بیرونِ ممالک میں ڈیلیوری کا کام کرناکیسا؟

    Bairon-e-mamalik mein delivery ka kaam karna kaisa

    تاریخ: 26 مئی، 2026
    مشاہدات: 77
    حوالہ: 1406

    سوال

    میر اسوال یہ ہے کہ دبئی یادیگر کسی ملک میں ڈیلیوری کا کام کرنا کیسا؟ کیوں کہ بعض اوقات ہمیں ایسی کمپنی سے آرڈر آجاتا ہے جو غیر مسلم کی ہو، یا کسی ایسے ہوٹل سے آرڈر آجاتا ہے جو مشینی ذبح کرتے ہوں، اس چیز کو کسٹمر کے سلیکٹ کیے ہوئے ہوٹل سے لے کر کسٹمر کے گھر تک پہنچانا ہوتا ہے، اب ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ اس آرڈر میں کیا چیز ہے، آیا حلال ہے یا حرام ، ہمیں فقط ہوٹل کا پتا ہوتا ہے کہ اس ہوٹل سے فلان نمبر کا آرڈر لے کر ڈیلیوری کرنا ہے۔ کیا ایسا کام کرنا جائز ہے؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں ڈیلیوری کا کام کرنااور اسکی اجرت لینا جائزو حلال ہے اگر چہ ڈیلیوری کرنے والے کو ڈیلیور کی جانے والی اشیاء کے حلال یا حرام ہونے کا علم نہ ہو۔کیونکہ ڈیلیوری کرنا یعنی پیسوں کے عوض ایک جگہ سے دوسری جگہ اشیاء پہنچانا در اصل اجارہ ہے اور بے شک یہاں عقدِ اجارہ "نقل و حمل" (ڈیلیوری) پر ہوا ہے، جو کہ بذاتِ خود ایک جائز عمل ہے، نہ کہ معصیت پر۔اور جائز عمل کی اجرت بھی جائز ہوتی ہے۔

    بلکہ اگر کسی نے غیر مسلم کے لیے ایسی چیز منتقل کی جو مسلمانوں کے لیے حرام ہے (جیسے شراب یا غیر شرعی ذبیحہ)، تب بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کام اور اسکی اجرت جائز ہے کہ یہاں معصیت متعین نہیں ، بشرطیکہ تعاون علی الاثم کی نیت نہ ہوجبکہ صاحبین کے نزدیک مکروہ ہے۔جبکہ مذکورہ صورت صاحبین کے مذہب پر بھی جائز ہوگا کیونکہ اعانت علی المعصیت کے لئے اسکا علم ہونا لازم و ضروری جبکہ ڈیلیوری بوائے اس شئے کے حرام ہونے کا علم نہیں ۔

    دلائل و جزئیات:

    مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے: (ومن حمل لذمي خمرا بأجر طاب له) عند الإمام (وعندهما يكره) له ذلك لوجود الإعانة على المعصية وقد صح أن النبي - عليه الصلاة والسلام - «لعن في الخمر عشرا وعد منها حاملها والمحمول إليه» وله أن المعصية في شربها لا في حملها مع الحمل يحمل على الإراقة أو التخليل والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية۔ترجمہ: (اور اگر کسی نے کسی ذمی کے لئے اجرت کے بدلے شراب اٹھائی، تو وہ اجرت اس کے لیے حلال ہے) امامِ اعظم کے نزدیک۔(اور صاحبین کے نزدیک) اس کے لیے ایسا کرنا (مکروہ ہے) کیونکہ اس میں گناہ پر مدد پائی جا رہی ہے۔ اور یہ بات صحیح ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «شراب کے معاملے میں دس لوگوں پر لعنت فرمائی اور ان میں اسے اٹھانے والے اور جس کی طرف اٹھا کر لے جائی جا رہی ہے، دونوں کو شمار کیا ہے»۔ اور امامِ اعظم کی دلیل یہ ہے کہ گناہ شراب پینے میں ہے، نہ کہ اسے اٹھانے میں، اور اٹھانے کو شراب بہانے یا سرکہ بنانے پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے۔ اور رہی بات حدیث کی، تو وہ ایسے اٹھانے پر محمول ہے جو گناہ کے قصد کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔( مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، جلد 2 ص 528، 529، دار الکتب العلمیہ)

