سودی بینک کے لئے سافٹ ویئر بنانا
    تاریخ: 19 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 36
    حوالہ: 15

    سوال

    Mein aik software engineer hun or aik bank ky liye kam kar raha hun. Hamara kam bank ki branches mein hone waly software banana hai. Mein bank ka direct employee nahi hun matlb mein aik company ky through bank mein kam kar raha hun or mujhy salary wohi company deti hai. Kya merr liye yeh nokri karna jaiz hai ? Hamara sood (interest)se koi talluq nahi hai or na hum iski lain dain ya agreement ka kam karty hain. Hum Sirf bank branches mein use hone wala software banana hain. Any waly wqt mein bank mujhy apna employee bhi bana sakta hai direct beghair kisi company ky. Mujhy dono conditions ka jawab dijiye. JazakAllah. میں ایک سافٹ ویئر انجینئر ہوں اور ایک بینک کے لیے کام کر رہا ہوں۔ ہمارا کام بینک کی شاخوں میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر بنانا ہے۔ میں بینک کا براہِ راست ملازم نہیں ہوں، بلکہ ایک کمپنی کے ذریعے بینک میں کام کر رہا ہوں، اور مجھے تنخواہ بھی وہی کمپنی دیتی ہے۔ کیا میرے لیے یہ نوکری کرنا جائز ہے؟ ہمارا سود (Interest) سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہم اس کی لین دین یا معاہدوں کا کام کرتے ہیں۔ ہم صرف بینک کی شاخوں میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر تیار کرتے ہیں۔ آنے والے وقت میں ممکن ہے کہ بینک مجھے براہِ راست اپنا ملازم بھی بنا لے (کسی کمپنی کے بغیر)۔مجھے دونوں صورتوں کا حکم بتائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ کا ایسی نوکری کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کہ سودی معاملہ میں مدد کی نیت نہ کریں۔ اسی طرح براہ راست بینک میں بھی سافٹ وئیر انجینئر کی نوکری جائز ہے، بشرطیکہ کہ سودی معاملہ میں مدد کی نیت نہ کریں۔ جب تک کوئی عمل معصیت(گناہ) کیلئے متعین نہ ہو، اس میں اجارہ جائز رہتا ہے۔ اس اصول کے تحت، وہ ملازمتیں جن کا کام عمومی مباح و جائز خدمات فراہم کرنا ہے اور جن کی معاونت حرام امور کیلئے ضروری نہیں، جائز ہیں، مثلاً سودی بینک کے سیکیورٹی گارڈ یا ڈرائیوریا چپڑاسی۔ ان کا عمل براہ راست سودی معاملہ میں معاونت نہیں کرتا کہ ان کا اجارہ تو مباح کاموں (عمارت کی حفاظت، صفائی وغیرہ) پر ہے، لہٰذا اگرچہ یہ افراد سودی بینک کے ملازمین ہیں، ان کیلئے معصیت متعین نہیں۔ پوچھی گئی صورت (سافٹ ویئر انجینئر کی نوکری، چاہے کمپنی کے ذریعے ہو یا براہ راست سودی بینک میں) کا حکم بھی اسی اصول کے تحت آتا ہے۔ سافٹ ویئر انجینئر کا اجارہ سود جیسے ناجائز کام پر نہیں ہوا، بلکہ مباح عمل (یعنی سافٹ ویئر کا استعمال وغیرہا)پر ہوا ،اور اس کا کام براہ راست سودی معاملہ میں معاون بھی نہیں،کہ سودی بینک میں صرف سودی ٹرانزیکشن ہی نہیں ہوتیں، بلکہ وہاں کرنٹ اکاؤنٹس اور دیگر مباح خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ چونکہ سافٹ ویئر کا استعمال خاص سودی معاملات کیلئے متعین نہیں ، اس لیے یہ ملازمت جائز ہے، بشرطیکہ سافٹ ویئر انجینئر سودی اکاؤنٹ اور سودی کاموں میں مدد کی نیت نہ کرے اور اپنے کام کو بینک کی مباح خدمات میں معاونت کیلئے مخصوص سمجھے، اگرچہ یہ ملازمت براہ راست کنوینشل بینک کی ہو۔ رہے اسلامی بینک، تو ان میں جس شعبہ میں چاہے کام کیا جائے، اس کی اجرت بلا شبہ حلال ہے۔ دلائل و جزئیات: علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَ) جَازَ (إجَارَةُ بَيْتٍ بِسَوَادِ الْكُوفَةِ) أَيْ قُرَاهَا (لَا بِغَيْرِهَا عَلَى الْأَصَحِّ) وَأَمَّا الْأَمْصَارُ وَقُرَى غَيْرِ الْكُوفَةِ فَلَا يُمَكَّنُونَ لِظُهُورِ شِعَارِ الْإِسْلَامِ فِيهَا وَخُصَّ سَوَادُ الْكُوفَةِ، لِأَنَّ غَالِبَ أَهْلِهَا أَهْلُ الذِّمَّةِ (لِيُتَّخَذَ بَيْتَ نَارٍ أَوْ كَنِيسَةً أَوْ بِيعَةً أَوْ يُبَاعَ فِيهِ الْخَمْرُ) وَقَالَا لَا يَنْبَغِي ذَلِكَ لِأَنَّهُ إعَانَةٌ عَلَى الْمَعْصِيَةِ وَبِهِ قَالَتْ الثَّلَاثَةُ زَيْلَعِيٌّ".ترجمہ: اصح قول کے مطابق کوفہ کے گاؤں میں نہ کہ کہیں اور گھر اجرت پر دینا جائز ہے۔