مسئلہ کف ثوب کی تشریح و توضیح
    تاریخ: 17 فروری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 796

    سوال

    زید کی شلوار دراز ہے جس سےٹخنے چھپ جاتے ہیں ۔ٹخنوں کو ظاہر کرنے کیلئے زید نماز سے پہلے شلوار کو نیفے کی جانب سے فولڈ کرتا ہے اور پھر اسی فولڈ شدہ شلوار میں نماز پڑھاتا ہے تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟

    اگر کراہت ہے تو کونسی کر اہت ہے ۔نماز واجب الاعادہ ہوگی یا نہیں ؟

    نیز زید کا کہنا ہے کہ کراہیت فقط اس صورت میں ہے جب عینِ نماز کی حالت میں کفِ ثوب کرے چونکہ بخاری میں: لا يکف ثوبہ فی الصلاۃ "کے الفاظ ہیں اور کہتا ہے کہ ٹخنے ظاہر کرنا ضروری ہے اگر چہ کفِ ثوب کرنا پڑے کیونکہ ابو داؤد میں ٹخنے چھپانے پر وعید آئی ہے ۔ اور وہ لوگوں کو یہی مسئلہ بتاتا ہے۔ تفصیلاً جواب عنایت فرمائیں؟

    سائل :محمد اظہر حسین/ کشمور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کفِ ثوب ایک تحقیق طلب ، توضیح طلب اور مختلف الجہات مسئلہ ہے جس کے تمام پہلوؤں کو واضح طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ ہماری فقہ کی کتابوں میں کفِ ثوب کے موجودہ اطلاقات مثلاً شلوار اڑسنے یا پائینچوں کو فولڈ کرنے کے حوالےسے کوئی واضح نص موجود نہیں ۔ واضح نص نہ ہونے کی وجہ سےمفتیان کرام نے اپنی فقہی بصیرت کے مطابق اس کاحل پیش کیا جن میں سے اکثر کا مؤقف یہ تھا کہ شلوار کو اوپر سے فولڈ کرنا کفِ ثوب میں داخل ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ کفِ ثوب میں داخل نہیں ۔اسی طرح پینٹ پہننے والے نمازی جو پائینچے فولڈ کرتے ہیں تو کیا یہ بھی کفِ ثوب میں داخل ہے یا نہیں ۔ عرصہ دراز سے ان چیزوں کے کف میں داخل ہونے نہ ہونے کے لحاظ سے ایک کشمکش پائی جا رہی ہے کہ کس قول پر عمل کریں ۔ ناچیز نے ارادہ کیا کہ اس مسئلہ کوقرآن وسنت کی روشنی میں حنفی منہج کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اللہ علیم و خبیر کی بارگاہ بے کس پناہ میں حضور معلم کل علیہ الصلاۃ والسلام کے وسیلہ سے عرض گزار ہوں کہ وہ اس مسئلہ کے دقیق النظر گوشے پرروزِ روشن کی طرح روشن فرما دے اور اور منشائے شریعت ا ور مذہب ِ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر رہتے ہوئے صحیح حل پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین وما توفیقی الا باللہ وبہ نستعین

    پہلے زید کے استدلال کا جائزہ لیں گے اس کے بعد اصل مسئلہ کی طرف آئیں گے:

    اعتراض :زید نے کہا کہ بخاری میں (لا يکف ثوبہ فی الصلاۃ ) کے الفاظ ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا صرف نماز کی حالت میں مکروہ ہے ۔

    جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ الفاظ (لا يکف ثوبہ فی الصلاۃ ) امام بخاری علیہ الرحمہ کے "ترجمۃ الباب " کے ہیں حدیث کے نہیں اس لیے کہ بعینہ ان الفاظ پر مشتمل کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گزری زید کے مطالعہ میں ہو تو پیش فرمائیں ۔