    ہدایہ میں بھی اسی طرح کا مضمون موجود ہے ، چناچہ علامہ مرغینانی فرماتے ہیں: قال: "ومن حمل لذمي خمرا فإنه يطيب له الأجر عند أبي حنيفة. وقال أبو يوسف ومحمد: يكره له ذلك"؛ لأنه إعانة على المعصية، وقد صح " أن النبي عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرا حاملها والمحمول إليه " له أن المعصية في شربها وهو فعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل ولا يقصد به، والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية. ترجمہ: (اور اگر کسی نے کسی ذمی کی شراب اٹھائی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اسکی اجرت اس کے لیے حلال ہے، اور امام ابو یوسف اور محمد رحمہما اللہ نے فرمایا کہ اس کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے)؛ کیونکہ یہ گناہ کے کام پر مدد کرنا ہے، اور یہ بات صحیح ثابت ہے "کہ نبی کریم علیہ الصلاة والسلام نے شراب کے معاملے میں دس لوگوں پر لعنت فرمائی؛ اسے اٹھانے والے پر اور جس کی طرف اٹھا کر لے جائی جا رہی ہو"۔ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ گناہ شراب پینے میں ہے اور وہ ایک خود مختار بندے کا اپنا فعل ہے، اور شراب پینا اٹھانے کے لازمی تقاضوں میں سے نہیں ہے اور نہ ہی اٹھانے سے یہ مقصود ہوتا ہے، رہی بات حدیث کی تو وہ ایسے اٹھانے پر محمول ہے جو گناہ کے ارادے کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، جلد 4 ص 377، 378 دار احياء التراث العربي)

    جائز کام کی اجرت کے متعلق امام اہلسنت فرماتے ہیں:”بہرحال نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مقابل نہ ہو ، حرام نہیں ، یہی معنی ہیں اس قولِ حنفیہ کے کہ:"یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا" یعنی اجرت طیب ہوگی، اگرچہ سبب حرام ہے ، جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے‘‘۔( فتاوی رضویہ،19/501، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    پھر یہاں اس ڈیلیوری والے کے عمل کیساتھ معصیت کا بعینہ قیام نہیں کیونکہ ڈیلیوری بوائے کا بنیادی کام اور ذمہ داری صرف سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہے، نہ کہ اس چیز کو تیار کرنا، خریدنا یا خود استعمال کرنا۔ معصیت (گناہ) تب لازم آتی ہے جب کوئی عمل بذاتِ خود گناہ ہو، جبکہ ڈیلیوری کرنا بذاتِ خود ایک مباح اور جائز خدمت ہے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ جب اسے معلوم نہیں کہ پارسل کیا ہے حلال یا حرام؟ لہذا جب تک کسی حرام چیز کو پہنچانے کا قطعی اور یقینی علم نہ ہو، محض شک کی بنیاد پر اس کام یا اس کی اجرت کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا، اور علم ہونے کی صورت میں بھی امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک نفسِ انتقال (صرف پہنچا دینے) پر عقد ہونے کی وجہ سے یہ عمل جائز قرار پائے گا۔

    الدر المختار میں ہے :وَقَدَّمْنَا ثَمَّۃَ مَعْزِیًّا لِلنَّہْرِ أَنَّ مَا قَامَتْ الْمَعْصِیَۃُ بِعَیْنِہِ یُکْرَہُ بَیْعُہُ تَحْرِیمًا وَإِلَّا فَتَنْزِیہًا. فَلْیُحْفَظْ.ترجمہ: اور ہم نے پیچھے نہرالفائق کی نسبت سے بیان کیا کہ جس چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اسکی بیع( خرید و فروخت ) مکروہ تحریمی (یعنی حرام )ہے ورنہ ( یعنی اگراس چیز کےساتھ معصیت بعینہ قائم نہ ہو تو) مکروہ تنزیہی ہے ۔( الدر المختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع جلد 9ص561)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجـــــواب صحــــیـح

    ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

    محمد زوہیب رضا قادری

    07 محرم الحرام1448ھ/ 23 جون 2026 ء