خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ کا حکم
    تاریخ: 20 جنوری، 2026
    مشاہدات: 46
    حوالہ: 618

    سوال

    کیا خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی ،اسی طرح اس کیلئے دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے؟

    سائل: عرفان غنی(جیکب آباد)


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    خودکشی کرنا سخت ناجائز، حرام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر نہایت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ تاہم اگر خودکشی کرنے والا مسلمان ہو تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لیے اس کی نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے۔ جن لوگوں تک اس کی وفات کی خبر پہنچے، اگر ان میں سے کوئی بھی نمازِ جنازہ ادا نہ کرے تو سب گناہگار ہوں گے۔

    البتہ علما، مشائخ اور مقتدا پیشوا حضرات اگر زجر و تنبیہ اور عبرت کے لیے خود نمازِ جنازہ ادا نہ کریں، اور دوسرے مسلمان اسے ادا کر لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہی زیادہ مناسب اور متوازن طریقہ ہے۔ اسی طرح خودکشی کرنے والے مسلمان کے لیے دعائے مغفرت کرنا، اس کو ایصالِ ثواب کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی بخشش کی دعا کرنا سب جائز اور درست ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    خودکشی کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے،اس بارے میں اللہ پاک قرآن عظیم میں فرماتا ہے:﴿وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمْ اِنَّ اللہَ کَانَ بِكُمْ رَحِیۡمًا وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیۡہِ نَارًا وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرًا﴾ترجمۂ: اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بے شک اللہ عز وجل تم پر مہربان ہےاور جو ظلم و زیادَتی سے ایسا کرےگا، تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخِل کریں گے اور یہ اللہ عز وجل کو آسان ہے ۔ ( سورۃ النساء ،آیت29،30)

    صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ ( المتوفٰی 1367 ھ) مذکورہ بالا آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں: اس آیت سے خود کُشی کی حرمت بھی ثابت ہوئی( یعنی یہ ثابت ہوتا ہےکہ خود کشی کرنا حرام ہے) ۔(خزائن العرفان مع کنز الایمان،صفحہ163 ،زیر آیت :29 ،سورۃ النساء،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

    خودکشی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ البتہ کفر نہیں ،ایسا شخص مسلمان ہی رہتا ہے، اس لیے اسے غسل دیا جاتا ہے اور اسلامی طریقے سے دفن کیا جائےگا۔ نمازِ جنازہ کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے، مگر فتویٰ اسی پرہے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ بعض علماء نے حدیث کی بنا پر یہ کہا ہے کہ نبی ﷺ نے ایسے شخص کی نماز نہیں پڑھی، اس لیے بڑے علماء یا اہلِ علم عبرت کے طور پر نماز جنازہ چھوڑ سکتے ہیں، لیکن عام مسلمان پڑھ سکتے ہیں۔ اس بارے میں فتاوی شامی میں ہے:(مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ) وَلَوْ (عَمْدًا يُغَسَّلُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ) بِهِ يُفْتَى وَإِنْ كَانَ أَعْظَمَ وِزْرًا مِنْ قَاتِلِ غَيْرِهِ. وَرَجَّحَ الْكَمَالُ قَوْلَ الثَّانِي بِمَا فِي مُسْلِمٍ «أَنَّهُ - - أُتِيَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ» . (قَوْلُهُ بِهِ يُفْتَى) لِأَنَّهُ فَاسِقٌ غَيْرُ سَاعٍ فِي الْأَرْضِ بِالْفَسَادِ، وَإِنْ كَانَ بَاغِيًا عَلَى نَفْسِهِ كَسَائِرِ فُسَّاقِ الْمُسْلِمِينَ زَيْلَعِيٌّ (قَوْلُهُ: وَرَجَّحَ الْكَمَالُ قَوْلَ الثَّانِي إلَخْ) أَيْ قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ: إنَّهُ يُغَسَّلُ، وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ إسْمَاعِيلُ عَنْ خِزَانَةِ الْفَتَاوَى. وَفِي الْقُهُسْتَانِيِّ وَالْكِفَايَةِ وَغَيْرِهِمَا عَنْ الْإِمَامِ السَّعْدِيِّ: الْأَصَحُّ عِنْدِي أَنَّهُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ لِأَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لَهُ. قَالَ فِي الْبَحْرِ: فَقَدْ اخْتَلَفَ التَّصْحِيحُ، لَكِنْ تَأَيَّدَ الثَّانِي بِالْحَدِيثِ. اهـ.ترجمہ:جو شخص اپنے آپ کو قتل کر لے، چاہے جان بوجھ کر ہی کیوں نہ ہو، تو اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ اسی قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے، اگرچہ اس کا گناہ دوسرے کو قتل کرنے والے سے بھی بڑا ہے۔لیکن علامہ کمال ابن ہمام رحمۃُ اللہ علیہ نے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے، اس حدیث کی بنیاد پر جو صحیح مسلم میں ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے خودکشی کی تھی، تو آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔(مصنف کا قول: "اسی پر فتویٰ ہے")اس کی وجہ یہ ہے کہ خودکشی کرنے والا فاسق تو ہے، مگر ایسا شخص نہیں جو زمین میں فساد پھیلانے والا ہو۔ وہ اپنی ہی جان پر ظلم کرنے والا ہے، جیسے دوسرے گناہگار مسلمان ہوتے ہیں۔اور کمال نے جس دوسرے قول کو ترجیح دی، وہ امام ابو یوسف کا قول ہے کہ:خودکشی کرنے والے کو غسل دیا جائے گا، لیکن اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔یہ بات خزانۃ الفتاویٰ وغیرہ میں منقول ہے۔اسی طرح قہستانی، کفایہ اور دیگر کتابوں میں امام سعدی سے منقول ہے کہ:میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے، کیونکہ اسے توبہ کا موقع نہیں ملا۔آخر میں بحر الرائق میں کہا گیا ہے کہ:اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے، لیکن حدیث کی وجہ سے دوسرا قول زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔(فتاوی شامی:باب صلاۃ الجنازہ:جلد:2،ص:211 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