    امام بخاری علیہ الرحمہ نے اس باب کے تحت جو حدیث پیش کی وہ یہ ہے :عن ابن عباس رضي اللہ عنہما، عن النبي صلی الله علیہ وسلم قال: أمرت أن اسجد علی سبعة، لا أکف شعراً، ولا ثوباً۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضا پر سجدہ کروں، اور نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ کپڑوں کو۔(بخاری، کتاب الصلاة، باب لا یکف ثوبہ فی الصلاة،رقم الحدیث: 816)

    بخاری شریف کے علاوہ دیگر کتبِ احادیث (مسلم ،ابن ماجہ ،مسند احمد ،مصنف عبد الرزاق ،صحیح ابن حبان وغیرھا)میں جہاں جہاں یہ روایت آئی ہے ہم نے کہیں بھی "فی الصلاۃ " کی قید نہیں دیکھی ۔

    صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امرت ان اسجد على سبعة اعظم وان لا اکف تو با ولا شعرا یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور یہ کہ کپڑوں اور بالوں کو نہ اٹھاؤں۔“(مسلم جلد 1 صفحہ 193 مطبوعه قدیمی کتب خانہ کراچی )

    امام بخاری کا ترجمۃ الباب میں فی الصلاۃ کی قیدلگانے کا مفاد اورایک وہم کا ازالہ :

    دوسری بات :امام بخاری علیہ الرحمہ کا "فی الصلاۃ" کی قید لگانا مذکورہ وھم کے ازالہ کے پیشِ نظر تھا کہ کفِ ثوب کی ممانعت داخلِ نماز میں ہے خارجِ نمازمیں نہیں اس لیے کہ عام حالات میں آستین چڑھانا مکروہ نہیں الا یہ کہ ایسا کرنا تکبر کے پیش نظر ہو ۔سو وہ مراد نہیں جو زید نےسمجھی۔اگر بالفرض امام بخاری کی مراد وہی ہو جو سائل نے سمجھی تب بھی حنفی مقلد کو اس کا فائدہ نہیں ہو گا اس لیے کہ امام بخاری علیہ الرحمہ کا حدیث سے ایسا فقہی استدلال کرنا جو ائمہ احناف کے استدلال کے مخالف ہو اصلاً قابلِ اعتناء نہیں بلکہ حنفی مقلد پر تو اپنے مذہب کی اتباع لازم ہے ۔

    حدیث کی شرح

    شارح بخاری علامہ نووی علیہ رحمہ اللہ القوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: " مذهب الجمهور: ان النهي مطلقا لمن صلی کذلك سواء تعمده للصلاة ام كان قبلها كذلك لا لها بل لمعنى آخر وقال الداودي : يختص النبي بمن فعل ذلك للصلاة والمختار الصحيح هو الأول وهو ظاهر المنقول عن الصحابة وغيرهم ۔ترجمہ: جمهور كا مذہب یہ ہے کہ نمازی کے لیے یہ ممانعت مطلق ہے ۔اس نے یہ فعل قصدا نماز کے لیے کیا ہو یا نماز سے پہلے کیا ہوا گرچہ ایسا کسی اور کام کے لیئے ہی کیا ہو۔ اور داوری نے کہا کہ یہ ممانعت نماز پڑ ھنے والے کے ساتھ خاص ہے۔ اور مختار اور صحیح وہ پہلا مذہب ہے اور یہی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے علاوہ سے جو منقول ہے اس سے ظاہر ہے۔ (شرح مسلم للنووى جلد 3 صفحہ 1712 مطبوعہ بیروت)

    شارح بخاری علامہ عینی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :واتفق الجمهور من العلماء أن النهي لكل من صلى كذلك سواء تعمده للصلاة، أو كان كذلك قبلها لمعنى آخر. قال مالك - رَحِمَهُ اللَّهُ -: النهي لمن يفعل ذلك [في] الصلاة، والصحيح الأول لإطلاق الحديث ۔ترجمہ:جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ ممانعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس طرح نماز پڑھے خواہ وہ جان بوجھ کر نماز کے لیے کرے یا نماز سے پہلے کسی اور مقصد کے لیے ایسا کیا ہو ۔ امام مالک فرماتے ہیں نہی اس کے لیے جو نماز میں ایسا کرے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حدیث مطلق ہے۔(البناية شرح الهداية ،جلد 2 صفحہ 444)