البتہ شہر اور دیگر گاؤں میں کفار کو یہ قدرت نہیں دی جائے گی کہ وہاں شعار اسلام غالب آچکے ہیں اور کوفہ کے گاؤں کو خاص کیا کیونکہ اس کے اکثر رہائشی ذمّی ہیں، تا کہ وہ اس گھر کو آتشکدہ بنائے یا کنیسہ بنائے یا گرجہ گھر بنائے یا اس میں شراب بیچے۔ صاحبین رحمہما اللہ نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں کیونکہ یہ گناہ پر مدد دینا ہے اور یہی تینوں آئمہ نے کہا،زیلعی۔(الدر المختار ، 6/392،دار الفكر) جائز کام کی اجرت کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”بہرحال نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مقابل نہ ہو ، حرام نہیں ، یہی معنی ہیں اس قولِ حنفیہ کے کہ:"یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا" یعنی اجرت طیب ہوگی، اگرچہ سبب حرام ہے ، جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے‘‘۔( فتاوی رضویہ،19/501، رضا فاؤنڈیشن لاہور) امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ملازمت دو قسم ہے: ایک وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے، جیسے یہ ملازمت جس میں سودکالین دین، اس کا لکھنا پڑھنا، تقاضا کرنا اس کے ذمہ ہو، ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگر چہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے، وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے، اور مال حرام ہے، تو حرام درحرام۔ دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہٖ امر جائز کی ہو مگر تنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتاہے، اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہے، بعینہٖ مال حرام ہے۔ نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلک ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز۔قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ۔ ہندیۃ عن الظھیریۃ یعنی امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ہم اسی کو اختیار کریں گے جب تک عین حرام چیز کا علم نہ ہو، ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے“۔(فتاوی رضویہ،19/515،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور) مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’جن لوگوں کو سود کے کاغذات لکھنا نہیں ہوتے ہیں مثلا ًدربان، پیون، اور ڈرائیور، ان کی ملازمتیں جائز ہیں ‘‘۔ (وقار الفتاوی، 3/324-326، بزم وقار الدین) حضور مفتی اعظم اسلام محمد مصطفی رضا خان علیہ الرحمۃ الرضوان سے سوال ہوا کہ اگر کوئی زمین موقوفہ کسی ہندو کو کرایہ پر دی گئی ہو وہ اس میں ناجائز افعال کرے مثلاً تھیٹرز و سنیما وغیرہ تو ایسی حالت میں اس زمین کا کرایہ لینا حرام ہے یا اجارہ صحیح ہے اور کرایہ حلال اور جائز ہے ؟ تو آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :’’بیان سائل سے معلوم ہوا کہ جب ہندو کو زمین و مکان کرایہ پر دے دئے گئے اس وقت اس نے یہ نہ کہا تھا کہ وہ اس میں تھیٹر اور سنیما بنائے گا اس لئے لیتا ہے اسے کرایہ پر لئے مکان کرایہ پر چلائے زمین میں تھیٹر اور سنیما قائم کر لیا اس صورت میں وہ زمین اسے کرایہ پر دینے والوں پر کوئی الزام نہیں نہ کرایہ پر دینا حرام ہوا نہ کرایہ لینا حرام نہ اجارہ کی صحت میں کوئی کلام، کفار وفساق فجار مکان کرایہ پر لیتے ہیں اس میں بود وباش کرتے ہیں کافر اس میں کفر کرتا ہے پوجا پاٹ کرتا ہے کلمات کفر بکتا ہے فساق وفجار شراب پیتے ہیں بناتے ہیں بیچتے ہیں زنا وغنا ہوتا ہے اس سبب کا وبال ان پر ہے مکان والے پر اس کا الزام نہیں ہوگا کہ اس نے مکان اس لئے نہیں دیا ہے کہ کافر اس میں کفر کرے اور فاسق وفاجر اس میں فسق وفجور‘‘۔( فتاوی مصطفویہ، کتاب الاجارہ :469) صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) سے فوٹوگرافر کو دکان کرائے پر دینے سے متعلق سوال ہواتو آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:’’ اس شخص کو دکان کرایہ پر دی جاسکتی ہے مگر یہ کہہ کر نہ دیں کہ اس میں تصویر کھینچے ، اب یہ اس کا فعل ہے کہ تصویر بناتا ہے اور عذاب آخرت مول لیتا ہے۔ پھر بھی بہتر یہ ہے کہ مسجد کے آس پاس خصوصا دکان مسجد کو محرمات سے پاک رکھیں اور ایسے کو کرایہ پر دیں جو جائز پیشہ کرتا ہو‘‘۔(فتاوی امجدیہ ، 3 / 272،مکتبہ رضویہ)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب الجواب صحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا تاریخ اجراء:26 ربیع الآخر 1447ھ/20 أكتوبر 2025ء