سوال
میں اور ایک میرے پارٹنر اے نے مل کر کنٹرکشن کے کام میں پارٹنر بی کے ساتھ شراکت داری کی ہوئی تھی ۔جس میں ہم نے کئی سودے کیے ۔ایک سودا جو پلاٹ نمبر14،15 کولاچی سوسائٹی کا ہوا جس میں میرا اور میرے پارٹنر اے کا 10 فیصد حصہ تھا ۔اور اس وقت پلاٹ کی قیمت فی گز 55000روپے تھی ۔پھر کچھ عرصہ بعد میرے اور پارٹنر اے میں اختلاف ہوگیا اور وہ مجھ سے الگ ہوکر پارٹنر بی کے ساتھ مل گیا ۔اور جب پلاٹ کی قیمت فی گز دولاکھ سے ڈھائی لاکھ ہوگئی تو ان لوگو ں کی نیت میں فتور آگیا اور انھوں نےمیرا حصہ جو کہ 5فیصد بنتا تھا دینے سے انکار کردیا ۔پھر میں نے پارٹنر بی کو کال کی اور ساتھ میں کراچی کی ایک روحانی شخصیت کو لائن پر لیا اور انکے سامنے کہا کہ اگر آپ تینوں (پارٹنراے،پارٹنر بی اور پارٹنر بی کے ایک پارٹنر)میرا حصہ نہیں دیتے جو کہ پلاٹ 14 اور 15 میں میرا بنتا ہے تو میں قیامت کے دن آپ لوگوں کا گریبان پکڑوں گا اور حشر کے دن اپنا حصہ لوں گا۔انہوں نے میری بات سن کر کہا کہ ٹھیک ہے اور بات ختم کردی ۔پھر رواں سال کی 4محرم الحرام کی رات کو میرے پاس پارٹنر بی کی کال آئی اور یہ کانفرنس کال تھی جس کے گواہ کراچی کی روحانی شخصیت بھی ہیں ،اس نےکہا کہ تو میرے پارٹنر نے کہا کہ تو اس طرح کیوں کہتا ہے روز محشر دیکھیں گے ۔پریشان مت ہو تم ایک کام کرو تمھارا حصہ 5فیصد ہے تم اپنے حصے کے 3 کروڑ روپے بھیج دو تمھارا حصہ وہی پرانے ریٹ سے (55000فی گز)میرے پاس آجائے گا اور اس پلاٹ نمبر 14 اور 15 دونوں کی رجسٹریشن بھی 8 سے 10 دن میں ہونی ہے،اب تم خوش ہو۔یہ سن کر میں نے ان کا شکر یہ ادا کیا اور یہ بات انہوں نے روحانی شخصیت کو کال کرکے بھی کہی کہ ہم اسے پرانے ریٹ میں ہی 5 فیصد حصہ دے رہے ہیں الغرض قصہ مختصر میں نے 1 ستمبر سے 20 اکتوبر تک ساری رقم (3کروڑ)پارٹنر بی کو دے دی ۔
میرا سابقہ پارٹنر اے پارٹنر بی کو ٹرانسفر کرنے کے لیےبات چیت کررہا تھا جوکہ پارٹنر بی ہی کروارہا تھاپھر اسی دوران ٹیلی فون پر میری ان لوگوں سے تلخ کلامی ہوگئی جسے بنیاد بنا کر پارٹنر بی نے مجھ سے کہا کہ تم اپنے 3 کروڑ روپے واپس لےلو لیکن میں نے تین کروڑ روپے لینے سے انکار کردیا اور میں نے کہا کہ مجھے میرا حصہ چاہئے ۔اگر نہیں دیتے ہو تو آج کے حساب سے رقم واپس کرو مگر وہ کسی صورت نہیں مانا چونکہ اس وقت پلاٹ نمبر 14 اور 15 کی فی گز قیمت تین لاکھ ہوگئی ہے ۔لہذا میری آپ سے درخواست ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں کہ میرا حق دبا کر مجھے ستانا اور شدید تکلیف پہنچانا اور میرا حصہ نہ دے کر مجھے ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے تاکہ میں ان لوگوں کو حکم شرعی دکھا کر خدا کا خوف یا د دلادوں تاکہ میرا حق دبا کر جس گناہ کے وہ مرتکب ہورہے ہیں اس گناہ سے انہیں توبہ نصیب ہوجائے اور میرا حق مجھے بخوش ادا کرنے کے لیے راضی ہوجائیں ۔ سائل:عمران پٹیل:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سائل نے بیان کیا تو اس صورت میں پلاٹ14 اور 15 میں 5 فیصد سائل کاحصہ ہے اور یہ انکاشرعی حق ہے اور بقیہ پارٹنرز پر یہ لازم ہے کہ وہ انھیں انکا حق ادا کریں اوررب غفور کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور سائل کا حق دبا لیتے ہیں توان کایہ فعل سراسر حرام ناجائزاور ظلم ہے نیزجو کچھ اس سے نفع کمائیں گے وہ بھی حرام ہےاور ربِّ قھّارکی بارگاہ میں اسکی سخت پکڑ ہے۔کسی کا مال ناحق کھانے اورکسی کا حق دبانے کے حوالے سےقرآن وحدیث میں شدید مذمت آئی ہے ،چناچہ فرمان باری تعالٰی ہے: : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)
اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ترجمہ: مُواخَذہ تو انھیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔(الشورٰی:42)
ایک اور مقام پر ارشاد ِربّانی ہے : وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍترجمہ: اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار ۔(الشورٰی:08)
اسی طرح ا حادیث مبارکہ میں ہے:
چناچہ مسند ابی یعلی کی حدیث ہے: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ترجمہ: جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند ابی یعلی،رقم الحدیث:744)
مسند امام احمد میں ہے:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ترجمہ:جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے ،اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔(مسند امام احمد،رقم:5740)
مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ا س کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)
اور ایسے حق دبا کر حاصل ہونے والی حرام کمائی کے بارے میں حدیثِ پاک میں ہے: مسند امام احمد کی حدیث ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ :ترجمہ:اور بندہ جو کوئی مال حرام کماتا ہے کہ وہ اس سے خرچ کرے اور اس کے لیے اس میں برکت ہو اور اس مال سے صدقہ کرتا ہے کہ وہ اس سے قبول ہو اور اپنے پیچھے جو(اس مال سے) چھوڑتا ہے وہ سب کا سب جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ(توشہ) ہے۔ بے شک اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہےبے شک خباثت (حرام مال)خباثت(گناہوں) کو نہیں مٹاتی۔(مسند امام احمد،رقم:3672)
مستدرک للحاکم کی حدیث ہے:حضور نبی کریمﷺ نےحضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ.ترجمہ: جوگوشت حرام سےنَشْوونَماپائےگاوہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، آگ اس(گوشت)کی زیادہ حقدارہے۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم،رقم:7163)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28جمادی الاولی 1442 ھ/جنوری 2021 ء