    معلوم ہوا کہ یہ نہی مطلق ہےجو کہ اپنے ضابطہ "المطلق یجری علی اطلاقہ " پر رہے گی ، جمہور فقہائے کرام اسی پر ہیں لہذا نماز شروع کرنے سے پہلے کفِ ثوب کرنا اور اسی حالت میں نماز پڑھنا،اس کو جو مکروہ نہیں سمجھتا وہ حدیث میں تقیید و تخصیص کر رہا ہے جوکہ جائز نہیں ۔اور زید نے جس صورت کو مکروہ قرار دیا وہ تو مکروہ ہونے کےساتھ ساتھ عملِ کثیر کی بھی صورت بنتی ہے اس لیے کہ وہ عمل جو عرف و عادت میں دو ہاتھ سے کیا جاتا ہو نمازی اگرچہ اسے ایک ہاتھ سے کرے اس سے نماز فاسد ہو جائے گی کیوں یہ عملِ کثیر ہے جیسے نماز میں عمامہ باندھنا ،یا شلوار اوپر سے فولڈ کرنا چناچہ علامہ طحطاوی لکھتے ہیں :ثم الكراهة إذا فعله قبل الصلاة وصلى به على تلك الهيئة مطلقا سواء تعمده للصلاة أم لا وأما لو فعل شيئا من ذلك وهو في الصلاة تفسد صلاته لأنه عمل كثير بالإجماع۔ترجمہ:پھر کراہت اس وقت ہے جب نمازی کفِ ثوب نماز سے پہلے کرے پھر اسی حالت میں نماز پڑھے خواہ ایسا اس نے نماز کی نیت سے کیا ہو یا کسی اور نیت سے۔ بہر حال اگرا س نے یہ فعل نماز کی حالت میں کیا ہو تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی کیوں کہ یہ بالاجماع عمل کثیر ہے۔ ( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح جلد 1 صفحہ 350)

    جو مؤقف زید نے اختیار کیا اس کی تردید فقہائے کرام نے پہلے سے فرما دی ہے چناچہ علامہ علاء الدین حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: " كُرِهَ (كَفُّهُ) أَيْ رَفْعُهُ وَلَوْ لِتُرَابٍ كَمُشَمِّرِ كُمٍّ أَوْ ذَيْلٍ.ترجمہ:یعنی کپڑے کو اٹھانا مکروہ ہے اگر چہ مٹی کی وجہ سے ہو جیسے آستین یا دامن کو اٹھانے والا ۔

    علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی علیہ اس کے تحت لکھتے ہیں :ای كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أوذيله واشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما افادہ فی شرح المنية" یعنی جیسے کوئی نماز میں اس حالت میں داخل ہو کہ وہ اپنی آستین یا دامن کو سمٹے ہوئے ہو۔ اور مصنف نے اس سے بات کی طرف اشارہ کیا کہ کراہت کفِ ثوب کے ساتھ صرف نماز کی حالت میں خاص نہیں جیسا کہ صاحب شرح منیہ نے شرح منیہ میں اسے ثابت کیا ۔"(رد المحتار علی الدر المختار جلد 2 صفحه 406 مطبوعہ دارالکتب العلمیة بیروت)

    اب اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں :

    1:۔کفِ ثوب کی تعریف

    2:۔آستین کو فولڈ کرنا

    3:۔آستین میں کفِ ثوب کی مقدار میں ائمہ احناف کی آراء

    4:۔آراء کے مابین تطبیقات

    5:۔شلوار کو نیفے سے فولڈ کرنا

    6:۔پائینچے فولڈکرنا

    کفِ ثوب کی تعریف:

    کف ثوب کے سلسلہ میں ہمارے فقہائے کرام نے کف الثوب ، تمشیر الکم یا تشمیر الذیل جیسے الفاظ استعمال فرمائیں جن کا اردو میں معنی ہے کپڑا اڑسنا،موڑنا،فولڈ کرنا ۔

    تاج العروس میں ہے:والكُفَّةُ من الثَّوْبِ: طُرَّتُه العُلْيا التِي لَا هُدْبَ فِيها وَقد {كفَّ الثَّوْبَ} يَكُفُّه {كَفّاً: تَرَكَه بِلَا هُدْب. یعنی کپڑے کے اوپر والا حصہ جس میں لٹکن نہ ہو ۔اور کف الثوب و یکفہ کا معنی یہ ہے کہ اس نے کپڑے کو لٹکائے بغیر چھوڑ دیا۔( تاج العروس جلد24 صفحہ: 324)

    نماز فولڈ شدہ کپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔اس حالت میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ واجب ہے ۔ کپڑا فولڈ کرنا نماز کے لیے ہو یا نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہو ،نماز سے پہلے ہو یا دورانِ نماز ہو بلکہ دورانِ نماز ایسا کیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی کہ یہ عمل کثیر ہے جس کی وضاحت آگے آئے گی۔

    عن ابن عباس رضي اللہ عنہما، عن النبي صلی الله علیہ وسلم قال: أمرت أن اسجد علی سبعة، لا أکف شعراً، ولا ثوباً۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضا پر سجدہ کروں، اور نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ کپڑوں کو۔(بخاری، کتاب الصلاة، باب لا یکف ثوبہ فی الصلاة،رقم الحدیث: 816)

    علامہ محمد بن ابراہیم حلبی علیہ الرحمہ لکھتےہیں:‘‘يكره أن يكف ثوبه وهو في الصلاة أو يدخل فيها وهو مكفوف كما إذا دخل وهو مشمر الكم أو الذيل۔ترجمہ:حالتِ نماز میں نمازی کو کپڑا لپیٹنا مکروہ ہے، یونہی اگر وہ نماز شروع ہی اِس انداز میں کرے کہ اُس نے کپڑا فولڈ کیا ہوا ہو، جیسا کہ جب کوئی یوں نماز شروع کرے کہ اُس کی آستین یا دامن چڑھا ہوا ہو۔(غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، فصل فیما یکرہ فعلہ فی الصلاۃ، صفحہ 348، مطبوعہ لاھور)

    در مختار میں ہے:‘‘کرہ کفہ’’ ترجمہ: کپڑے کو لپیٹنا مکروہِ (تحریمی) ہے۔(درمختار مع ردالمحتار ، جلد2، باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها، صفحہ490، مطبوعہ کوئٹہ)

    علامہ سید ابنِ عابدین شامی علیہ الرحمہ اس کے تحت لکھتے ہیں:حرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية۔ترجمہ: علامہ خیر الدین رملی نے جو تحریر کیا ہےوہ اِس فعل کے مکروہِ تحریمی ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار ، جلد2، باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها، صفحہ490، مطبوعہ کوئٹہ)

    تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ”(وکف ثوبہ) لأنہ نوع تجبرٍ․ترجمہ:اور نماز کے مکروہات میں سے کپڑے کا سمیٹنا ہے، کیوں کہ یہ تکبر کی ایک قسم ہے۔ (تبیین الحقائق ،باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا،جلد:1،صفحہ: 164)

    درمختار میں ہے: کل صلوة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها۔ترجمہ:جو نماز کو بت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کو اعادہ کرنا واجب ہے۔(الدر المختار جلد 01،صفحہ 457دار الفکر بیروت)

    زید کے اشکالات کا جواب

    اعتراض :زید نے کہا کہ بخاری میں (لا يکف ثوبہ فی الصلاۃ ) کے الفاظ ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا صرف نماز کی حالت میں مکروہ ہے ۔

    جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ الفاظ (لا يکف ثوبہ فی الصلاۃ ) امام بخاری علیہ الرحمہ کے "ترجمۃ الباب " کے ہیں حدیث کے نہیں اس لیے کہ بعینہ ان الفاظ پر مشتمل کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گزری زید کے مطالعہ میں ہو تو پیش فرمائیں ۔

    امام بخاری علیہ الرحمہ نے اس باب کے تحت جو حدیث پیش کی وہ یہ ہے :عن ابن عباس رضي اللہ عنہما، عن النبي صلی الله علیہ وسلم قال: أمرت أن اسجد علی سبعة، لا أکف شعراً، ولا ثوباً۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضا پر سجدہ کروں، اور نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ کپڑوں کو۔(بخاری، کتاب الصلاة، باب لا یکف ثوبہ فی الصلاة،رقم الحدیث: 816)

    بخاری شریف کے علاوہ دیگر کتبِ احادیث (مسلم ،ابن ماجہ ،مسند احمد ،مصنف عبد الرزاق ،صحیح ابن حبان وغیرھا)میں جہاں جہاں یہ روایت آئی ہے ہم نے کہیں بھی "فی الصلاۃ " کی قید نہیں دیکھی ۔

    صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امرت ان اسجد على سبعة اعظم وان لا اکف تو با ولا شعرا یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور یہ کہ کپڑوں اور بالوں کو نہ اٹھاؤں۔“(مسلم جلد 1 صفحہ 193 مطبوعه قدیمی کتب خانہ کراچی )

    امام بخاری کا ترجمۃ الباب میں فی الصلاۃ کی قیدلگانے کا مفاد اورایک وہم کا ازالہ :

    دوسری بات :امام بخاری علیہ الرحمہ کا "فی الصلاۃ" کی قید لگانا مذکورہ وھم کے ازالہ کے پیشِ نظر تھا کہ کفِ ثوب کی ممانعت داخلِ نماز میں ہے خارجِ نمازمیں نہیں اس لیے کہ عام حالات میں آستین چڑھانا مکروہ نہیں الا یہ کہ ایسا کرنا تکبر کے پیش نظر ہو ۔سو وہ مراد نہیں جو زید نےسمجھی۔اگر بالفرض امام بخاری کی مراد وہی ہو جو سائل نے سمجھی تب بھی حنفی مقلد کو اس کا فائدہ نہیں ہو گا اس لیے کہ امام بخاری علیہ الرحمہ کا حدیث سے ایسا فقہی استدلال کرنا جو ائمہ احناف کے استدلال کے مخالف ہو اصلاً قابلِ اعتناء نہیں بلکہ حنفی مقلد پر تو اپنے مذہب کی اتباع لازم ہے ۔

    حدیث کی شرح

    شارح بخاری علامہ نووی علیہ رحمہ اللہ القوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: " مذهب الجمهور: ان النهي مطلقا لمن صلی کذلك سواء تعمده للصلاة ام كان قبلها كذلك لا لها بل لمعنى آخر وقال الداودي : يختص النبي بمن فعل ذلك للصلاة والمختار الصحيح هو الأول وهو ظاهر المنقول عن الصحابة وغيرهم ۔ترجمہ: جمهور كا مذہب یہ ہے کہ نمازی کے لیے یہ ممانعت مطلق ہے ۔اس نے یہ فعل قصدا نماز کے لیے کیا ہو یا نماز سے پہلے کیا ہوا گرچہ ایسا کسی اور کام کے لیئے ہی کیا ہو۔ اور داوری نے کہا کہ یہ ممانعت نماز پڑ ھنے والے کے ساتھ خاص ہے۔ اور مختار اور صحیح وہ پہلا مذہب ہے اور یہی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے علاوہ سے جو منقول ہے اس سے ظاہر ہے۔ (شرح مسلم للنووى جلد 3 صفحہ 1712 مطبوعہ بیروت)

    شارح بخاری علامہ عینی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :واتفق الجمهور من العلماء أن النهي لكل من صلى كذلك سواء تعمده للصلاة، أو كان كذلك قبلها لمعنى آخر. قال مالك - رَحِمَهُ اللَّهُ -: النهي لمن يفعل ذلك [في] الصلاة، والصحيح الأول لإطلاق الحديث ۔ترجمہ:جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ ممانعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس طرح نماز پڑھے خواہ وہ جان بوجھ کر نماز کے لیے کرے یا نماز سے پہلے کسی اور مقصد کے لیے ایسا کیا ہو ۔ امام مالک فرماتے ہیں نہی اس کے لیے جو نماز میں ایسا کرے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حدیث مطلق ہے۔(البناية شرح الهداية ،جلد 2 صفحہ 444)

    معلوم ہوا کہ یہ نہی مطلق ہےجو کہ اپنے ضابطہ "المطلق یجری علی اطلاقہ " پر رہے گی ، جمہور فقہائے کرام اسی پر ہیں لہذا نماز شروع کرنے سے پہلے کف ثوب کرنا اور اسی حالت میں نماز پڑھنا،اس کو جو مکروہ نہیں سمجھتا وہ حدیث میں تقیید و تخصیص کر رہا ہے جوکہ جائز نہیں ۔اور زید نے جس صورت کو مکروہ قرار دیا وہ تو مکروہ ہونے کےساتھ ساتھ عملِ کثیر کی بھی صورت بنتی ہے اس لیے کہ وہ عمل جو عرف و عادت میں دو ہاتھ سے کیا جاتا ہو نمازی اگرچہ اسے ایک ہاتھ سے کرے اس سے نماز فاسد ہو جائے گی کیوں یہ عملِ کثیر ہے جیسے نماز میں عمامہ باندھنا ،یا شلوار اوپر سے فولڈ کرنا چناچہ علامہ طحطاوی لکھتے ہیں :ثم الكراهة إذا فعله قبل الصلاة وصلى به على تلك الهيئة مطلقا سواء تعمده للصلاة أم لا وأما لو فعل شيئا من ذلك وهو في الصلاة تفسد صلاته لأنه عمل كثير بالإجماع۔ترجمہ:پھر کراہت اس وقت ہے جب نمازی کفِ ثوب نماز سے پہلے کرے پھر اسی حالت میں نماز پڑھے خواہ ایسا اس نے نماز کی نیت سے کیا ہو یا کسی اور نیت سے۔ بہر حال اگرا س نے یہ فعل نماز کی حالت میں کیا ہو تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی کیوں کہ یہ بالاجماع عمل کثیر ہے۔ ( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح جلد 1 صفحہ 350)

    جو مؤقف زید نے اختیار کیا اس کی تردید فقہائے کرام نے پہلے سے فرما دی ہے چناچہ علامہ علاء الدین حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: " كُرِهَ (كَفُّهُ) أَيْ رَفْعُهُ وَلَوْ لِتُرَابٍ كَمُشَمِّرِ كُمٍّ أَوْ ذَيْلٍ.ترجمہ:یعنی کپڑے کو اٹھانا مکروہ ہے اگر چہ مٹی کی وجہ سے ہو جیسے آستین یا دامن کو اٹھانے والا ۔

    علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی علیہ اس کے تحت لکھتے ہیں :ای كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أوذيله واشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما افادہ فی شرح المنية" یعنی جیسے کوئی نماز میں اس حالت میں داخل ہو کہ وہ اپنی آستین یا دامن کو سمٹے ہوئے ہو۔ اور مصنف نے اس سے بات کی طرف اشارہ کیا کہ کراہت کفِ ثوب کے ساتھ صرف نماز کی حالت میں خاص نہیں جیسا کہ صاحب شرح منیہ نے شرح منیہ میں اسے ثابت کیا ۔"(رد المحتار علی الدر المختار جلد 2 صفحه 406 مطبوعہ دارالکتب العلمیة بیروت)

    شلوار فولڈ کرنے والے مسئلہ میں مزید اشکالات کا جائزہ :

    اشکال:

    کفِ ثوب کا اطلاق آستین اور دامن کو فولڈ کرنے پر ہوتا ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر نے مبحوثہ حدیث کی شرح میں فتح القدیر میں لکھا: ”والحکمة في ذلک أنہ إذا رفع ثوبہ وشعرہ عن مباشرة الأرض أشبہ المتکبر․ترجمہ: اور حکمت اس میں یہ ہے کہ جب وہ اپنے کپڑے اور بالوں کو مٹی لگنے کے ڈر سے اٹھائے گا، تو اس میں متکبرین کے ساتھ مشابہت پیدا ہوگی۔(فتح الباری، کتاب الصلوة، باب السجود علی سبعة اعظم جلد 02صفحہ377)

    خلیلِ ملت ، مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں :’’شلوار کو اوپر اُڑس لینا یا اس کے پائنچہ کو نیچے سے لوٹ لینا، یہ دونوں صورتیں کفِ ثوب یعنی کپڑا سمیٹنے میں داخِل ہیں اور کف ثوب یعنی کپڑا سمیٹنا مکروہ اور نماز اِس حالت میں ادا کرنا، مکروہِ تحریمی واجب الاعادہ کہ دہرانا واجب، جبکہ اِسی حالت میں پڑھ لی ہو اور اصل اِس باب میں کپڑے کا خلافِ معتاد استعمال ہے، یعنی اس کپڑے کے استعمال کا جو طریقہ ہے ، اس کے برخلاف اُس کا استعمال۔جیسا کہ عالمگیری میں ہے۔(فتاوی خلیلیہ،جلد1،صفحہ246، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

    اس حدیث میں ایک لفظ آیا ہے ”مشمراً“ جو ”تشمیر“ سے بنا ہے اور تشمیرالثوب کے معنی لغت میں ہیں: آستین چڑھانا، پائینچے موڑنا، پاجامہ ٹخنوں سے اوپر کرنا۔(القاموس الوحید 1/886، مادہ: ش م ر)نیز علامہ ابن حجر نے اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں: ”رفع اسفل الثوب“ یعنی کپڑے کے سب سے نچلے حصے کو اٹھانا۔ (فتح الباری2/315)

    جس کی ایک شکل پینٹ یا پائجامے کے پائینچے موڑنا بھی ہے۔

    پائینچے موڑنا ”کف ثوب“ کی حدیث کے تحت داخل نہیں

    اسی لیے علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ احادیث میں ”کف ثوب“ کی جو ممانعت آئی ہے ،وہ ”ازار“ وغیرہ کے علاوہ میں ہے:ویوخذ منہ أن النہي عن کف الثیاب في الصلاة محلہ في غیر ذیل الإزار․․․(فتح الباری2/316)اس حدیث سے یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ نماز میں ”کف ثوب“ کی ممانعت ”ازار“ کے نچلے حصے کے علاوہ میں ہے۔

    دوسری دلیل کا جائزہ…حدیث کی اس بھر پور توضیح وتشریح سے یہ مسئلہ بالکل صاف ہوگیا کہ فقہ کی کتابوں میں جس ”کف ثوب“ کو مکروہات صلوٰة میں شمار کیا گیا ہے، وہاں بھی ”کف ثوب “ یعنی کپڑے سمیٹنے سے مراد”ازار“ کے علاوہ دیگر کپڑے ہیں اور پینٹ یا پائجامہ وغیرہ کا موڑنا اس میں داخل نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فقہ کی عام کتابوں میں ”کف ثوب“ کی مثال میں آستین اور قمیص کے دامن کا تذکرہ ملتا ہے، کہیں ازار یا پائجامے کا ذکر نہیں ملتا۔

    کنز الدقائق کی شرح تبیین الحقائق میں لکھا ہے: ”(وکف ثوبہ) لأنہ نوع تجبرٍ․“اور نماز کے مکروہات میں کپڑے کا سمیٹنا ہے، کیوں کہ یہ تکبر کی ایک قسم ہے۔ (تبیین الحقائق 1/164، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12جمادی الاخری 1444 ھ/26سمبر2023 ھ