سوال
میرا بیوی سے جھگڑا ہوا تو وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی ،اگلے دن میں اسے لینے گیا تو وہاں سسرالیوں سے جھگڑا ہو گیا ۔ جس کے دوران میں نے بیوی کو دو بار طلاق د ے دی۔جس کے الفاظ یہ تھے :میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔دوسری بار جب میں نے طلاق دینا چاہا تو سسر نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا یہاں تک کہ میں نے ہاتھ چھڑا کر دوبارا وہی الفاظ بولے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔اور تیسری بار بولا: بس ہو گئی تین ۔
برائے کرم اس کا حل بتائیں ہمارا دو سال کا بیٹا ہے!
سائل: محمد عتیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شوہر کے اس جملہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " جو دو بار بولا گیا ، اس سے دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں ۔اور تیسرے جملے" بس ہو گئی تین"سے تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ۔وہ عورت آپ پر تین طلاقوں کے ساتھ حرام ہو چکی ہے جس سے بغیر تحلیل شرعی کے رجوع نہیں ہو سکتا۔
تفصیل درج ذیل ہے :
آخر الذکر جملہ دو معنی کا احتمال رکھتا ہے:
1:۔سابقہ دو جملوں میں تعدادِ طلاق کی نیت کے اظہار کے طور پر بولا گیا۔ یا پھر
2:۔ انشائے طلاق کے لیے بولا گیا ۔
اگر یہ جملہ( بس ہو گئی تین) سابقہ دو جملوں (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں )میں تعدادِ طلاق کی نیت کے اظہار کے طور پر بولا گیا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔اس لیے کہ اول الذکر دونوں جملے عددِ طلاق کا احتمال نہیں رکھتے کہ فعل یا صیغہِ صفت سے دی گئی طلاق میں دو یا تین کی نیت درست نہیں ہوتی برخلاف مصدر کے ،مصدر میں عدد کی نیت معتبر ہوتی ہے ۔لیکن سائل کے بیان کے مطابق اس جملہ سےاس کی ایسی کوئی نیت تھی بلکہ یہ جملہ انشائے طلاق کے طور پر بولا گیا ۔اور چونکہ قائل کے سابقہ کلام کی نفی کر دینے کے بعد یہ جملہ انشائے طلاق کے لیے متعین ہو گیا ہے لہذا اس جملہ سے تیسری طلاق واقع ہوچکی ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایقاعِ طلاق ، اور اضافت دونوں معنوی لحاظ سے موجود ہیں۔
المختار للفتوی میں ہے:انت طالق و مطلقۃ و طلقتک تقع بہ طلقۃ واحدۃ ولا تصح فیہ الثنتین والثلاث ۔یعنی اگر شوہر نے کہا : تو طلاق والی ہے یا تو مطلقہ ہے یا میں نے تجھے طلاق دی توان جملوں میں سے ہر ایک سے ایک طلاق واقع ہو گی اور شوہر کا کسی جملہ سے دو یا تین طلاقوں کی نیت کرنا درست نہیں ہو گا۔(الاختیار لتعلیل المختار،فصل فی صریح الطلاق جلد 02 صفحہ 418،دار الفیحاء)
فعل یاصفت کے صیغہ سے دو یا تین طلاقوں کی نیت درست کیوں نہیں اس متن کی شرح میں مصنف عبد اللہ بن محمود موصلی المتوفی 683ھ فرماتے ہیں: لانۃ نعت فرد یقال للواحدۃ:طالق وللثنتین طالقتان،وللثلاث :طوالق ونعت الفرد لایحتمل العدد لانہ ضدہ۔کیوں کہ (طالق یا مطلقہ یہ )مفرد کی صفت ہے یعنی ایک کے لیے طالق دو کے لیے طالقتان اور تین کے لیے طوالق بولا جاتا ہے اور فرد کی صفت عدد کا احتمال نہیں رکھتی کیوں کہ فرد تو عدد کی ضد ہے ۔ (الاختیار لتعلیل المختار،فصل فی صریح الطلاق جلد 02 صفحہ 418،دار الفیحاء)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : لفظ صریح مثلاً( ۱ )میں نے تجھے طلاق دی،( ۲) تجھے طلاق ہے، (۳) تو مطلقہ ہے، (۴) تو طالق ہے، (۵) میں تجھے طلاق دیتا ہوں، (۶) اے مطلقہ۔ ان سب الفاظ کا حکم یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگرچہ کچھ نیت نہ کی ہو یا بائن کی نیت کی یا ایک سے زیادہ کی نیت ہو یا کہے میں نہیں جانتا تھا کہ طلاق کیا چیز ہے مگر اس صورت میں کہ وہ طلاق کو نہ جانتا تھا دیا نتہً واقع نہ ہوگی۔(بہار شریعت ،حصہ 08،صفحہ116مکتبۃ المدینہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14محرم الحرام 1444 ھ/01ستمبر2023 ھ