قرأت میں درمیان سے آیت چھوٹ گئی تو نماز کا کیا حکم ہے

    qiraat mein darmiyan se ayat chhoot gayi to namaz ka kya hukm hai

    تاریخ: 28 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 57
    حوالہ: 1808

    سوال

    اگر کسی نے جمعے کی نماز میں سورۃ الشرح پڑھی پھر ورفعنا تک پڑھی پھر دوبارا شروع کی مگر ورفعنا نہیں پڑھا ۔اور دوسری رکعت میں سورۃ القدر پڑھی، مگر درمیان میں ایک آیت وما ادراک نہیں پڑھی تو کیا حکم ہے؟

    سائل:عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نماز درست ہوگئی۔ کیونکہ جمعہ یا کسی بھی فرض نماز کی قرأت میں کوئی آیت چھوٹے یا کسی کلمہ کو ایک ہی رکعت میں دہرا یا جائے، اس سے نہ نماز فاسد ہوتی ہے نہ سجدہ سہو لازم آتا ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ ساتھ واجب مقدار یعنی کم از کم تین چھوٹی آیات یا ایک طویل آیت، کی قرأت مکمل کر لی گئی ہو۔صورتِ مسؤولہ میں چونکہ دونوں رکعتوں میں واجب مقدار سے زائد قرأت کی گئی ہے، اس لیے نماز بلا کراہت (جبکہ قصداً ایسا نہ کیا) درست ہو گئی۔

    جماعت میں قرأت کی اغلاط میں قاعدہ ہے کہ جب تک معنی فاسد نہ ہوں نماز درست قرار پائے گی۔ مثلاً: اعرابی غلطیاں، حرف یا کلمہ زائد کرنا، حرف کم کردینا، کلمہ چھوٹ جانا، حروف کی تقدیم و تاخیر، کلمہ کی تکرار، آیت کی تکرار (سوائے سورۃ فاتحہ کے)، کلمہ کو دوسرے کلمہ سے یا آیت کو دوسری آیت سے تبدیل کرنا ، قریب المخارج حروف میں امتیاز نہ کرنا، ان تمام صورتوں میں اگر اس غلطی سے معنی خراب ہوتے ہوں تو نماز فاسد ہوگی ورنہ نہیں، سوائے کلمہ یا آیت کو دوسرے کلمہ یا آیت سے تبدیل کرنے میں کہ وہاں اگر درمیان میں وقف کیا تو بلا توقف نماز درست شمار ہوگی، خواہ معنی فاسد ہوں یا نہ ہوں۔پوچھے گئے سوال کی دونوں صورتوں میں آیت چھوٹنے سے معنی فاسد نہ ہوئے، لہذا نماز درست ہوئی۔

    دلائل و جزئیات:

    قرأت کی اغلاط میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: "فالحاصل: أنّ الزَلّة لا تفسد إلاّ ما لا مثل له في القرآن، ولم يوافق في المعنى أو ما غيّر تغيّراً فاحشاً". ترجمہ: پس حاصلِ کلام یہ ہے کہ (قرآت کی) غلطی سے نماز صرف اس صورت میں فاسد ہوتی ہے جب اس جیسی کوئی مثال قرآن پاک میں موجود نہ ہو اور معنی میں بھی موافقت نہ رہے، یا جس سے معنی میں ایسا تغیر واقع ہو جائے جو نہایت فاحش ہو۔ (جد الممتار، 3/371، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    اسی طرح صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہوگئی، ورنہ نہیں ‘‘۔ (بہار شریعت، 1/554، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    دورانِ قرأت آیت کا حصہ چھوٹ جانے پر عدمِ فسادِ نماز اور عدمِ وجوبِ سجدۂ سہو پر صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) سے سوال ہوا کہ زید نماز پڑھا رہا تھا، سورۃ فاتحہ پڑھ کر سورۃ یسین شروع کردی اور وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ پڑھ کر فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّاَجْرٍ كَرِیْمٍ چھوڑدی اور اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى سے شروع کردیا اور پھر سجدہ سہو بھی نہیں کیا اور نماز بھی نہیں دہرائی، تو کیا اس صورت میں نماز درست ادا ہوئی یا نہیں؟ آپ جواباً لکھتے ہیں: ’’ نماز صحیح ہے، اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہ تھا‘‘۔ (فتاوی امجدیہ، 1/283، مکتبہ رضویہ، کراچی)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ امام نے آٹھ دس آیتیں پڑھ کر ایک یا دو آیتیں ترک کرکے پھر قرأت شروع کی اور دس بارہ آیتیں پڑھ کر رکوع کیا نماز میں کچھ حرج ہوا؟آپ علیہ الرحمہ نے جواباً فرمایا:’’اس سے نماز میں حرج نہیں جبکہ سہواً ہو اور قصداً د و ایک آیت بیچ میں چھوڑ دینا مکروہ ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 6/371، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    مزید امام اہلسنت رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں:’’آیۃ الکرسی میں چند الفاظ کا بیچ میں سے چھوڑجانا اگرچہ ایک مذہب پر مطلقا مفسد نماز ہے جبکہ صرف آیۃ الکرسی ہی پڑھی ہو اور جب کوئی لفظ چھوٹ گیا آیت پوری نہ ہوئی، مذہب راجح میں بے فساد معنی فسادِ نماز نہیں، اور واجب بھی ادا ہوجائے گا جبکہ باقی تین آیت کی قدر ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 14/375، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    آیت کی تکرار پر سجدۂ سہو کے حکم پر صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ہی فرماتے ہیں:’’آیت کی تکرار سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ البتہ سورۃ فاتحہ کی تکرار سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے‘‘۔(فتاوی امجدیہ، 1/283، مکتبہ رضویہ، کراچی)

    فاتحہ کے بعد سورت کی واجب مقدار پر علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو {ثم نظر} [المدثر: 21] {ثم عبس وبسر} [المدثر: 22] {ثم أدبر واستكبر} [المدثر: 23] وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا". ترجمہ: (نماز کے واجبات میں سے ایک واجب فاتحہ کے ساتھ) سب سے چھوٹی سورت کا ملانا ہے، جیسا کہ سورۂ کوثر یا جو اس کے قائم مقام ہو اور وہ (قائم مقام) تین چھوٹی آیات ہیں، جیسے ’’ ثم نظر، ثم عبس و بسر، ثم ادبر واستکبر ‘‘ اور اسی طرح اگر ایک آیت یا دو آیتیں، جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہوں۔ (الدر المختار ، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، واجبات الصلاة، 1/458، دار الفکر بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: ”الحمد شریف تمام وکمال پڑھنا ایک واجب ہے اوراس کے سوا کسی دوسری سورت سے ایک آیت بڑی یا تین آیتیں چھوٹی پڑھنا واجب ہے

    “۔ (فتاوی رضویہ، 6/330، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22 محرم الحرام 1448ھ/8 جولائی 2026ء