو محض عقلی اعتراف سے بلند کر کے عملی اطاعت اور قلبی تسلیم کے تناظر میں سمجھیں
اسلامی تعلیمات کے مطابق ایمان صرف یہ نہیں کہ انسان اللہ کے وجود کو مان لے بلکہ ایمان تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالارکان کا مجموعہ ہے یعنی دل سے ماننا زبان سے اقرار کرنا اور عملی طور پر اطاعت کرنا جب ان تینوں میں ہم آہنگی ہو تب ایمان کامل ہوتا ہے اگر کوئی شخص اللہ کو مانتا ہو مگر اس کے حکم کے مقابلے میں اپنی انا کو ترجیح دے تو وہ حقیقی مومن نہیں رہتا یہی اصل نکتہ ہے جو شیطان کے معاملے میں سمجھنا ضروری ہے
قرآن مجید میں بیان ہوا کہ جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے اطاعت کی مگر ابلیس نے انکار کیا وہ فرشتوں میں سے نہ تھا بلکہ جنات میں سے تھا مگر عبادت کی کثرت کی وجہ سے ملائکہ کی صف میں شامل تھا جب حکم آیا تو اس نے اپنی عقل اور قیاس کو وحی پر مقدم کیا اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے بنا ہے لہذا میں افضل ہوں اور افضل کمتر کو سجدہ نہیں کرتا یہاں اس کا مسئلہ اللہ کے وجود کا انکار نہ تھا بلکہ حکم کے سامنے اپنی برتری کا دعویٰ تھا
شیطان کا ایمان محض معرفت کی حد تک تھا اطاعت کی حد تک نہ تھا وہ جانتا تھا کہ اللہ خالق ہے وہ قیامت کو مانتا تھا وہ دعا بھی کرتا تھا کہ مجھے مہلت دے دی جائے مگر اس نے اللہ کے حکم کو تسلیم نہ کیا یہی وہ مقام ہے جہاں علم اور ایمان میں فرق واضح ہوتا ہے بہت سے لوگ حق کو جانتے ہیں مگر اپنی خواہش یا تکبر کی وجہ سے قبول نہیں کرتے قرآن میں بنی اسرائیل کے بعض علما کے بارے میں آیا کہ وہ نبی کو پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر حسد کی وجہ سے انکار کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ محض جان لینا ایمان نہیں بلکہ جھک جانا ایمان ہے
شیطان کا اصل مرض تکبر تھا تکبر انسان کو اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں وہ حق کو جانتے ہوئے بھی رد کر دیتا ہے کیونکہ اسے اپنی بڑائی عزیز ہوتی ہے جب اللہ نے پوچھا کہ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا تو اس نے اپنی برتری بیان کی گویا وہ اپنے قیاس کو خدائی حکم سے زیادہ درست سمجھ رہا تھا یہی نافرمانی کی جڑ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو معیار حق سمجھنے لگے
یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا چاہیے کہ ایمان دو درجوں پر ہوتا ہے ایک نظری ایمان اور دوسرا عملی ایمان نظری ایمان میں انسان کسی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے مگر عملی ایمان میں وہ اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے شیطان کے پاس نظری علم تھا مگر عملی تسلیم نہ تھا اس لیے وہ مومن نہ رہا بلکہ مردود ٹھہرا
انسان اور شیطان کے فرق کو سمجھنے کے لیے ارادہ و اختیار کا مسئلہ بھی اہم ہے اللہ نے انسان اور جن دونوں کو اختیار دیا کہ وہ اطاعت کریں یا نافرمانی اختیار کریں فرشتوں کے برعکس جن اور انسان امتحان کے لیے پیدا کیے گئے شیطان نے اپنے اختیار کو غلط سمت میں استعمال کیا اس نے حکم عدولی کو چنا اس لیے وہ مجرم ٹھہرا اگر ایمان صرف علم کا نام ہوتا تو شیطان سب سے بڑا مومن ہوتا کیونکہ وہ اللہ سے براہ راست ہم کلام ہوا مگر چونکہ ایمان بندگی کا نام ہے اس لیے وہ سب سے بڑا نافرمان بن گیا
اس سوال میں ایک اور پہلو بھی پوشیدہ ہے کہ کیا اللہ کو مان لینا کافی ہے اگر کوئی شخص کہے کہ میں خدا کو مانتا ہوں مگر اس کے احکام کو نہیں مانتا تو کیا وہ مومن ہے اسلام کا جواب واضح ہے کہ نہیں کیونکہ ایمان اطاعت کے بغیر ناقص ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر آیا ہے گویا ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں
شیطان کی نافرمانی محض ایک حکم کی خلاف ورزی نہ تھی بلکہ وہ بغاوت تھی کیونکہ اس نے نہ صرف حکم رد کیا بلکہ اللہ کی حکمت پر اعتراض بھی کیا اس نے اپنی تخلیق کو برتر قرار دے کر گویا تخلیق کے معیار پر سوال اٹھایا یہ رویہ دراصل ربوبیت کے مقابلے میں خودی کو کھڑا کرنا تھا اسی لیے وہ صرف عاصی نہ رہا بلکہ کافر قرار پایا
کفر کی حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان حق کو جانتے ہوئے اس کا انکار کرے یا اسے قبول نہ کرے شیطان نے اللہ کا انکار نہ کیا مگر اس کے حکم کو رد کر کے عملی طور پر ربوبیت کو چیلنج کیا اس طرح وہ ایمان کے دائرے سے خارج ہوا
یہ واقعہ انسان کے لیے آئینہ ہے کہ وہ صرف زبانی ایمان پر مطمئن نہ ہو بلکہ دل اور عمل سے بھی تابع رہے کیونکہ اگر محض علم کافی ہوتا تو شیطان کی مثال ہمارے سامنے نہ رکھی جاتی اس کا انجام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ غرور اور انا انسان کو ایمان سے محروم کر سکتے ہیں
انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس میں اور شیطان میں فرق یہ ہے کہ انسان خطا کے بعد توبہ کر سکتا ہے آدم علیہ السلام سے بھی لغزش ہوئی مگر انہوں نے اعتراف کیا معافی مانگی اور اللہ نے انہیں معاف کیا جبکہ شیطان نے اپنی غلطی تسلیم نہ کی بلکہ اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی یہی فرق عبدیت اور بغاوت کا ہے
پس یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ شیطان مومن تھا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو جانتا تھا مگر اس نے ایمان کے تقاضے پورے نہ کیے ایمان محض ذہنی تصدیق نہیں بلکہ قلبی انکسار اور عملی اطاعت کا نام ہے جب یہ عناصر جمع نہ ہوں تو علم انسان کو نجات نہیں دیتا بلکہ اس پر حجت قائم کر دیتا ہے
اس پورے معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان کا جوہر تسلیم و اطاعت ہے شیطان نے اللہ کو مانتے ہوئے بھی اس کے حکم کے سامنے سر نہ جھکایا اس لیے وہ نافرمان اور مردود ہوا یہ واقعہ ہر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ اپنے اندر تکبر کو جگہ نہ دے اور جب حق واضح ہو جائے تو اپنی رائے خواہش اور قیاس کو اس پر قربان کر دے یہی بندگی ہے یہی ایمان ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے
