سوال
1: میں کراچی میں ایک تعلیمی ادارہ گزشتہ 23 سال سے چلارہا ہوں جسکی سات برانچز ہیں ۔ گزشتہ تین سال سے اسکی چار برانچز ہرسال مالی خسارہ کے ساتھ چل رہی ہیں مجموعی طور پر ان برانچز کا خسارہ 50 لاکھ سالانہ ہےاور اب تک یہ خسارہ 68 لاکھ ہوچکا ہےمیں نے اپنے ایک دوست سے 60 لاکھ روپے اس شرط پر لیے کہ تمہارے پیسے تم کو واپس مل جائینگے ۔اور ان برانچر میں جو بھی نفع ہوگا اس میں سے ہم پیسے تم کو 55 ہزار تا 60 ہزار سال میں ہرما(ہ ما سوائے ان تین ماہ کے جن میں اخراجات نکالنا مشکل ہوتا ہے )تم کو دے دیں گے ، وہ اس پر راضی ہوگئے اب ہم سال میں نو ماہ ہر ماہ 55 سے 60 ہزار دیتے رہے ہیں مجھے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس ساری صورت حال میں ہم سود کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟ واضح رہے کہ مذکورہ برانچز میں خسارہ اب ہرسال کم ہورہا ہے جو کہ 24 لاکھ تک رہ گیا ہے ، اگر خدا نخواستہ برانچ بند بھی ہوگئی تو انکو 60 لاکھ روپے واپس کرنے ہونگے۔اس ساری صورت حال میں شرعی طریقہ کیا ہونا چاہیے کیا اس کے پیسے واپس کردیں یا نقصان میں وہ بھی شامل ہو۔بیان فرمادیں۔
2:دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اب اس وقت خسارے کی حالت میں ہم کو کم و بیش 25 لاکھ کی ضرورت ہے ،ایک دوست ہمیں 30 لاکھ انویسمنٹ کررہا ہے ہم اس کے ساتھ کیا شرعی ڈیل کریں ؟
سائل: حافظ معظم / محمد قمر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: مذکورہ صورت قرض پر نفع کی ایک صورت ہے اور حدیث پاک کے مطابق جو قرض نفع دے وہ سود ہے ۔
مسند الحارث میں ہے :عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔ (مسند الحارث باب فی القرض یجر المنفعۃ جلد 1 ص500)
بدائع الصنائع میں ہے :(وَأَمَّا) الَّذِي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ: فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ جَرُّ مَنْفَعَةٍ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَجُزْ، نَحْوُ مَا إذَا أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا لَهُ فِيهِ مَنْفَعَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا» ؛ وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا؛ لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ حَقِيقَةِ الرِّبَا، وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ. ترجمہ:اور جوشرائط نفس قرض کی طرف لوٹتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ قرض ایسا ہو جس سے نفع حاصل نہ ہو تا ہو ۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ جائز نہیں ہے،مثلا جب قرض دیا اور اس میں نفع کی شرط لگادی تو یہ حرام ہے کیونکہ نبی کریم ﷺسے مروی ہے کہ آپ نے اس قرض سے منع فرمایا جو نفع دیتا ہو،کیونکہ اس زیادتی کی شرط سود کی طرح ہے اور کیونکہ یہ ایسی زیادتی ہے ، جس کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہے،اور سود اور سود کے شبہہ سے بچنا واجب ہے ۔(بدائع الصنائع جلد 7 ص 395)
سود قرآن مجید کی نص قطعی سے حرام ہے : قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ترجمہ: اﷲ نے تجارت کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔(الْبَقَرَة ، 2 : 275)
دوسری جگہ ارشادہے :یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ترجمہ: اے ایمان والو:اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔ (الْبَقَرَة ، 2 : 278)
اگر آپ انکے ساتھ معاہدہ کرنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ شرکت (Partnership) کرلیں اور اس کی بنیاد نفع و نقصان کی بنیاد پر ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ نفع کی رقم فکس نہ ہو بلکہ تناسب کے اعتبار سے فریقین کے مابین متعین ہو۔
بدائع الصنائع میں ہے:الشَّرِكَةُ فِي الْأَصْلِ نَوْعَانِ: شَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ، وَشَرِكَةُ الْعُقُودِ فَشَرِكَةُ الْعُقُودِ أَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْأَمْوَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ، وَتُسَمَّى شَرِكَةَ الْأَبْدَانِ وَشَرِكَةَ الصَّانِعِ، وَشَرِكَةٌ بِالتَّقَبُّلِ، وَشَرِكَةٌ بِالْوُجُوهِ وَأَمَّا بَيَانُ جَوَازِ هَذِهِ الْأَنْوَاعِ الثَّلَاثَةِ فَقَدْ قَالَ أَصْحَابُنَا: إنَّهَا جَائِزَةٌ، عِنَانًا كَانَتْ أَوْ مُفَاوَضَةً۔ترجمہ:شرکت کی ابتداء دو اقسام ہیں شرکت املاک ، شرکت عقود۔ پھر شرکت عقود کی تین اقسام ہیں ، شرکت اموال، شرکت اعمال(اسکو شرکۃ الصنائع اور شرکت تقبل بھی کہتے ہیں)، اورتیسری قسم شرکت وجوہ، اور شرکت کی یہ تینوں اقسام جائز ہیں خوا ہ شرکۃ مفاوضہ ہو یا شرکت عنان ہو۔( بدائع الصنائع کتاب الشرکۃ جلد5ص73)
تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے:(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ .ترجمہ:اور اسکی شرط یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان شائع ہو مثلا نصف نصف یا دو تہائی اور ایک تہائی وغیرہ اور اگر رقم کی کوئی مقدار متعین کر لی تو شرکت فاسدہوجائے گی ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب المضاربۃ جلد 5ص 648)
2:آپ انکے ساتھ بھی یہی شرکت کا معاملہ کرلیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:25 شعبان المعظم1440ھ/02 مئی 2019ء