    مزید اس بارے میں الجوھرہ میں مذکور ہے:(قَوْلُهُ وَمَنْ قُتِلَ مِنْ الْبُغَاةِ أَوْ قُطَّاعِ الطَّرِيقِ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ) عُقُوبَةً لَهُ يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ وَعَنْ مُحَمَّدٍ يُغَسَّلُ وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَأَمَّا إذَا أُخِذَ الْبَاغِي وَأُسِرَ يُغَسَّلُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَإِنَّمَا لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ إذَا قُتِلَ فِي الْمَعْرَكَةِ وَمَنْ قَتْلَ نَفْسَهُ خَطَأً بِأَنْ أَرَادَ ضَرْبَ الْعَدُوِّ فَأَصَابَ نَفْسَهُ يُغَسَّلُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَأَمَّا إذَا قَتَلَ نَفْسَهُ عَمْدًا قَالَ بَعْضُهُمْ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ.وَقَالَ الْحَلْوَانِيُّ الْأَصَحُّ عِنْدِي أَنَّهُ يُصَلَّى عَلَيْهِ.وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو عَلِيٍّ السَّعْدِيُّ الْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ لِأَنَّهُ بَاغٍ عَلَى نَفْسِهِ وَالْبَاغِي لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ.وَفِي فَتَاوَى قَاضِي خان يُغَسَّلُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ عِنْدَهُمَا لِأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْكَبَائِرِ وَلَمْ يُحَارِبْ الْمُسْلِمِينَ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ لِمَا رُوِيَ «أَنَّ رَجُلًا نَحَرَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - ﷺ -» وَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ عَلَى أَنَّهُ أَمَرَ غَيْرَهُ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَأَمَّا مَنْ قَتَلَهُ السَّبُعُ أَوْ مَاتَ تَحْتَ هَدْمٍ فَإِنَّهُ يُغَسَّلُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَاَللَّهُ أَعْلَمُ. ترجمہ :جو شخص باغی یا راهزن ہو اور اسے قتل کیا جائے، اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی اور نہ غسل کیا جاتا، یہ اس کی سزا کے طور پر ہے۔ابو یوسف اور امام محمد کے مطابق: ایسے شخص کو غسل دیا جائے گا مگر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔اگر باغی پکڑا جائے اور قید ہو تو اسے غسل دیا جائے گا اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔باغی معرکہ میں قتل ہو جائے تو نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی۔جو شخص غلطی سے اپنی جان لے بیٹھے، جیسے دشمن کو مارنے کی کوشش میں خود مر جائے، اسے غسل دیا جاتا ہے اور نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔اگر کوئی شخص جان بوجھ کر خودکشی کرے تو بعض علماء کے مطابق نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی۔حلوانی کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس کی نماز پڑھی جائے۔امام ابو علی سعدی کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس کی نماز نہ پڑھی جائے کیونکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور باغی کی طرح ہے۔فتاویٰ قاضی خان میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والے کو غسل اور نماز دونوں دی جائیں کیونکہ وہ بڑا گناہگار ہے لیکن مسلمانوں پر جنگ نہیں کرتا۔ابو یوسف کے قول کے مطابق: نماز نہیں پڑھی جائے، حدیث کی بنیاد پر کہایک شخص نے اپنی جان لے لی، نبی ﷺ نے اس پر نماز نہیں پڑھی"اور ابو حنیفہ کے نزدیک یہ اس پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ نبی ﷺ نے دوسروں کو اس پر نماز پڑھانے کا حکم دیا۔آخر میں: جو شخص جانور یا حادثے کی وجہ سے مر جائے، اسے غسل اور نماز جنازہ دونوں دی جائیں۔اللہ ہی سب سے بہتر جانتا ہے۔(الجوھرۃ النیرہ:باب صلاۃ الجنازہ،جلد:1،ص: 211مطبوعہ المطبعة الخيرية)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: جس نے خودکشی کی حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے، مگر اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی، اگرچہ قصداً خودکشی کی ہو۔ (بھارِشریعت، جلد 01، صفحہ 827، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    فتاوی رضویہ میں ہے: اگر علما وفضلا، باقتدائے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی المدیون و فی قاتل نفسہ (یعنی جیسے مقروض اور خودکشی کرنے والےکی حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے زجراً نمازِجنازہ نہیں پڑھی ایسے ہی) بغرض زجر و تنبیہ نماز جنازہ بے نماز سے خود جُدا رہیں، کوئی حرج نہیں، ہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلاً کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم و گنہگار رہیں گے۔ مسلمان اگرچہ فاسق ہو اُس کے جنازہ کی نماز فرض ہےالامن استثنی و لیس ھذا منھم(مگر جو مستثنی ہیں اور یہ ان میں سے نہیں ہے) (فتاوی رضویہ، جلد 05، صفحہ 108، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر نہیں اور ناہی اس کیلئے خلود فی النار ہے:قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے : (اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ ۚ) ترجمہ : بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔

    اس آیت کے تحت صدرالافاضل مفتی محمدنعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں : معنی یہ ہیں کہ جو کفر پر مَرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی گنہگار مرتکبِ کبائر ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تو اُس کے لئے خلود نہیں اِس کی مغفرت اللہ کی مشیّت میں ہے چاہے معاف فرمائے یا اُس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے۔"(سورۃ النسآء،پ 05،آیت48)

    اسی طرح ابو حفص عمر بن محمد بن احمد نسفی رحمہ اللہ ( المتوفٰی 687 ھ) فرماتے ہیں: والکبیرۃ لا تخرج العبد المؤمن من الإیمان ولا تدخلہ في الکفر ترجمہ: اور گناہ کبیر ہ بندہ مؤمن کو ایمان سے خارج نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو کفر میں داخل کرتا ہے۔ (العقائد النسفیۃ،فصل الکبیرۃ لاتخرج الایمان،صفحہ 365،366 ،مطبوعہ: کراچی) واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:عبد الخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 1447 ھ/8جنوری 2026ء