بہنوئی سے بدکاری کے بعد باہمی رشتہ داری کا حکم
    تاریخ: 9 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 368

    سوال

    ہم دونوں بہنوں کی ایک ہی گھر میں شادی ہوئی ہے ۔میری شادی سے پہلے میری بہن اور میرے شوہر کے ناجائز تعلقات تھےتو یہ بات میری بہن نے خود اپنی زبانی بتائی تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں اور دونوں نے معاذ اللہ غلط کاری بھی کی تھی ۔ میں اس وقت بہت کم عمر تھی ،اور یہ سوچ کر کے میں آ گے بڑھ گئی کہ یہ ان کا گزرا ہوا کل تھا ۔اور پھر میرا نکاح ان سے ہو گیا ۔

    اب ہماری اولاد جوان ہو گئی ہے ۔اور میری بہن نے میری بیٹی کا رشتہ مانگاہے ۔تو مجھے کسی نے بتایا ہے کہ اب بچوں کا رشتہ نہیں ہو سکتا ۔تو آپ مجھے شریعت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں !

    سائل:بنت ِ حوا

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زانی کی بیٹی سےمزنیہ کے بیٹے کی شادی ہو سکتی ہے ،لہذاآپ اپنی بیٹی کا رشتہ بہن کے بیٹے سے کر سکتی ہیں۔

    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ : مرد و عورت میں سے ایک کے دوسرے پر حرام ہونے کے اسباب میں سے دو سبب (مصاہرت و نسب ) ہیں ۔اور یہی دو سبب آپ کے مسئلہ سے متعلق ہیں ۔

    حرمتِ مصاہرت یہ ہے کہ :مر د و عورت میں سے کس کا اپنی جنس مخالف(لڑکی کی عمر کم از کم نو سال جبکہ لڑکے کی عمر بارہ سال ہو) کے ساتھ وطی کرنا یا اسے شہوت کے ساتھ چھونا ،شہوت کے ساتھ بوسہ لینا ۔

    جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہرایک کے اصول(والدین ،نانا ،نانی،داد،دادی) وفروع(اولاد ،اولاد کی اولاد )دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں ۔(اس حوالے سے تفصیلی معلومات کے لیے بہار شریعت سے"محرمات کا بیان "کامطالعہ فرمائیں)

    لہذا یہاں پرزانی و زانیہ کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں ۔لیکن زانی کی اولاد مزنیہ کیاولاد پر حرام نہیں اس لیے کہ حرمت کا تعلق صرف زانی و مزنیہ کے لیے ثابت ہو تا ہے،یہ حرمت ان کیاولاد میں منتقل نہیں ہوتییعنی دونوں کی اولادیں ایک دوسرے سے نکاح کر سکتی ہیں ۔

    علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں :وَأَرَادَ بِحُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ الْحُرُمَات الْأَرْبَع: حُرْمَةَ الْمَرْأَةِ عَلَی أُصُولِ الزَّانِي وَفُرُوعِهِ نَسَبًا وَرَضَاعًا وَحُرْمَةَ أُصُولِهَا وَفُرُوعِهَا عَلَی الزَّانِي نَسَبًا وَرَضَاعًا کَمَا فِي الْوَطْئِ الْحَلَالِ۔ترجمہ :حرمت مصاہرہ سے مراد چار قسم کی حرمتیں ہیں:زانیہ ، زانی کے اصول و فروع پر حرام ہونا خواہ یہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ اس عورت کے اصول و فروع کا زانی پر حرام ہونا ،یہ اصول نسبی ہوں یا رضاعی، جس طرح حلال وطی سے حرام ہوتے ہیں۔(البحر الرائق،جلد3،صفحہ 108،دار المعرفة بیروت)

    مجمع الانھر میں محیط سرخسی کے حوالے سے ہے کہ:ولا تحرم أصولھا و فروعھا علی ابن الواطی۔ترجمہ :زانی کے اصول و فروع واطی کے بیٹے پر حرام نہیں ہوں گے۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر جلد 1صفحہ 326،دار إحياء التراث العربي)

    حرمت کا دوسرا سبب نسب ہے :

    نسبی حرمت یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں مرد و عورت پر ان کے بیٹے بیٹیاں،پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں ،بہنیں ،بھانجیاں ،بھائی ،بھتیجیاں وغیرہا حرام ہیں۔ان سے نکاح کسی بھی صورت نہیں ہو سکتا ۔مگر خاص طور پر بہن یا بھائی میں حرمت کے لیے ضروری ہے ان کا نسب ایک ہی مرد سے ثابت ہو۔ اور نسب کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ مرد نے عورت سے کنواری ہونے کی حالت میں جماع کیا ہو اور اسی پانی سےیہ لڑکا یا لڑکی پیدا ہوئے ہوں تو بہن بھائی کہلائیں گے ۔جبکہ پوچھی گئی صورت میں معاملہ ایسا نہیں ،وہ یوں کہ یہ غلط کاری کنوارے ہونے کی حالت میں کی گئی لیکن اس سے اولاد پیدا نہیں ہوئی اور اگر شادی کے بعدبھی معاذ اللہ بد کاری کی گئی تو اس سے بھی نسب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کہ نسب تو حقیقی شوہر سے ہی ثابت ہو گا ۔

    در مختار میں ہے :(حرم) على المتزوج ذكراكان أوأنثى نكاح (أصله وفروعه وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولومن زنى ۔ترجمہ متزوج(نکاح کرنے والے )خواہ مرد ہو یا عورتپر حرام ہے کہ وہ اپنی اصل و فروع ،اپنے بھائی کی بیٹی اور اپنی بہن سے اور اپنی بیٹی سے نکاح کرے ۔(الدرالمختار جلد 3 صفحہ 29،دار الفکر بیروت)

    و لو من زنی کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: بأَنْ يَزْنِيَ الزَّانِي بِبِكْرٍ وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَلِدَ بِنْتًا بَحْرٌ عَنْ الْفَتْحِ. قَالَ الْحَانُوتِيُّ: وَلَا يُتَصَوَّرُ كَوْنُهَا ابْنَتَهُ مِنْ الزِّنَى إلَّا بِذَلِكَ إذْ لَا يُعْلَمُ كَوْنُ الْوَلَدِ مِنْهُ إلَّا بِهِ.ترجمہ:یعنی زانی کنواری عورت سے زنا کرے اور پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے (بحر میں فتح القدیر کے حوالے سےہے)امام حانوتی فرماتے ہیں :زنا سے اس کا اس زانی کی بیٹی ہونا اسی طرح متصور ہو سکتا ہے کیوں کہ یہ یوں ہی جاناجا سکتا ہے کہ یہ (بچہ یا بچی)اس(زانی) سے ہے۔

    اس سے آگے لکھتے ہیں :أَيْ لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يُمْسِكْهَا يَحْتَمِلُ أَنَّ غَيْرَهُ زَنَى بِهَا.ترجمہ:اگر عورت کو روکے نہیں تواس میں یہ احتمال آ جائے گا کہ زانی کے علاوہ کسی اور نے بھی اس سے زنا کیا ہے ۔(رد المحتارعلی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 29،دار الفکر بیروت)

    اعلٰحضرت امام اہلسنت مجد د دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے پوچھا گیا: زید نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ عورت خراب اور بدکار ہے، پس وہ عورت مذکورہ ایک مدت آوارہ طور پر پھر اکی، اب زید نے اس عورت کو اپنے مکان میں لاکر رکھ لیا، مکان میں داخل ہونے کے تین ماہ بعد دختر پیداہوئی، اس صورت میں اول تو یہ کہ زید کا نکاح نکاح رہا یا نہیں؟دوسرے یہ کہ وہ لڑکی زید کی قرار دی جائے گی یاحرام کی؟اس کے جواب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں:صرف نکال دینے سے زید کے نکاح میں کچھ فرق نہ آیا، لڑکی زید ہی کی قرار پائے گی اگرچہ ایام آوارگی میں یہ عورت کبھی زید کے پا س نہ آتی اور مکان میں واپس آتے ہی اسی دن لڑکی پیدا ہوجاتی۔قال رسول اﷲﷺالولدللفراش وللعاھرالحجر۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کے لیے پتھر ہے(یعنی وہ سنگسار ہو گا )۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:13،ص:360،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    تنبیہ :یہ تو اس سوال کا جواب تھا جو آپ نے استفسار کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں (فاعل و مفعولہ )کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے اس گناہ کبیرہ سے توبہ کریں !بار بار استغفار کریں وہ کریم رحیم اپنی رحمت کاملہ کے صدقے میں معاف فرمائے گا !

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 ر جب المرجب1443 ھ/25 فروری2022