اسلامک بینک کا نفع اور تکافل کا حکم
تاریخ: 27 اکتوبر، 2025
مشاہدات: 107
حوالہ: 35
سوال
آج کل اسلامک بینک بھی نفع دے رہا ہے اور ان اسلامک بینک کے بہت سارے پروڈکٹ ہیں جن میں فیملی کے لیے میڈکل کی سہولت بھی دی جاتی ہے اور ان پروڈکٹ میں پیسے انویسمنٹ کے طور پر کچھ وقت یعنی 2-1 سال یا کچھ مہینے کیلئے لئے جائےاور اس پر %20سے%17 تک نفع دیا جاتا ہے۔سیونگ اکاؤنٹ میں جو نفع دیا جاتا ہے اس میں نفع کیلئے وقت کا ذکر نہیں ہوتا ۔تو کیا اس طرح کے بینک جو شریعہ کمپلائن ہوں ،ان میں پیسے انویسٹ کرنا سود تو نہیں کہلاتے؟میری اس مسئلے پر رہنمائی فرمائیں۔
سائل: محمد بلال طیب۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اسلامی بینکاری ہمارے نزدیک جائز ہے اور اسکے منافع حلال ہیں سود نہیں۔اسی طرح میڈیکل کی سہولت جسے تکافل کہا جاتا ہےیہ بھی جائز ہے۔اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں شریعت مطہرہ کا پابند بنایا ہے لہذا شریعت کے اصولوں کے مطابق جو چیز جائز ہوتی اس میں عقلی تنقید بے جا ہوا کرتی ہےمثلاً شرعی اصولوں کے مطابق نکاح کی حلت اورزنا کی حرمت ثابت ہے لہذایہاں عقلی تنقید قابل مسموع نہیں کہ نکاح و زنا دونوں میں یکساں فعل پایا جاتا ہےبلکہ اصلاً دونوں جدا ہیں کہ نکاح کا جواز آیا اور زنا کی حرمت،اسی طرح کفار نے مطلقا نفع کو دیکھ کر سود اورتجارت کو یکساں قرار دیا اور قرآن مجید نے اس کا رد کیا ۔معلوم ہوا کہ حلت و حرمت کا مدار حکم شرع پر ہے عقل پر نہیں۔
اسلامک بینکوں کے منافع شرعی عقود مثلاً مضاربت،مشارکت وغیرہا امور سے حاصل ہوتے ہیں جن کا جواز شریعت میں واضح ہے جبکہ سودی بینک کے منافع قرض سے حاصل ہوتے ہیں اور شرع نے قرض پر حاصل ہونے والے منافع کو سود قرار دیا ہے۔
اسی طرح تکافل کی بنیاد باہمی امداد ،تعاون ،تناصراور محض نیکی پرہے جس کی قرآن مجید اور احادیث مقدسہ میں بڑی ترغیب وارد ہوئی ہے،جبکہ روایتی انشورنس عقد معاوضہ ہو نے کی وجہ سے سود ،قمار(جوئے)،اور غرر(دھوکے) سے مر کب ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
سود اور بیع کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے:" قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا".ترجمہ: انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔(البقرۃ:275)
قرض پر نفع سود ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے:"قال رسول الله ﷺ كلُّ قرضٍ جَرَّ مَنفعةً فَهوَ ربًا".ترجمہ: حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔( فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ،5/28،رقم الحدیث:6336،دار المعرفۃ بیروت)
قرآن مجید میں باہمی امداد کی ترغیب وارد ہوئی ہے،چنانچہ ارشاد ہوا:وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَان.ترجمہ:اور نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔(المائدۃ:2)
تکافل اور انشورنس میں فرق کو واضح کرتے ہوئے تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی مدّ ظلہ العالی لکھتے ہیں:’’تکا فل اورمروجہ انشورنس میں کئی و جوہ (پہلو) سے فرق ہے: (۱)تکافل محض عقدِ تبر ع(احسان) ہے ۔(ا قول :ا سکا مطلب یہ ہواکہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے ذکر کردہ مخصوص فلاحی کاموں کے لیے فنڈ (چندہ)ہوگی ، قرض ہر گز نہیں ہو گی اور اگر تکافل کمپنی کو ھبہ(گفٹ) کی جائے ۔ تو یہ رقم اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گی اوراب اُس رقم کی مالک تکافل کمپنی ہو گئی اور یہ شخص اس رقم کے حوالے سے کسی قسم کا دعوٰی نہیں کر سکتا اگرچہ کمپنی اس کو فائدہ دے یانہ دے ۔یہ الگ بات ہے کہ کمپنی لوگوں کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے ان کو فائدہ پہنچانا ضروری سمجھتی ہے وگرنہ ان کے فنڈ میں کوئی اپنی رقم کیوں جمع کروائے گالیکن یہ فائدہ پہنچانا اسی طرح تبرع واحسان ہوگا جس طرح اس شخص نے تکافل کمپنی کو رقم دے کراحسان کیا تھا۔اس کو یوں سمجھوکہ آج تم کسی کے کام آؤ کل کوئی تمہارے کام آئے گا) جبکہ مروجہ انشورنس عقد معاوضہ ہے (ا قول : ا سکا مطلب یہ ہوا کہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے کمپنی پرقرض ہی ہے )اور شر عاَدو نوں کے احکام بالکل الگ الگ ہیں۔
(۲)تکافل میں دی جانے والی رقم ’’وقف فنڈ‘‘کی ملکیت میں جاتی ہے کمپنی اس کی مالک نہیں ہوتی جبکہ مروجہ انشورنس میں ا س رقم کی مالک کمپنی ہوتی ہے۔
(۳)تکافل کا اصل مقصد تعاون علی البر والتقوی ہے ،کوئی کاروبار نہیں اس لئے تکافل کے کاغذات میں ایسے الفاظ سے گریز کیاجاتاہے جن سے عقد معاوضہ یا کارو بار کا تاثر ملتاہو جیسے کہ بزنس یاکنٹریکٹ کے الفاظ جبکہ انشورنس کا اصل مقصد تجارت اور کا روبار ہے ۔
(۴)تکافل میں کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہے جبکہ انشور نس میں کمپنی اصیل اور مالک ہے۔
(۵)تکافل نظام میں باقاعدہ شر عی بورڈہوتا ہے۔شریعہ بور ڈ کی نگرانی میں فنڈکو شر یعت کے مطابق جائز کا روبار میں لگایا جاتا ہے۔چنانچہ تکافل رولز ۲۰۰۵ء کی رو سے ہر کمپنی کا شریعہ بورڈ ضروری ہے ،جس میں کم سے کم تین ممبر ہوں جن کا عالمِ دین اور خریدوفروخت کے شرعی مسائل پر عبورحاصل ہونا ضروری ہے جبکہ انشو رنس میں اس طرح کی کسی قسم کی کو ئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس طرح کی کو ئی پابندی ہے۔جہاں فائدہ نظر آتا ہے وہا ں سر مایہ کاری ہوتی ہے اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کارو بار شر عا جائز اور حلال بھی ہے یا نہیں ۔(وسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
تاریخ اجراء: 26 رجب المرجب 1445 ھ/7 فروری 2024ء