بینک سے فریش نوٹ لینے کا حکم
    تاریخ: 17 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 132
    حوالہ: 14

    سوال

    میں نے ٹی وی پر ایک مولانا مفتی صاحب کو سنا جو مسائل بیان کررہے تھے انہوں نے کہا کہ عید کے مواقع پر فریش نوٹ لیتے ہیں مثلا 1000 کی دستی لیتے ہیں تو بینک والے 1100 یا 1200 روپے لیتے ہیں یہ جائز ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ ہم بینک سے جو لون لیتے ہیں مثلا ایک لاکھ روپے لیں تو واپس ایک لاکھ بارہ یا ایک لاکھ تیرہ ہزار روپے کرنے ہوتے ہیں ۔ تو اسکو علماء سود کہتے ہیں ۔ جبکہ بینک سے فریش نوٹ لینے پر اضافی رقم کو سود نہیں کہتے، میری کنفیوژن دور کردیں ۔ میرا تعلق فقہ حنفی سے ہے مجھے اپنے مسلک کے علماء کا فتویٰ درکار ہے ۔جزاک اللہ سائل: شفیق خان : کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے پہلے چند باتیں جان لیں۔ 1:۔ سود کی تعریف یہ ہے کہ وہ زیادتی جو بلا عوض ہو سود ہے ، چناچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:هُوَ لُغَةً: مُطْلَقُ الزِّيَادَةِ وَشَرْعًا (فَضْلٌ خَالٍ عَنْ عِوَضٍ مَشْرُوطٍ) ذَلِكَ الْفَضْلُ (لِأَحَدِ الْمُتَعَاقِدَيْنِ) أَيْ بَائِعٍ أَوْ مُشْتَرٍ (فِي الْمُعَاوَضَةِ)ترجمہ:ربا لغت میں مطلقا زیادتی کو کہتے ہیں اور شریعت میں اس زیادتی کو کہتے ہیں جو بلا عوض ہو، اور یہ زیادتی متعاقدین یعنی بائع اور مشتری میں سے کسی ایک کے لیے عقد میں ہی مشروط ہو۔( تنویر الابصار مع الدر المختار جلد5ص168) 2:۔ ہم احناف کے نزدیک سود کے حرام ہونے کی علت قدر مع الجنس ہے ، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے :وَعِلَّتُهُ الْقَدْرُ وَالْجِنْسُ) يَعْنِي بِالْقَدْرِ الْكَيْلَ فِي الْمَكِيلِ وَالْوَزْنَ فِي الْمَوْزُونِ ترجمہ: اور اسکی علت (حرمت) قدر مع الجنس ہے یعنی مکیلی چیزوں میں کیل اور موزونی چیزوں میں وزن۔ ( تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد 4 ص 85) قدر سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ وزن سے بکتی ہوں تو ان اشیاء کا وزن اور اگر وہ ناپ کرکے بکتی ہوں تو ان اشیاء کا ناپ اور جنس سے مراد یہ ہے کہ خریدی اور بیچی جانے والی چیز ایک جیسی ہی ہو جیسے گندم کے بدلے گندم۔ 3:۔ ان کے حلال اور حرام ہونے کا قاعدہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ان الفاظ کیساتھ مذکور ہے:فَإِنْ وُجِدَا حَرُمَ الْفَضْلُ) أَيْ الزِّيَادَةُ (وَالنَّسَاءُ) (وَإِنْ عَدِ مَا) بِكَسْرِ الدَّالِ (حَلَّا) كَهَرَوِيٍّ بِمَرْوِيَّيْنِ لِعَدَمِ الْعِلَّةِ فَبَقِيَ عَلَى أَصْلِ الْإِبَاحَةِ (وَإِنْ وُجِدَ أَحَدُهُمَا) أَيْ الْقَدْرُ وَحْدَهُ أَوْ الْجِنْسُ (حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النِّسَاءُ) ترجمہ:اور اگر یہ دونوں یعنی قدر اور جنس دونوں موجود ہوں تو کمی ،زیادتی اور ادھاد دونوں حرام ہیں، اور اگر دونوں یعنی قدر اور جنس دونوں معدوم ہوں تو دونوں یعنی کمی،زیادتی اور ادھاد حلال ہیں جیسے ایک ہروی کپڑے کو دو مردی کپڑوں کے بدلے بیچنا جائز ہے کیونکہ یہاں (حرمت کی) علت موجود نہیں ہے لہذا اصل اباحت پر باقی رہے گی۔ اور اگر ان دونوں یعنی قدر اور جنس میں سے ایک موجود ہو خواہ اکیلی قدر ہو یا اکیلی جنس ہو ، تو کمی ،زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار جلد5ص168) اسکی تفصیل سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں یوں بیان فرماتے ہیں:'' اندازہ شرعی جو دربارہ ربوٰ معتبر ہے دو قسم ہے: کیل یعنی ناپ اور وزن بمعنی تول، اور حلت وحرمت کا قاعدہ کلیہ یہاں چارصورت میں بیان ہوتا ہے : صورت اولٰی : جو دو چیزیں اندازہ میں مشترک ہیں یعنی ایک ہی قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر کی جاتی ہے مثلاً دونوں وزنی ہیں یا دونوں کیلی، اور دونوں ہیں بھی ایک جنس کے، مثلاً گیہوں گیہوں یا لوہا لوہا، تو ایسی دو چیزوں کی آپس میں بیع اسی وقت صحیح ہے جب دونوں اپنے اسی اندازہ میں جو شرعاً یا عرفاً ان کا مقرر ہے بالکل برابر ہوں اور ان میں کوئی ادھار بھی نہ ہو، اور اگر ایسی دو چیزیں ایک یا دونوں ادھار ہوں یا اپنے اس اندازہ مقرر میں برابر نہ کی گئیں ، اب خواہ سرے سے اندازہ ہی نہ کیا گیا یا اندازہ کیا مگر کمی بیشی رہی یا برابری تو کی مگر دوسری قسم کے اندازہ سے کی مثلاً جو تول کی چیز تھی اسے ناپ کے برابر کیایا جو ناپ کی تھی اسے تول کر یکساں کیا تو یہ بیع محض ناجائز اور ربوٰ قرار پائے گی۔ صورت ثانیہ: جو دو چیزیں ہم جنس تو ہیں مگر اندازہ میں مشترک نہیں خواہ دونوں طرف اندازہ معہودہ سے خارج ہیں جیسے گلبدن گلبدن، تنزیب تنزیب، گھوڑا گھوڑا کہ کیل ووزن سے ان کی تقدیر نہیں ہوتی، کپڑے گزوں سے بکتے ہیں اور گھوڑے شما ر سے، یاایک طرف فقط اندازہ ہو اور دوسری سمت خارج، جیسے تلوار لو ہے کے ساتھ یا بکری کا گوشت زندہ بکری کے ساتھ کہ ہر چند ہم جنس ہیں مگر لوہے اور گوشت کی طرف اندازہ ہے کہ تل کر بکتے ہیں اور تلوار اور بکری کی طرف اندازہ نہیں کہ شمار کی چیزیں ہیں تو ان صورتوں میں تفاضل یعنی کمی بیشی تو جائز ہے مگر ایک دونوں کا دین ہونا جائز نہیں ۔ صورت ثالثہ: جو دونوں چیزیں ایک قسم کے اندازہ میں تو شریک ہوں مثلاً دونوں کیلی ہیں یا دونوں وزنی مگر ہم جنس نہیں ، جیسے گیہوں جو کے ساتھ، یا لوہا تانبے کے ساتھ، تو یہاں بھی وہی حکم کہ تفاضل روا، اور نسیہ حرام سوا سو نے چاندی کے کہ ہر چند وزن کی چیزیں ہیں مگر بیع سلم کے طور پر انہیں نقد دے کر اشیائے موزونہ لوہاتانبا چونا ز عفران وغیرہ ادھار خریدنا بسبب حاجت کے بالاجماع جائز ہے اگرچہ ایک ہی قسم کے اندازہ میں شریک ہیں ۔ صورت رابعہ: جو دو چیزیں نہ ہم جنس ہوں نہ ایک قسم کے اندازہ میں شریک، اب خواہ دونوں اصلاً داخل اندازہ کیل و وزن نہ ہوں جیسے گھوڑا کپڑا، یا ایک داخل ہو ا یک خارج جیسے گھوڑا گیہوں ، یا دونوں داخل ہوں مگر ایک قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر نہ ہوتی بلکہ ایک کیلی ہو دوسری وزنی جیسے چاول کھجوریں ، تو ایسی صورتوں میں تفاضل ونسیہ دونوں حلال ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ جلد 17 ص 291 رضا فاؤنڈیشن لاہور) اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ کہ عید کے مواقع پربینکوں سے جو فریش نوٹ لیتے ہیں مثلا 1000 کی دستی لیتے ہیں تو بینک والے 1100 یا 1200 روپے لیتے ہیں یہ جائز ہے، یہ سود نہیں ہے۔ لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ دونوں طرف سے نقد ہوکہ ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے ،کسی بھی ایک طرف سے ادھار کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نوٹ نہ مکیلی چیز ہے نہ موزونی یعنی نوٹوں کو نہ وزن کرکے بیچا جاتا ہے اور نہ ہی ناپ کر بلکہ نوٹ ثمن اصطلاحی اور عددی چیز ہے جسکو گن کر استعمال کیا جاتا ہے ،لہذا فریقین آپس میں جس مقدار پر راضی ہوجائیں ،اس مقدار پر خرید و فروخت بصورت نقد جائز ہے جبکہ ادھار میں کمی زیادتی حرام اور سود ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ پر رقمطراز ہیں : فاقول: نعم يجوز بيعه بازيد من رقمه بانقص منه کيفما تراضيا لم علمت ان تقديرها بهذا المقادير انما حدث باصطلاح الناس وهما لاولاية للغير عليهما کما تقدم عن الهداية والفتح فلهما ان يقدرا بما شاءا من نقص وزيادۃترجمہ:(تومیں کہتا ہوں)ہاں نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضا مندی ہوجائے اس کا بیچنا جائز ہے اس لئے کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ نوٹ کا ان مقداروں سے اندازہ کرنا صرف لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے اوربائع و مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں، جیساکہ ہدایہ و فتح القدیر سے گزرا تو ان دونوں کو اختیار ہے کہ کم زیادہ جتنا چاہیں اندازہ مقرر کرلیں۔( فتاویٰ رضویہ جلد 17 ص 445) دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں : نوٹ کے سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے نہ موزون بلکہ معدود ہے تو بہزار خرابی اگر اتحاد جنس کا چاک رفو بھی ہوجائے تو اتحاد قدر کا پیوند کدھر سے آئے گا تفاضل تو اب بھی حلال رہا۔(فتاویٰ رضویہ جلد 17 ص 527) ہدایہ میں ہے :"ويجوز بيع الفلس بالفلسين بأعيانهما" عند أبي حنيفة وأبي يوسف،ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابویوسف کے نزدیک ایک متعین سکے کی بیع دو متعین سکوں کے بدلے جائز ہے۔( ہدایہ کتاب الربا جلد 3ص 63) خلا صہ یہ ہوا کہ دلائل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ عید کے مواقع پربینکوں سے جو فریش نوٹ لیتے ہیں مثلا 1000 کی دستی لیتے ہیں تو بینک والے 1100 یا 1200 روپے لیتے ہیں یہ جائز ہے، یہ سود نہیں ہے۔ لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ دونوں طرف سے نقد ہوکہ ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے ،کسی بھی ایک طرف سے ادھار کرنا جائز نہیں ہے۔اسی تفصیل سے آپ کے دوسرے سوال کا جواب بھی معلوم ہوگیا کہ بینک سے جو لون لیا جاتا ہے مثلا ایک لاکھ روپے لیں تو واپس ایک لاکھ بارہ یا ایک لاکھ تیرہ ہزار روپے کرنے ہوتے ہیں، یہ حرام ہے ، کیونکہ یہ سارا معاملہ ادھار کا ہوتا ہے اور ہم پیچھے تفصیل سے ذکر کر آئے ہیں کہ اگر ان دونوں یعنی قدر اور جنس میں سے ایک موجود ہو خواہ اکیلی قدر ہو یا اکیلی جنس ہو ، تو کمی ، زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے۔واللہ اعلم بالصواب الجـــــواب صحــــیـح ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی کتبـــــــــــــــــــــــــــہ محمد زوہیب رضا قادری 14 رجب المرجب 1441 ھ/09 مارچ 2020 ء